Chunnu Munnu the do bhai Kids Poem

Mausam Aaya Sardi Ka Kids Poem Must watch and share

NAMAZ NAMAAZ, SALAAH SALAAT SALAT

24 Oct 2018
اسلام علیکم و رحمة اللہ
سورت بقرہ2 آیت 238

حَٰفِظُوا۟ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ وَقُومُوا۟ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ
اپنی نمازوں کی حفاظت رکھو، اور درمیان والی (فجر) نماز کی۔ اور اللہ کے تابعداری کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہو جائو۔

اس آیت میں اللہ نماز کی حفاظت خصوصا فجر کی نماز کی حفاظت کا حکم دے رہا ہے۔

"حَٰفِظُوا۟"
لفظ کا مادہ "حفظ" ہے جس کا مطلب حفاظت کرنا ہے۔  حَٰفِظُوا۟ کا مطلب "حفاظت کرو" ہے۔
"حَٰفِظُوا۟"
لفظ قرآن مجید میں 1 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
سورت بقرہ 2 آیت 238

"عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ"
لفظ کا مادہ "صلو" ہے جس کا مطلب دعا یا نماز ہے۔  عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ کا مطلب "نمازوں پر" ہے۔
"ٱلصَّلَوَٰتِ"
لفظ قرآن مجید میں 1 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
سورت بقرہ 2 آیت 238

"وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ"
ٱلْوُسْطَىٰ لفظ کا مادہ "وسط" ہے جس کا مطلب درمیان ہے۔ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ کا مطلب "اور درمیان والی نماز کی" ہے۔
"ٱلْوُسْطَىٰ"
 لفظ قرآن مجید میں 1 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
سورت بقرہ 2 آیت 238

"وَقُومُوا۟"
لفظ کا مادہ "قوم" ہے جس کا مطلب کھڑے ہونا یا شامل ہونا ہے۔وَقُومُوا۟ کا مطلب "اور کھڑے ہو جائو" ہے۔
"وَقُومُوا۟"
لفظ قرآن مجید میں 1 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
سورت بقرہ 2 آیت 238

"لِلَّهِ قَٰنِتِينَ"
قَٰنِتِينَ لفظ کا مادہ "قنت" ہے جس کا مطلب تابع دار ہے۔
لِلَّهِ قَٰنِتِينَ کا مطلب "اللہ کی تابعداری کرنے والوں کے ساتھ" ہے۔
" قَٰنِتِينَ"
لفظ قرآن مجید میں 1 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
سورت بقرہ 2 آیت 238

"حَٰفِظُوا۟"
Word is derived from حفظ which means GUARD. حَٰفِظُوا۟ means GUARD STRICTLY.
"حَٰفِظُوا۟"
Word is repeated in Quran 1 time.
2/238
"عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ"
Word ٱلصَّلَوَٰتِ is derived from صلو which means PRAYER. عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ means UPON YOUR PRAYERS.
"ٱلصَّلَوَٰتِ"
Word is repeated in Quran 1 time.
2/238
"وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ"
Word ٱلْوُسْطَىٰ is derived from وسط which means MIDDLE OR CENTRAL. وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ means CENTRAL PRAYER.
"ٱلْوُسْطَىٰ"
Word is repeated in Quran 1 time.
2/238
"وَقُومُوا۟"
Word is derived from قوم which means TO STAND . وَقُومُوا۟ means AND STAND UP.
"وَقُومُوا۟"
Word is repeated in Quran 1 time.
2/238
"لِلَّهِ قَٰنِتِينَ"
Word قَٰنِتِينَ is derived from قنت which means OBEDIENT. لِلَّهِ قَٰنِتِينَ means WITH THOSE WHO ARE OBEDIENT TO ALLAH.
" قَٰنِتِينَ"
Word is repeated in Quran 1 time.
2/238
حَٰفِظُوا۟ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ وَقُومُوا۟ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ
Maintain with care the [obligatory] prayers and [in particular] the middle prayer and stand before Allah, devoutly obedient.

Guard strictly your (habit of) prayers, especially the Middle Prayer; and stand before Allah in a devout (frame of mind).

Imam Ali by Allama Iqbal


AIB AUR KHOOBIAN

عیب بھی ہیں اور خوبیاں بھی ہیں مجھ میں
ڈھونڈنے والے تو سوچ تجھے کیا چاہئے مجھ میں

AIB BHI HAIN AUR KHOOBIAN BHI HAIN MUJH MEIN
DHOONDNE WAALE TU SOCH KE TUJHE KYA CHAAHIYE MUJH SE

ALLAHUSSAMAD AS SAMAD AL SAMAD

الصمد
یہ اک ایسا اسم صفت ہے کہ ساری مخلوق، درخت، پتھر، ذی روح، بے روح غرضیکہ ہر طرح کی مخل
وق اس اسم سے فیض حاصل کرتی ہے۔
سیدنا عبد العزیز دباغ رحمہ اللہ

Ainak Waala Pathan School little cute kid part 2

Mujh pe Bhi Chashm e Karam by Naseer ud Din naseer Kalaam naat














مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضہ کرنا
میں کہ زرہ ہوں مجھے وسعتِ صحرا دےدے
کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو دریا کرنا
میں ہوں بےکس تیرا شیوہ ہے سہارہ دینا
میں ہوں بیمار تیرا کام ہے اچھا کرنا
تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے
کہ تیری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا
تیرے صدقے وہ اُسی رنگ میں خود ہی ڈوبا
جس نے جس رنگ میں چاہا مجھے رسوا کرنا
یہ تیرا کام ہے اے آمنہ کے درِ یتیم
ساری امت کی شفاعت تنِ تنہا کرنا
کثرتِ شوق سے اوصاف مدینے میں ہیں گم
نہیں کُھلتا کہ مجھے چاہیے کیا کیا کرنا
شاملِ مقصدِ تخلیق یہ پہلو بھی رہا
بزمِ عالم کو سجا کر تیرا چرچا کرنا
بصراحت ورفعنالک ذکرک میں ہے
تیری تعریف کرنا تجھے اونچا کرنا
تیرے آگے وہ ہر اک منظرِ فطرت کا ادب
چاند سورج کا وہ پہروں تجھے دیکھا کرنا
تبِ اقدس کے مطابق وہ ہواؤں کا خیرام
دھوپ میں دوڑ کے وہ ابر کا سایہ کرنا
کنکروں کا تیرے اعجاز سے وہ بول اٹھنا
وہ درختوں کا تیری دید پہ جھوما کرنا
وہ تیرا درس کہ جھکنا تو خدا کے آگے
وہ تیرا حکم کہ خالق کو ہی سجدہ کرنا
چاند کی طرح تیرے گرد وہ تاروں کا ہجوم
وہ تیرا حلقہ اصحاب میں بیٹھا کرنا
کعبہ قوسین کی منزل پہ یکایک وہ طلب
شبِ اسرا وہ بلانا تجھے دیکھا کرنا
دشمن آجائے تو اٹھ کر وہ بچھانا چادر
حسنِ اخلاق سے غیروں کو بھی اپنا کرنا
کوئی فاروق سے پوچھے کہ کسے آتا ہے
دل کی دنیا کو نظر سے تہہ وبالا کرنا
اُن صحابہ کی خشت وار نگاہوں کو سلام
جن کا مسلک تھا طوافِ رخِ زیبا کرنا
مجھ پہ محشر میں نصیر اُن کی نظر پڑھ ہی گئی
کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا
پیر و مرشد تاجدارِ گولڑہ شریف رحمتہ اللہ علیہ

