MERA BAADSHAH HUSSAIN HAI
کاٸنات میں اللہ کو سب سے ذیادہ محبوب نبی پاکﷺ کی ذات با برکات ھیں۔اور اللہ کا محبوب ھوتے ھووے بھی سرکار پاکﷺ نے سب سے زیادہ تکالیف برداشت کیں۔خود بھی صبر کیا اپنے صحابہؓ کو بھی صبر کی تلقین اور اپنی آل کو بھی اپنے نقشِ قدم پہ چلنے کی نصیحت کی۔۔تو اللہ نے صبر کرنیوالوں اور صبر کی تلقین کرنے والوں کے لٸیے سورة نازل فرما دی
مفہوم
ایسے لوگ ہرگز گھاٹے میں نہیں ھیں جو ایمان لاۓ اورنیکی کریں اور سچّی بات کہیں اور صبر کی تلقین کریں۔
اسی طرح صبر کرنے اور دشمنوں کو معاف کرنے کی روایت آپﷺ کے صحابہؓ اور آل نے قاٸم رکھی
حضرت عثمان غنیؓ نے 40 دِن صبر کیا۔آپؓ کا پانی بند کیا گیا اور پھر شہید کر دیا گیا
حضرت علیؓ کو شہید کیا گیا اور آپ نے اپنے قاتل کو اسی وقت معاف فرما دیا۔
حضرت با یزید بسطامیؒ سفر پہ جا رہے تھے۔راستے میں دریا کےکنارے کچھ درویش مصلّہ بچھا کر اپنی آنکھیں بند کیے عبادت میں مصروف تھے۔آپؒ بھی انکے ساتھ مصلّہ بچھا کے بیٹھے اور عبادت میں مصروف ھو گۓ۔
کچھ دیر بعد بایزیدؒ نے دیکھا کہ پانی کی ایک بہت بڑی لہر کنارے کی طرف بڑھ رھی ھے جو یقیناََ سب کو بہا کر لے جاۓ گی۔آپ نے ان سب کی عبادت میں مخل ھونا مناسب نہ سمجھا اور جب لہر قریب آٸ تو آپ نے اپنے کشف سے اسکا رخ موڑ دیا۔
اسی اثنا میں ان درویشوں میں سے ایک نے آنکھ کھول کر ناراضگی کا اظہار کرتے ھووے پوچھا کہ
لہر کو کس نے موڑا؟
آپؒ نے کہا اگر میں ایسا نہ کرتا تو لہر سب کو بہا کے لیجاتی اور ھم سب مر جاتے
وہ درویش جلال میں آکے بولے
“اگر میرا ربّ ھم سب کو مارنے پہ راضی تھا تو تم کون ھوتے ھو اسکی رضا کے خلاف جانے والے؟”
بایزید فرماتے ھیں کہ میرے پاس اس سوال کا جواب نہ تھا
اس درویش نے کہا
تم یہاں سے چلے جاٶ۔ھماری محفل میں بیٹھنے کے لاٸق نہیں ھو۔۔
آپ چپ چاپ وھاں سے نکل پڑے اور فرمایا
کہ وہ لوگ استقامت و رضا میں مجھ سے بہتر درجے پہ فاٸز تھے۔۔
حضرت شاہ محمد غوثؒ کا حاکمِ وقت سے کسی بات پہ اختلاف ھوا تو حاکم نے آپکو شہر بدر کرنے کی سزا دی۔جو فوج کا دستہ آپؒ کو مع اھل و عیال سرحد تک چھوڑنے آیا انکی نیت میں فتور آ گیا اور قافلے کو لوٹنا شروع کر دیا۔
آپ کیساتھ آپکی نواسی گھوڑے پہ سوار تھی۔ایک فوجی نے اس بچی کے کانوں میں موجود سونے کی بالیاں زور سے کھینچی تو بچی درد سے چیخ پڑی اور کان سے خون نکل آیا۔آپؒ سے تکلیف برداشت نا ھوٸی تو آپکے ہاتھ میں ایک چھَڑی تھی جو آپ نے غصّے سے نکالی اور کہا ”لا الہ“
یہ کہنا تھا کہ سب فوجیوں کی گردنیں تن سے جدا ھو گٸیں۔اور آپ بخفاظت اپنے اھل و عیال کو لیکر وہاں سے نکل آۓ
فقرأ کا کہنا ھے کہ حضرت شاہ محمد غوثؒ نے کم ظرفی کا مظاہرہ کیا اور ایک بچی کا خون برداشت نہ کر سکا۔جبکہ امام عالی مقامؓ نے کربلا میں 72 جانیں شہید کرواٸیں لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔اگر وہاں شاہ محمدؒ اپنے جدِ امجد کی طرح ثابت قدمی دکھاتے تو یقیناََ آپ پہ کبھی فقرأ تنقید نہ کرتے اور سنہری الفاظ میں یاد کیا جاتا۔
اوپر بیان کیے واقعات کا مقصد صرف اتنا ھے کہ ھمیں معلوم ھونا چاہیے کہ جنہوں نے قربانی دی انہوں نے کیا کِیا اور آج ھم کیا کر رہے ھیں۔
ولایت میرے امام حسینؓ کے قدموں کی خاک کے عِوض ملتی ھے سب کو۔اگر شاہ محمد غوثؒ جیسے ولی ایک چھڑی کو لا کی تلوار کے طور پہ استعمال کر سکتے ھیں تو کیا لگتا ھے آپکو امام عالی مقام کے پاس نعوذباللہ یہ طاقت نہ تھی؟
بلکل موجود تھی اور اگر ہلکا سا اشارہ کرتے تو مخالف فوج کیا اس وقت کاٸنات میں موجود سب دشمنوں کی گردنیں تن سے جدا ھو جاتی۔آپؓ چاہتے تو فرات کا پانی خود چل کر آپؓ کی قدم بوسی کرتا
تیغ لا چوں از میاں بیرون کشید
از رگ ارباب باطل خون کشید
نقش الااللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات مانوشت
علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ امام حسین (ع) نے کربلا کے میدان میں لا کی تلوار چلائی اور صحرا ے کربلا میں اِلااللہ کا نقشہ کھینچ کر ہماری نجات کے لئے راہ فراہم کردی۔
واصف علی واصفؒ کا فرمان ھے کہ
ضربِ یداللہ بھی اسی کے پاس ھے جسکے پاس سجدہ شبیریؓ ھے۔۔
لیکن نہیں آپؓ نے وہی کیا جو آپؓ کے والد حضرت علیؓ نے کیا تھا ”صبر“
جو آپؓ کے پیارے نانا حضرت محمدﷺ نے کر کے دکھایا تھا
لمحہ فِکر ھے آج ھم سب کے لٸیے کہ جن کی پیروی کرتے ھیں وہ کیا کر گٸے اور ھم کیا کر رھے ھیں۔ھم خود کو انکا پیروکار اور فقیر تو کہتے ھیں کیا ان جیسا صبر کا مظاہرہ بھی کرتے ھیں؟

No comments:
Post a Comment