QALB BY PEER E RUMI

QALB BY PEER E RUMI

HASAN O HUSSAIN KE DARMYAAN KUSHTI


' حسنین کریمین رضی اللّہ عنہُم کے درمیان کُشتی ''
ایک دن حضرت اِمام حَسن اور اِمام حُسین رضی اللّہ عنہُم کُشتی لڑنے لگے۔حضور صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حَسن رضی اللّہ عنہُ سے فرمایا:
'' اے حَسن! حُسین کو پکڑ لو۔ ''
حضرت سیّدہ فاطمہ الزہراء رضی اللّہ عنہا کہنے لگیں:
'' یارسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم! آپ بڑے کو کہتے ہیں کہ چھوٹے کو پکڑ لو۔ ''
حضور صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
'' جبرئیل ( علیہ السّلام ) بھی تو حُسین سے کہہ رہے ہیں کہ حَسن کو پکڑ لو۔ ''
حوالہ جات:-
( شواہد النبوۃ،صفحہ 304 )
( خصائصِ کبریٰ،جِلد 2،صفحہ 496 )
نام کتاب = تاریخِ کربلا
صفحہ = 207
مُصنّف = مولانا قاری محمّد امین قادری

Umm ul Mumineen Maimoona Bint e Haris


ام المؤمنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللّٰہ عنہا حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔ مکہ سے باہر مدینہ جاتے ہوئے ایک چار دیواری میں آپ کا مزار ہے پہلے اس پر گنبد ہوا کرتا تھا اور حجاج کرام مکہ جاتے ہوئے مزار کے قریب اپنا پڑاو ڈالتے تھے۔ آپ کا مزار شریف اب بر لب سڑک آگیا ہے اور ڈر ہے کہ سعودی حکمران سڑک کھلی کرنے کے بہانے اسے ختم نہ کر دیں۔ حالانکہ سڑک دور کی جا سکتی ہے جیسا کہ نقشہ سے ظاہر ہے۔
آپ 594ء میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام حارث بن حزن تھا۔ اصل نام "برہ" تھا لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام میمونہ رکھ دیا۔ ان کی ایک ماں شریک بہن ام امؤمنین زینب بنت خزیمہ ہلالیہ ہیں اور ان کی دیگر چار بہنیں اسماء بنت عمیس (زوجہ صحابیٔ رسول اور پہلے خلیفہ راشد ابوبکر صدیق)، سلمیٰ بنت عمیس (زوجہ صحابیٔ رسول اور دوسرے خلیفہ راشد عمر فاروق)، لبابہ اور عزہ تھیں۔ ان سب کی والدہ ہند بنت عوف تھیں اسی لیے انہیں عرب میں عظیم تریں دامادوں کی ساس کہا جاتا ہے۔ 5 صفرالمظفر 51 ہجری کو آپ کا وصال ہوا ۔







KHAWAJA QUTAB UD DIN BAKHTIAR KAAKI


جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ جنازہ تیار ہوا، ایک بڑے میدان میں لایا گیا۔ بے پناہ لوگ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انسانوں کا ایک سمندر تھا جو حد نگاہ تک نظر آتا تھا۔ جب جنازہ پڑھنے کا وقت آیا، ایک آدمی آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا وکیل ہوں۔ حضرت نے ایک وصیت کی تھی۔ میں اس مجمعے تک وہ وصیت پہنچانا چاہتا ہوں۔ مجمعے پر سناٹا چھاگیا۔ وکیل نے پکار کر کہا۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ وصیت کی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار خوبیاں ہوں۔
زندگی میں اس کی تکبیر اولیٰ کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔
اس کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔
اس نے غیر محرم پر کبھی بھی بری نظر نہ ڈالی ہو۔
اتنا عبادت گزار ہو کہ اس نے عصر کی سنتیں بھی کبھی نہ چھوڑی ہوں۔
جس شخص میں یہ چار خوبیاں ہوں وہ میرا جنازہ پڑھائے۔ جب یہ بات سنائی گئی تو مجمعے پر ایسا سناٹا چھایا کہ جیسے مجمعے کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ کافی دیر گزر گئی، کوئی نہ آگے بڑھا۔ آخر کار ایک شخص روتے ہوئے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے جنازے کے قریب آئے۔ جنازہ سے چادر اٹھائی اور کہا۔ حضرت! آپ خود تو فوت ہوگئے مگر میرا راز فاش کردیا۔
اس کے بعد بھرے مجمعے کے سامنے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر قسم اٹھائی کہ میرے اندر یہ چاروں خوبیاں موجود ہیں۔ یہ شخص وقت کا بادشاہ شمس الدین التمش تھے

IMam Hussain bin IMam Ali bin Abi Talib

#HAZRAT E #IMAM #HUSSAIN BIN #ALI
#Shaheed Ibne Shaheed
#imam ibne Imam
#Karbala
#ImamHussain

east and west


پوری پوری زندگی ایسٹ اور ویسٹ میں دیکھ لیجے
پوری پوری زندگی میں لوگوں نے علم کے ایک نقطے کی تحصیل میں صرف کر دی۔
مگر آج تک آپکی یاداشت میں کوی ایسا ویسٹرن فلاسفر ہے؟
جس نے قدر یہ بنای ہو؟ کہ
i am looking for GOD
and i look for GOD i try to find every where to find GOD?
BUT I COULD NOT FIND HIM.
ایک بھی ایسا ساہنس دان ایسا نہیں ھے ایک بھی فلاسفر ایسا نہیں ھے ایک بھی دانشور ایسا نہیں ھے۔
جس نے اپنی زندگی کا ایک مخصوص وقت خدا کی تلاش میں دیا ہو اور پھر آکر کہا ہو کہ دیکھو کہ میں نے 25 برس اللہ کو تلاش کیا مھجے اللہ نہیں ملا۔
I AM SORRY TO SAY THERE IS NO GOD.
ایسا ایک بھی نہیں تھا۔
اگر ایسا ہوتا تو اسکی راے کو ضرور اہمیت دی جاسکتی تھی
معلوم ہوا اسی لیے ویسٹرن اور نان مسلم کے کسی بھی دانشور،فلاسفر ساہنس دان کی خدا کے بارے میں دی ہوی راے کو اہمیت نہیں دی جاسکتی ھے۔
#نعمان

MUJADDID E ALF E SAANI


حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
اللہ تعالیٰ سے وصل اوروصال کے دو طریقے اور راستے ہیں۔ ایک نبوت کا طریقہ اور راستہ ہے اس طریق سے اصلی طور پر واصل اور موصل محض انبیاء علیہم السلام ہیں اور یہ سلسلہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ گرامی پر ختم ہوا۔ دوسرا طریقہ ولایت کا ہے اس طریق والے واسطے (وسیلہ) کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے واصل اور موصل ہوتے ہیں۔ یہ گروہ اقطاب، اوتاد، ابدال، نجباء وغیرہ اور عام اولیاء پر مشتمل ہے اور اس طریقے کا راستہ اور وسیلہ حضرت سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ کی ذاتِ گرامی ہے اور یہ منصبِ عالی آپ رضی اللہ عنہٗ کی ذاتِ گرامی سے متعلق ہے۔ اس مقام میں خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قدم مبارک حضرت امیر کرم اللہ وجہہ کے سر پر ہے اور حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم اس مقام پر سیّدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ شامل اور مشترک ہیں۔
(مکتوباتِ امام ربانی، مکتوب123بنام نور محمد تہاری)
#نعمان

DIAR E ISHQ MEIN APNA MAQAAM PAIDA KAR IQBAL

ديار عشق ميں اپنا مقام پيدا کر
نيا زمانہ ، نئے صبح و شام پيدا کر
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لالہ و گل سے کلام پيدا کر

SUKOON AUR PARESHAANI

لو جی گل ہی مُک گی
لگا لو اب زور۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔
سکون ایک حد تک باعثِ تسلی ہوتا ہے۔۔ اسکے بعد وہ بوریت کا روپ دھار لیتا ہے۔۔ 
یعنی زیادہ سکون بھی اذیت ہے اور بوریت تو ویسے بھی پریشانی کا سبب ہوتی ہے۔

سکون اور بوریت کے درمیان ایک چیز ہوتی ہے جسے "اطمینان" کہا جاتا ہے۔۔ آپ جو مرضی حربے اختیار کر لیں، یہ اللہ کی مسلسل یاد (ذکرِ دوام) کے سوا حاصل نہیں ہو سکتا۔۔ یہ ذکرِ مسلسل دراصل قلب کا فعل ہے۔۔ اسکا حصول کسی اللہ والے کی تربیت میں رہنے کے بغیر مشکل ہے۔۔ دنیا پھر لیں، آزما لیں۔۔!!🙂
۔

ALLAH KE AAJIZ BANDE


اللہ کے عاجز بندے بن کر رہو زمین پر
اس نے عزت کی چادر ہم پر ڈالی ہوی ھے اللہ کی قسم اگر وہ چادر اس نے اٹھا دی تو سب ننگے ہیں۔
غور کرو فکر کرو

SAB KO FANA HONA HAI


كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ • وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
جو مخلوق زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے - اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات جو صاحب جلال و کرم ہے باقی رہے گی۔
سورة رحمٰن

ALLAH TAALA JAB ZAMEEN PAR TAJALLI FARMATA HAI TO


اللہ تعالی جب زمین پر تجلی فرماتا ہے تو اس وقت زلزلہ نازل ہوتا ہے۔پہاڑوں کی پیدائش سے پہلے یہ تجلی کثرت سے زمین پر نازل ہوتی تھی۔اور زمین اکثر زلزلوں کا شکار رہتی تھی۔پھر اللہ تعالی نے پہاڑوں کو پیدا فرمایا جس کے نتیجے میں زمین میں ٹھہراو آ گیا۔قیامت کے قریب یہ تجلی پھر کثرت سے نازل ہو گی اور زمین میں بکثرت زلزلے پیدا ہوں گے۔
سیدنا عبدالعزیز دباغ رحمہ اللہ 
کتاب : الابریز

ISHQ BY RUMI


عشق تمام کائنات کی حرکت کا سبب ہے جو کہ اس کائنات میں پنہاں ہے ورنہ یہ کائنات درجہ کمال کو نہ پہنچتی ۔ اگر اس میں عشق کی ےحتیک نہ ہو تو یہ ٹھٹھر کر رە جاۓ، عشق ہی کی بدولت یہاں کا ہر ذرە کمال کا خواہاں ہے ۔ قرآن میں ہے
"آسمان اور زمین کا ذرە ذرە الله کا تسبیح خواں ہے"۔
ہر ذرے کی تسبیح اُس کے عشق کی دلیل ہے اور اُسی کے ذریعے عاشق لوگ جان کے لۓ اپنے جسم کو فنا کرتے ہیں
رومیؒ

MOMIN KA DIL BY KHAWAJA HASAN BASRI

MOMIN KA DIL BY KHAWAJA HASAN BASRI

Bandagi by KHawaja Hasan basri

ﺑﻨﺪﮔﯽ ...
ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺑﺼﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ
ﺧﺮﯾﺪﺍ، ﻭﮦ ﻏﻼﻡ ﺑﮭﯽ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ، ﺻﺎﺣﺐِ ﻧﺴﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﮩﺠﺪ ﮔﺰﺍﺭ
ﺗﮭﺎ، ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ : ﺍﮮ ﻏﻼﻡ ! ﺗﯿﺮﺍﻧﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ … ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ! ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﻣﺎﻟﮏ
ﺟﺲ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﭘﮑﺎﺭﮮ !…
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﻏﻼﻡ ! 
ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ … ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ! ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﻮ
ﻣﺎﻟﮏ ﭘﮩﻨﺎ ﺩﮮ ﻭﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ !…
ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻏﻼﻡ ! 
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﺎﮨﮯ … ؟
ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﻮ
ﻣﺎﻟﮏ ﮐﮭﻼ ﺩﮮ ﻭﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ !…
ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﭼﯿﺦ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺟﺐ ﮨﻮﺵ
ﻣﯿﮟ ﺍٓﺋﮯ ﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﻏﻼﻡ ! ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ
ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﭘﯿﺴﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺯﺍﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ !…
ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ
ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ … ؟
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﺳﮑﮭﺎ ﺩﯼ، ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ
ﻏﻼﻡ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﯿﺴﮧ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﻮ ﻏﻼﻣﯽ ﮐﮯ ﻃﻮﻕ
ﺳﮯ ﺍٓﺯﺍﺩ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻏﻼﻡ ﮨﯿﮟ ﮐﮧﺳﻠﻄﻨﺖ ﺑﮭﯽ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﺳﮯ، ﻃﻮﻕِﺑﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺍٓﺯﺍﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ،ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻃﻮﻕ ﻣﻮﺕ ﺗﮏ
ﮨﮯ …
ﻭَﺍﻋْﺒُﺪْ ﺭَﺑَّﮏَ ﺣَﺘّٰﯽ ﯾَﺎْٔﺗِﯿَﮏَ ﺍﻟْﯿَﻘِﯿْﻦ
ﭘﺲ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻟﻠﮧﮐﯽﺑﻨﺪﮔﯽ ﺳﮑﮭﺎﺩﯼ، ﺍﺏ ﮨﻢ ﮐﻮ
ﺍﻟﻠﮧﺟﻮﮐﮭﻼ ﺋﮯ ﮔﺎ ﮨﻢ ﯾﮩﯽﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯﮐﮧﻣﺎﻟﮏ ﺍٓﭖﮐﺎﺍﺣﺴﺎﻥ
ﮨﮯ،ﺟﻮ ﭘﮩﻨﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﯿﮟﮔﮯﮐﮧﻣﺎﻟﮏ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮨﮯ،
ﺟﺲ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺧﺪﺍ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﮔﺎ ﻭﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ !…
ﺍﮮ ﻏﻼﻡ ! ﺗﻮ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﺳﮑﮭﺎ ﺩﯼ۔
ﯾﮧ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﺭﮐﮭﮯ
ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﻮ،  
ﺭﺿﺎﺑﺎﻟﻘﻀﺎﮐﺎﻣﻘﺎﻡ
ﺍﺧﻼﺹﺳﮯﺑﮭﯽﺯﯾﺎﺩﮦﺍُﻭﻧﭽﺎ
ہے…!!

YA MUEEDU YA MOEEDU - AL MUEEDU

                    الْمُعیْدُ    دوبارہ پیدا کرنے والا 
خاصیت:اس اسم مبارک کا ورد کرنے والے شخص کو بھولی ہوئی باتیں یادآجائینگی اور جو شخص اس اسم کا ایک ہزار مرتبہ ورد کرے اس کو ہدایت حاصل ہو ۔ اگر کسی کا مال جاتا رہے سات ہزار مرتبہ عشاء کی نماز کے
بعد اس اسمِ مبارک کوپڑھے ان شآء اللہ مال کا پتہ لگ جائے گا۔ 
ALMUEEDU AL MOEEDU
ya mueedu
ALMUEEDU AL MOEEDU
ya mueedu

Shariat aur Qaari ( Qari)

آسان شریعت اور متشدد قاری
Shariat aur Qaari ( Qari)

Abortion is a massacre of humanity

ابارشن انسانیت کا قتل عام ہے
Abortion is a massacre of humanity

Islami Nazriati Council aur teen talaaq

اسلامی نظریاتی کونسل، تین طلاق اور تعزیر: غلط سوال کا غلط جواب
-------------------------------------
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ابھی میں نے نہیں دیکھیں لیکن جو کچھ اخبارات میں رپورٹ ہوا ہے اس کی رو سے اتنا معلوم ہوا ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے پر قانون سازی کے ذریعے تعزیری سزا تجویز کی جارہی ہے اوراس ضمن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے بھی استدلال کیا جارہا ہے۔
ہمارے نزدیک یہ غلط سوال کا غلط جواب ہے۔
پاکستان کے قانون کی رو سے اس وقت پوزیشن یہ ہے کہ ایک طلاق دی جائے، دو دی جائیں، یا تین دی جائیں، ایک مجلس میں دی جائے/جائیں، الگ الگ طہر میں دی جائے/جائیں، یا برسوں کے وقفے سے دی جائے/جائیں، کسی بھی صورت کوئی بھی طلاق اس وقت تک مؤثر ہی نہیں ہوتی جب تک اس طلاق، یا طلاقوں، کے بعد شوہر اس کارروائی کا نوٹس یونین کونسل کے چیئرمین کو نہ دے، اس کی کاپی بیوی کو نہ دے، اور یونین کونسل کے چیئرمین کے پاس نوٹس موصول ہونے کے بعد مصالحت ناکام ہونے پر نوے دن گزر نہ جائیں۔ واضح رہے کہ ہر دفعہ طلاق، یا طلاقیں، دے چکنے کے بعد یہ کارروائی پھر کی جائے گی اور ہر دفعہ کارروائی مکمل ہونے پر ایک طلاق مؤثر ہوگی، خواہ کتنی ہی طلاقیں دی گئی ہوں اور کیسے ہی الفاظ استعمال کیے گئے ہوں۔ دیکھیے مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس مجریہ 1961ء کی دفعہ سات بمع سپریم کورٹ کے فیصلے کے، کنیز فاطمہ بنام ولی محمد (1993ء)۔
اس قانون نے نہ صرف تین طلاق کو، بلکہ دو، بلکہ ایک طلاق کو بھی کالعدم کردیا ہے جب تک متعلقہ کارروائی نہ کی جائے۔ بلکہ اس قانون نے ایک طلاق بائن کو بھی کالعدم کردیا ہے اور پاکستانی قانون کی رو سے طلاق ہمیشہ رجعی ہوتی ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ انتہائی بے ہودہ قانون ہے لیکن یہی قانون ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں تین طلاق پر تعزیر کی کیا تک بنتی ہے؟ اسلامی نظریاتی کونسل کو چاہیے کہ پہلے یہ بے ہودہ قانون ختم کرادے۔ ایک دفعہ جب قانون کی رو سے تین طلاق مؤثر ہوجائیں گی تو اس کے بعد ہی اس پر بات کی جاسکے گی کہ کیا بیک وقت تین طلاق دینے پر سزا دی جائے یا نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل پر بحث کا موقع بھی تبھی آئے گا۔ 
تاہم واضح رہے کہ یہ قانون ایک ''ٹیبو'' ہے۔ ایسا ٹیبو جسے جنرل ضیاء بھی نہیں توڑ سکا۔ اسلامی نظریاتی کونسل بے چاری کس قطار شمار میں ہے۔

Is this a journal? kya ye sahaafat hai

کیا یہ صحافت ہے؟
آصف محمود
صحافت کا یہ بانکپن ، اللہ میری توبہ ۔ اب میر انیس ہی آئیں تو اس کا مرثیہ کہیں۔

ٹی وی سکرین پر ایک صاحب بریکنگ نیوز دینے پر تلے بیٹھے تھے ۔  چہرے پر فخر ، آنکھوں میں مسکراہٹ اور لہجے میں شہر پناہ پر تازہ تازہ پرچم لہرا کر لوٹنے والے کسی جنگجو کا سا خمار ۔ ریموٹ پر میری انگلیاں برفاب ہو گئیں ۔ میں وہیں رک گیا ۔ دل ہی دل میں سوچا کہ کوئی بہت بڑی خبر اب کے اعصاب کو چٹخا کے رکھ دے گی ۔ لیجیے صاحب آپ بھی دل تھام کر اندر کی یہ اہم ترین خبر پڑھیے اور پھر بے شک پہروں اکیلے بیٹھ کر سر پیٹتے رہیے ، خبر یہ تھی کہ ایک بڑے سیاست دان کی اہلیہ امید سے ہیں ۔

یہ ایک دوسرا منظر نامہ ہے ۔  ایک ٹاک شو میں سیاست دان ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں اور اینکر محترم کے چہرے پر دنیا جہان کا درد سمٹ آیا ہے اور وہ وعظ فرما رہے ہیں کہ دیکھیے یہ بری بات ہے اس طرح گفتگو نہ کیجیے لیکن مہمان ان کی سننے کو تیار ہی نہیں ۔  دیکھنے میں لگتا ہے کہ اینکر صاحب صدمے کی شدت سے کہیں بے ہوش ہی نہ ہو جائیں ۔ ان کے بس میں ہو تو اس شو کو یہیں ختم کر دیں ۔ اب اگر یہاں آپ کو معلوم ہو کہ یہ شو تو ریکارڈڈ تھا اور سارا دن اہتمام سے ناظرین کو خبر دینے کے بعد نشر کیا گیا کہ آ ئیے دیکھیے ہم کیسے مہمانوں کو لڑاتے ہیں ، آئیے دیکھیے فروغ دنگل کے لیے ہم کس قدر کوشاں ہیں تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟

یہ تیسرا منظر ہے ۔ ایک محترمہ کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شو میں ایک رپورٹر کو فون پر لے کر اس بے چارے کے صحافتی درجات بلند کرنے کے بعد سوال کرتی ہیں کہ اس وقت جو سماعت ہو رہی ہے اس پر ہمیں کچھ بتائیں ۔رپورٹر عرض کرتا ہے کہ سماعت ان کیمرا ہو رہی ہے ۔ خاتون فرماتی ہیں : سماعت ان کیمرا ہو رہی ہے تو یہ بتائیں کیا آپ لوگ اپنے کیمرے اندر بھجوا چکے ہیں ۔ ان کیمرا سماعت کی اس تعریف پرآپ چاہیں تو اسی طرح سر پیٹ سکتے ہیں جیسے چند سال پہلے میں نے پیٹ لیا تھا ۔

یہ چوتھا منظر بھی پر لطف ہے ۔ مائک ہاتھ میں پکڑے ایک نوجوان لاہور کی کسی سڑک پر کھڑے ہیں اور گاڑیوں کو روک کر حکم سنا رہے ہیں کہ لائسنس دکھاؤ ۔  ایک سرکاری اہلکار آگے سے کہتا ہے کہ آپ کے پاس لائسنس طلب کرنے کی کیا اتھارٹی ہے یہ کام تو پولیس کا ہے ۔ وہ اس پر ذرا بد مزہ نہیں ہوتے بلکہ مائیک قریبا اس کے منہ میں گھسیڑ تے ہوئے طنطنے سے کہتے ہیں کہ پولیس اگر یہ کام نہ کرے تو پھر ؟ گاڑی میں بیٹھا شخص اس کمال کی منطق سے لاجواب ہو کر کہتا ہے کہ اس کا تو مجھے علم نہیں ہے لیکن آپ کو لائسنس طلب کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ وہ صاحب چنگیز خان کے میمنہ کے سالار کی طرح پلٹتے ہیں اور کیمرے کی آنکھ سے ہم عوام سے مخاطب ہوتے ہیں ۔ میری بد قسمتی کہ میں ان کے اقوال زریں سن نہیں سکا ۔ مجھے اس وقت خواجہ آصف کے اقوال زریں یاد آ گئے۔

یہ سیلاب کا ایک منظر ہے ۔ سالوں بیت گئے مگر پلکوں میں دھرنا دیے بیٹھا ہے ۔ایک خاتون سیلاب زدہ ایک بستی میں موجود ہیں تاکہ عوام کو لمحہ لمحہ باخبر رکھا جا سکے ۔ اگست کا مہینہ ہے ۔ ایک مرد سر پر ایک بڑی سی ٹوکری میں ایک بچے کو اٹھائے پانی سے نکل کر خشک جگہ پر آتا ہی ہے کہ محترمہ مائک اس کے نتھنوں میں قریبا ٹھونس ہی دیتی ہیں اور پوچھتی ہیں : اگست کا مہینہ ہے کیا آپ ہمیں قومی ترانہ سنا سکتے ہیں ۔ وہ شخص بے بسی کی تصویر بنا وحشت ناک آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھتا ہے اور صرف یہ کہہ پاتا ہے بہت پیاسا ہوں کسی کے پاس پانی ہو گا ۔

ایک محلے کا منظر ہے ۔ ایک گھر کے بڑے سے صحن میں لاش رکھی ہے ۔ یہ ایک معصوم وجود کی لاش ہے جوو انسانوں کی درندگی کا شکار ہو گیا ۔ ایک صاحب مائک ہاتھ میں پکڑے وہاں سے براہ راست عوام کو باخبر رکھ کر صحافت کو بلندیوں کی طرف ہانک رہے ہیں ۔ سٹوڈیو میں بیٹھی محترمہ فرماتی ہیں کیا آپ بچے کی ماں سے ہماری بات کروا سکتی ہیں ۔ رپورٹر بھائی جان کمال مستعدی سے مقتول کی ماں کو ڈھونڈتے ہیں اور اب مقتول کی ماں سے سٹوڈیو سے سوال ہوتا ہے ۔ اب ذرا سوال سن لیجیے ۔ محترمہ پوچھتی ہیں کہ آپ اس وقت کیا محسوس کر رہی ہیں ۔ ایک بے بس ماں یہ سوال سن کر رو دیتی ہے۔ معلوم نہیں اس ماں پر کیا گزری ہو گی، میں بلڈ پریشر کا مریض نہیں مگر اس روز مجھے اپنے صحافی دوست امتیاز بٹ کے ساتھ آغا خان ہسپتال جا کر بلڈ پریشر کی دوا لینا پڑی تھی۔

ایک اور منظر شاید ان سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا  ۔ نرسوں نے لاہور میں اپنے مطالبات کے لئے جلوس نکا لا تو ایک چینل نے ان نرسوں کے جلوس کی فوٹیج پر گانا چلا دیا ’’ جی ٹی روڈ تے بریکاں لگیاں نی بلو تیری ٹور ویکھ کے۔‘‘  یہ بد ذوقی کی انتہا ہی نہیں یہ پست معیار کا اعلان عام بھی تھا ۔  ذمہ داری کا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ گاہے لگتا ہے ایک تماشا لگا ہے اور ہم سب اس کا حصہ ہیں ۔ایک بچی درندگی کا شکار ہوئی تو ایک چینل پر ایک محترم چیخ چیخ کر اعلان کرتے رہے ، دیکھنا مت بھولیے گا ہم آپ کو بتائیں گے اس کے ساتھ ایک گھنٹہ اور بائیس منٹ تک کیا ہوتا رہا ۔

یہ یکم رمضان المبارک کی پہلی شام تھی ۔ ٹی وی آن کیا تو دیکھا ایک بڈھے نے ایک بڈھی کا ہاتھ تھام رکھا ہے ۔ بازاری قسم کے چند ڈائیلاگ میں اظہار محبت کیا ۔ کیمرہ زوم آؤٹ ہوا ۔ ایک بچی حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔ اس کے بعد ناظرین کو اہتمام سے بتایا گیا کہ یہ رمضان کا خصوصی کھیل ہے۔ جو مہینہ عبادات کے لیے مختص تھا ، آزاد میڈیا نے اسے تہوار بنا رکھا ہے ۔

بلیو ایریا اسلام آباد میں کھڑا سکندر تو آپ کو یاد ہی ہو گا ۔ آزاد صحافت کی خیر ہو یاروں نے سکندر کے رفعِ حاجت کے عمل کو بھی لائیو دکھا دیاتا کہ آزادیِ صحافت کے چوڑے چکلے ماتھے پر ایک نیا جھومر سجایا جا سکے ۔ یہی نہیں نیوز کاسٹرز نے شدت جذبات سے کانپتے لہجے میں اپنے ناظرین کو یہ بھی بتایا کہ یہ اہم منا ظر صرف ہم اس وقت آپ تک براہ راست پہنچا رہے ہیں ۔ تماش بینی کی دائم آرزواور اوپر سے کیمرہ ۔ ۔۔ گاہے نوابزادہ نصراللّٰہ خان یاد آتے ہیں ، ایسی اچھل کود کے ہنگام کس رسان سے کہا کرتے تھے:’’ اگے بھابھو نچنی اتوں ڈھولاں دے گھمکار۔‘‘

کیمرہ ان کے ہاتھ میں آ گیا ۔ اب سماج میں کسی کی عزت محفوظ نہیں ۔ احباب جس طرف رخ کرتے ہیں کشتوں کے پشتے لگا دیتے ہیں  بد تمیزی کوبانکپن سمجھ لیا گیا ہے اور ہاتھ میں پکڑا مائیک لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے کا ایک لائسنس ۔ دندناتے ہوئے جدھر منہ آیا گھس گئے۔ سر راہ جس کی چاہا عزت اچھال دی ۔ صحافتی اخلاقیات کیا ہوتی ہیں ان کی جانے بلا ۔ دنیا کا یہ واحد شعبہ ہے جہاں ہر نومولود سینیئر تجزیہ کار ہوتا ہے۔ خود تو ہیں ہی ، خطرہ ہے کہ یہ پورے سماج کو نفسیاتی مریض بنا دیں گے۔

اہل صحافت مان کر نہیں دیں گے مگر سچ کہوں تو ایک لاوہ ہے جو پک چکا۔ سماج ان کے رویوں سے بے زار ہو چکا ۔  پولیس نے تو جواب آں غزل کے طور پر موبائل کو کیمرہ بنا لیا اور پھرساری قوم نے ٹریفک چالان سے بچنے کے لیے آزاد صحافت کی ترک تازیاں دیکھیں اور لطف اٹھایا۔یہ معاملہ مگر اب یہاں نہیں رکے گا۔آگے بڑھے گا۔ ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے۔

JAHEZ KI NUMAISH BARI

جہیز کی نمائش باعث تکلیف ہے
JAHEZ KI NUMAISH BARI 

prize bonds, installment and leasing

پرائزبانڈ/انسٹالمنٹ/لیزنگ؟
prize bonds, installment and leasing 

DAARHI BEARD

ﻣﺸﺖ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺯ : ﺳﻠﻒ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﮯ ﺍٓﺛﺎﺭ،ﻓﻘﮩﺎﺀ ﻭ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﮯ ﻓﺘﺎﻭﯼ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﻣﺸﺖ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﺖ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﻮ ﺣﺮﺍﻡ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ،ﺟﺲ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ :
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ، ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
)) ﺧَﺎﻟِﻔُﻮﺍ ﺍﻟْﻤُﺸْﺮِﻛِﻴْﻦَ ﻭَﻓِﺮُّﻭﺍ ﺍﻟﻠِّﺤٰﻰ ﻭَﺍَﺣْﻔُﻮﺍ ﺍﻟﺸَّﻮَﺍﺭِﺏَ ((
" ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮐﺮﻭ، ﺩﺍﮌﮬﯿﺎﮞ ﺑﮍﮬﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﮐﭩﻮﺍﺅ۔ "
ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻭ ﻣﺴﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﺭ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ :
)) ﺍَﺣْﻔُﻮﺍ ﺍﻟﺸَّﻮَﺍﺭِﺏَ ﻭَﺍَﻋْﻔُﻮﺍ ﺍﻟﻠِّﺤٰﻰ ((
" ﻣﻮﻧﭽﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﭩﻮﺍﺅ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﮌﮬﯿﺎﮞ ﺑﮍﮬﺎﺅ "
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ :
)) ﺃﻧﻬﻜﻮﺍ ﺍﻟﺸﻮﺍﺭﺏ ﻭﺍﻋﻔﻮﺍ ﺍﻟﻠﺤﻰ ((
" ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﮌﮬﯿﺎﮞ ﺑﮍﮬﺎﺅ "
‏( ﺇﻥ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﺸﺮﻙ ﻳﻌﻔﻮﻥ ﺷﻮﺍﺭﺑﻬﻢ ﻭﻳﺤﻔﻮﻥ ﻟﺤﺎﻫﻢ ﻓﺨﺎﻟﻔﻮﻫﻢ ﻓﺎﻋﻔﻮﺍ ﺍﻟﻠﺤﻰ ﻭﺃﺣﻔﻮﺍ ﺍﻟﺸﻮﺍﺭﺏ ‏)
" ﺑﮯ ﺷﮏ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﮌﮬﯿﺎﮞ ﻣﻨﮉﻭﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮐﺮﻭ۔۔۔ ﺩﺍﮌﮬﯿﺎﮞ ﺑﮍﮬﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﮐﭩﻮﺍﺅ " ﺍﺳﮯ ﺑﺰﺍﺯ ﻧﮯ ﺻﺤﯿﺢ ﺳﻨﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺴﻠﻢ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ :
‏( ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠﻪِ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ : ﺧَﺎﻟِﻔُﻮﺍ ﺍﻟْﻤَﺠُﻮﺱَ ﻟِﺎَﻧَّﻬُﻢ ﻛَﺎﻧُﻮﺍ ﻳُﻘَﺼِّﺮُﻭﻥِ ﻟِﺤَﺎﻫُﻢْ ﻭَﻳُﻄَﻮِّﻟُﻮﻥَ ﺍﻟﺸَّﻮَﺍﺭِﺏَ ‏)
" ﺗﻢ ﻣﺠﻮﺳﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮐﺮﻭ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺍﮌﮬﯿﺎﮞ ﮐﭩﻮﺍﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﻟﻤﺒﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ، ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﻮﺳﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
‏( ﺇِﻧَّﻬُﻢْ ﻳُﻮﻓُﻮﻥَ ﺳِﺒَﺎﻟَﻬُﻢْ، ﻭَﻳَﺤْﻠِﻘُﻮﻥَ ﻟِﺤَﺎﻫُﻢْ، ﻓَﺨَﺎﻟِﻔُﻮﻫُﻢْ ‏)
" ﺑﮯ ﺷﮏ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﮌﮬﯿﺎﮞ ﻣﻨﮉﻭﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﭘﺲ ﺗﻢ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮐﺮﻭ۔ "
ﻭﺟﻮﺏِ ﻟﺤﯿﮧ ﭘﺮ ﺩﻻﻟﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﻟﻐﻮﯼ ﺗﺸﺮﯾﺢ :
ﺩﺍﮌﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺎﻧﭻ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﯿﮟ :
'' ﺃﻭﻓﻮﺍ، ﻭﺃﺭﺧﻮﺍ، ﻭﺃﺭﺟﻮﺍ، ﻭﻭﻓﺮﻭﺍ، ﻭﺍﻋﻔﻮﺍ ''
ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﻔﻆ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﻮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﮐﺜﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺩﻻﻟﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﺎﻧﭽﻮﮞ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ :
ﺍﻥ ﺳﺐ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﮯ ،ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﻟﻐﺖ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﻭﻓﮑﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺜﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺎﺕ ﭘﺮ ﺩﻻﻟﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﮯ :
‏( ﺃﻭﻓﻮﺍ ‏) ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺍﯾﻔﺎﺀ ﺳﮯ ﻣﺎﺧﻮﺫ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﻴﮟ : ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺜﯿﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ، ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺗﺎﺝ ﺍﻟﻌﺮﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ :
'' ﻭﻓﻰ ﺍﻟﺸﻲﺀ ﺃﻱ ﺗﻢَّ ﻭﻛﺜُﺮ '' ‏( 219/40 ‏)
ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻋﺴﻘﻼﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ :
‏( ﺃَﻭْﻓُﻮﺍ ﺃَﻱِ ﺍﺗْﺮُﻛُﻮﻫَﺎ ﻭَﺍﻓِﻴَﺔً ‏) ‏( ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ : 350/10 ‏)
ﯾﻌﻨﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺣﺪ ﺗﮏ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻟﻔﻆ ‏( ﺃﺭﺧﻮﺍ ‏) ﻭﺍﺭﺩ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﻟﭩﮑﺎﻧﺎ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ، ﺻﺎﺣﺐ ﺗﺎﺝ ﺍﻟﻌﺮﻭﺱ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ : ‏( ﻭﺃﺭﺧﻰ ﺍﻟﺴﺘﺮ ﺃﺳﺪﻟﻪ ‏) ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﻟﭩﮑﺎﯾﺎ
ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻟﻔﻆ ‏( ﺃﺭﺟﻮ ‏) ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮨﮯ،ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﻟﻤﺒﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‏( ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ : 350/10 ‏)
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﺪﻳﺚ ﻣﻴﮟ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﻟﻔﻆ ‏( ﻭﻓﺮﻭﺍ ‏) ﺑﻮﻻ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﻴﮟ : ﮐﺜﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺎﺕ ﮨﮯ ،ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﮨﻞ ﻟﻐﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﮨﮯ :
ﻗﺎﻝ ﺍﺑﻦ ﻓﺎﺭﺱ ﻓﻲ ﻣﻘﺎﻳﻴﺲ ﺍﻟﻠﻐﺔ :
‏( ﻭﻓﺮ ‏) ﻛﻠﻤﺔٌ ﺗﺪﻝُّ ﻋﻠﻰ ﻛﺜﺮﺓٍ ﻭﺗَﻤﺎﻡ ‏)
‏( 129/6 ‏)
ﻭﻓﻲ ﺍﻟﻘﺎﻣﻮﺱ ﺍﻟﻤﺤﻴﻂ : ‏( ﻭﻓﺮﻩ ﺗﻮﻓﻴﺮﺍً : ﻛﺜَّﺮﻩ ‏)
‏( 493/1
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﯿﮟ '' ﺍﻋﻔﺎﺀ '' ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ،ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﺜﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﻓﯿﺮ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺍﮨﻞ ﻟﻐﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻥ ﺩﮨﯽ ﮐﯽ ﮨﮯ : ﻟﺴﺎﻥ ﺍﻟﻌﺮﺏ : ‏( ﻋﻔﺎ ﺍﻟﻘﻮﻡ
ﻛﺜﺮﻭﺍ، ﻭﻓﻲ ﺍﻟﺘﻨﺰﻳﻞ : } ﺣﺘﻰ ﻋﻔﻮﺍ { ﺃﻱ ﻛﺜﺮﻭﺍ، ﻭﻋﻔﺎ ﺍﻟﻨﺒﺖ ﻭﺍﻟﺸﻌﺮ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻳﻌﻔﻮ ﻓﻬﻮ ﻋﺎﻑ : ﻛﺜُﺮ ﻭﻃﺎﻝ، ﻭﻓﻲ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ : ﺃﻧﻪ - ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﺃﻣﺮ ﺑﺈﻋﻔﺎﺀ ﺍﻟﻠﺤﻰ، ﻫﻮ ﺃﻥ ﻳﻮﻓَّﺮ ﺷﻌﺮﻫﺎ ﻭﻳُﻜَﺜَّﺮ، ﻭﻻ ﻳﻘﺺ ﻛﺎﻟﺸﻮﺍﺭﺏ، ﻣﻦ ﻋﻔﺎ ﺍﻟﺸﻲﺀ ﺇﺫﺍ ﻛﺜﺮ ﻭﺯﺍﺩ
‏( ﻟﺴﺎﻥ ﺍﻟﻌﺮﺏ : 75/15 ‏)
ﺍﺑﻦ ﺩﻗﯿﻖ ﺍﻟﻌﯿﺪ ﻧﮯ ﺍﻋﻔﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺗﮑﺜﯿﺮ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ : ﺗَﻔْﺴِﻴﺮُ ﺍﻟْﺈِﻋْﻔَﺎﺀِ ﺑِﺎﻟﺘَّﻜْﺜِﻴﺮِ
‏( ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ : 351/10 ‏)
ﻭﻗﺎﻝ ﺍﻟﻘﺮﻃﺒﻲ ﻓﻲ ‏( ﺍﻟﻤﻔﻬﻢ ‏) ‏( 1/512 ‏) ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﻴﺪ : ‏( ﻳﻘﺎﻝ ﻋﻔﺎ ﺍﻟﺸﻲﺀ ﺇﺫﺍ ﻛﺜﺮ ﻭﺯﺍﺩ ‏)
ﺷﺎﺭﺡ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻦ ﺑﻄﺎﻝ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻋﻔﺎﺀ ﺍﻟﻠﺤﯿۃ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺗﮑﺜﯿﺮ ﺍﻟﻠﺤﯿۃ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ۔
‏( ﺷﺮﺡ ﺍﺑﻦ ﺑﻄﺎﻝ : 146/9 ‏)
ﺷﺎﺭﺡ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﺗﻮﻓﯿﺮ ﮐﮯﻣﻌﻨﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
‏( ﻭَﻓِّﺮُﻭﺍ ﻓَﻬُﻮَ ﺑِﺘَﺸْﺪِﻳﺪِ ﺍﻟْﻔَﺎﺀِ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺘَّﻮْﻓِﻴﺮِ ﻭَﻫُﻮَ ﺍﻟْﺈِﺑْﻘَﺎﺀُ ﺃَﻱِ ﺍﺗْﺮُﻛُﻮﻫَﺎ ﻭَﺍﻓِﺮَﺓً ‏) ‏( ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ : 350/10 ‏)
ﺗﻮﻓﯿﺮ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ،ﯾﻌﻨﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﻮ ﻭﺍﻓﺮ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮐﮭﻮ۔
ﺷﺎﺭﺡ ﻣﺸﮑﻮۃﺷﺮﻑ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻃﯿﺒﯽ ‏( ﯾﮏ ﻣﺸﺖ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﻮ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻞ ‏) ﻧﮯ ﺍﻋﻔﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﯾﻮﮞ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ :
‏( ﻓﺎﻟﻤﺮﺍﺩ ﺑﺎﻹﻋﻔﺎﺀ ﺍﻟﺘﻮﻓﻴﺮ ﻣﻨﻪ ، ﻛﻤﺎ ﻓﻲ ﺍﻟﺮﻭﺍﻳﺔ ﺍﻷﺧﺮﻯ ‏( ﻭﻓﺮﻭﺍ ﺍﻟﻠﺤﻰ ‏)
‏( ﺍﻟﻜﺎﺷﻒ ﻋﻦ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﺍﻟﺴﻨﻦ 2930/9 : ‏)
'' ﯾﮩﺎﮞ ﺍﻋﻔﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺗﻮﻓﯿﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﺜﺮﺕ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ،ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﻭﺍﯾﺖ ‏( ﻭﻓﺮﻭﺍﺍﻟﻠِﺤﺎ ‏) ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ''
ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻧﮯ ﺗﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ :
‏( ﻭَﺫَﻫَﺐَ ﺍﻟْﺄَﻛْﺜَﺮُ ﺇِﻟَﻰ ﺃَﻧَّﻪُ ﺑِﻤَﻌْﻨَﻰ ﻭَﻓِّﺮُﻭﺍ ﺃَﻭْ ﻛَﺜِّﺮُﻭﺍ ﻭَﻫُﻮَ ﺍﻟﺼَّﻮَﺍﺏُ ‏)
ﺍﮐﺜﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﻮﻗﻒ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﻋﻔﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺗﻮﻓﯿﺮ ﯾﺎ ﺗﮑﺜﯿﺮ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ۔ ''
ﻣﻨﺪﺭﺟﮧ ﺑﺎﻻ ﺩﻻﺋﻞ ، ﻣﺎﮨﺮ ﻟﻐﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﺭﺣﯿﻦ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻋﻔﺎﺀ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺑﻠﮑﮧ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺑﮉﮬﺎﻧﺎ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﮨﯽ ﻣﻌﻨﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﻣﺎﻧﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ،ﺗﺎﺑﻌﯿﻦ ﻋﻈﺎﻡ،ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ،ﺍﺋﻤﮧ ﺩﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﺭﺣﯿﻦ ﺣﺪﯾﺚ ﺩﺭﺳﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺍﻋﻔﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﮐﻮ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ؟ﯾﮧ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺎﮨﺮ ﻟﻐﺖ ﺍﻭﺭ ﻓﺼﯿﺢ ﻭ ﺑﻠﯿﻎ ﺗﮭﮯ۔
ﺩﺍﮌﯼ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮯﻣﻌﻨﯽ ﮐﺜﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺎﺕ ﮨﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ
ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧﷺ ﮐﯽ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ :
ﺍﮔﺮ ﻛﻮﺋﯽ ﯾﮧ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧﷺ ﺳﮯ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﮐﺎﭨﻨﺎ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ،ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﻏﯿﺮ ﻣﺸﺮﻭﻉ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﯿﺶ ﺍٓﺋﯽ ﮨﻮ،ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻓﮩﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍٓﭖ ﷺ ﮐﯽ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﻣﺸﺖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ،ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﭩﻮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﯼ ،ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺣﺪﯾﺚ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﻧﮯ ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ :
ﺟﻨﺎﺏ ﯾﺰﯾﺪ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﻣﮑﺮﻡ ﺳﺮﻭﺭ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﺷﺮﻑ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺍ، ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﺰﯾﺪ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﮯ ﻧﺴﺨﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮐﯿﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺒﺎﮨﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺴﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮨﻮ، ﻭﮦ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﮨﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﻠﯿﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺷﺖ ﺳﻔﯿﺪﯼ ﻣﺎﺋﻞ ﮔﻨﺪﻣﯽ ﺗﮭﺎ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ، ﺳﺮﻣﮕﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﻮﻻﺋﯽ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺑﮭﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﮧ ﭘﻮﺭﮮ ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﺘﯽ، ‏( ﻋﻮﻑ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﮟ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﯿﺎ ﺣﻠﯿﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ‏) ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺑﯿﺪﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺷﺎﺩ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﻠﯿﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ‏( ﮐﭽﮫ ﻓﺮﻕ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ‏)
‏( ﺭﻭﺍﻩ ﺃﺣﻤﺪ ﻓﻲ " ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ " ‏( 5/389 ‏) ﻃﺒﻌﺔ ﻣﺆﺳﺴﺔ ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﺔ . ‏)
ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﮐﻮ ﺣﺴﻦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ : ‏( ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﻱ ﺷﺮﺡ ﺻﺤﻴﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ : 657/6 ‏)
ﻋﻼﻣﮧ ﮨﯿﺜﻤﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺭﻭﺍۃ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ : '' ﺭﺟﺎﻟﻪ ﺛﻘﺎﺕ ''
‏( ﻣﺠﻤﻊ ﺍﻟﺰﻭﺍﺋﺪ ﻭﻣﻨﺒﻊ ﺍﻟﻔﻮﺍﺋﺪ ‏( 8 / 272 :
ﺍﻣﺎﻡ ﺯﺭﻗﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
'' ﺇﺳﻨﺎﺩ ﺣﺴﻦ '' ‏( ﺷﺮﺡ ﺍﻟﺰﺭﻗﺎﻧﻲ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻤﻮﻃﺄ :
‏( 4 439 / ‏)
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺍﻟﻌﺜﯿﻤﯿﻦ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ :
ﻭﻫﺬﺍ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﻳﺨﺘﻠﻒ ﺣﻜﻤﻪ ﺑﺴﺒﺐ ﺍﻻﺧﺘﻼﻑ ﻓﻲ ﻳﺰﻳﺪ ﺍﻟﻔﺎﺭﺳﻲ ، ﻓﺬﻫﺐ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﺪﻳﻨﻲ ﻭﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﺇﻟﻰ ﺃﻧﻪ ﻫﻮ ﻧﻔﺴﻪ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﻫﺮﻣﺰ ﺍﻟﺜﻘﺔ
ﯾﺰﯾﺪ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺻﺤﯿﺢ ﯾﺎ ﺿﻌﯿﻒ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﮯ،ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﻣﺪﯾﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﮐﺎ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﺍﺱ ﺭﺍﻭﯼ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﯾﺰﯾﺪ ﺑﻦ ﮨﺮﻣﺰ ﺛﻘﮧ ﺭﺍﻭﯼ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﻭﯼ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ
ﻻ ﺑﺄﺱ ﺑﻪ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ : ﺫﻫﺐ ﺇﻟﻴﻪ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ ﻓﻲ " ﺍﻟﺠﺮﺡ ﻭﺍﻟﺘﻌﺪﻳﻞ " ‏( 9/293 ‏) ﻣﻦ ﻗﻮﻟﻪ ﻓﻴﻪ : ﻻ ﺑﺄﺱ ﺑﻪ ‏)
ﺑﻔﺮﺽ ﻣﺤﺎﻝ ﯾﮧ ﻣﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺿﻌﯿﻒ ﮨﮯ ﻣﻨﺪﺭﺟﮧ ﺫﯾﻞ ﺩﻻﺋﻞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﻋﺜﯿﻤﯿﻦ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ :
ﺃﻥ ﻟﺤﻴﺘﻪ ﺍﻟﺸﺮﻳﻔﺔ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺼﻼﺓ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻃﻮﻳﻠﺔ ﺗﻤﻸ ﺻﺪﺭﻩ ، ﺑﻞ ﺗﻜﺎﺩ ﺗﻤﻸ ﻧﺤﺮﻩ ، ﻭﺍﻟﻨﺤﺮ ﻫﻮ ﺃﻋﻠﻰ ﺍﻟﺼﺪﺭ ، ﻭﻫﺬﺍ ﻳﺪﻝ ﻋﻠﻰ ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﻃﻮﻟﻬﺎ ﻭﺗﻮﺳﻄﻪ
‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﻋﺜﯿﻤﯿﻦ : ﺭﻗﻢ ﺍﻟﻔﺘﻮﯼ :
147167
ﺍٓﭖ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮ ﺑﻠﮑﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﻮ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﺩﮮ، ﯾﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻣﻌﺘﺪﻝ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻮﺳﻂ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﻃﺒﺮﺍﻧﯽ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪ ﻗﺎﺳﻢ ﺑﻦ ﺳﻼﻡ‏( ﻣﺘﻮﻓﯽ 224: ﮪ ‏) ﺳﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﺃﻥ ﺗﻜﻮﻥ '' ﺍﻟﻠﺤﻴﺔ ﻏﻴﺮ ﺩﻗﻴﻘﺔ ، ﻭﻻ ﻃﻮﻳﻠﺔ ، ﻭﻟﻜﻦ ﻓﻴﻬﺎ ﻛﺜﺎﺛﺔ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﻋِﻈَﻢٍ ﻭﻻ ﻃﻮﻝ ‏( ﺍﻟﻤﻌﺠﻢ ﺍﻟﻜﺒﻴﺮ " ‏( 22/159 ‏)
ﯾﻌﻨﯽ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻧﮧ ﮐﻢ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ،ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻨﮯ ﺑﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺑﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﮯ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱ ﻗﺮﻃﺒﯽ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ :
'' ﻻ ﻳﻔﻬﻢ ﻣﻦ ﻫﺬﺍ – ﻳﻌﻨﻲ ﻗﻮﻟﻪ ‏( ﻛﺜﻴﺮ ﺷﻌﺮ ﺍﻟﻠﺤﻴﺔ ‏) - ﺃﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻃﻮﻳﻠﻬﺎ ، ﻓﺈﻧَّﻪ ﻗﺪ ﺻﺢَّ ﺃﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻛﺚَّ ﺍﻟﻠﺤﻴﺔ ؛ ﺃﻱ : ﻛﺜﻴﺮ ﺷﻌﺮﻫﺎ ﻏﻴﺮ ﻃﻮﻳﻠﺔ " .
'' ﺍﻟﻤﻔﻬﻢ ﻟﻤﺎ ﺃﺷﻜﻞ ﻣﻦ ﺗﻠﺨﻴﺺ ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ " ‏( 6/135 ‏)
ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﮯ ﮐﯽ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ، ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﺑﮑﻞ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﮔﮭﺮﮮ ﺗﮭﮯ،ﯾﻌﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﻮ ﻟﻤﺒﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔
ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﻓِﻴﻬَﺎ ﻛَﺜَﺎﻓَﺔ ﻭﺍﺳﺘﺪﺍﺭﺓ ﻭَﻟَﻴْﺴَﺖ ﻃَﻮِﻳﻠَﺔ
ﺍﭖٓ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻨﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻻﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ‏( ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ I/178:
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﺍﻓﺮﯾﻘﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﺃﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻛﺚ ﺍﻟﻠﺤﻴﺔ : ﺃﺭﺍﺩ ﻛﺜﺮﺓ ﺃﺻﻮﻟﻬﺎ ﻭﺷﻌﺮﻫﺎ ﻭﺃﻧﻬﺎ ﻟﻴﺴﺖ ﺑﺪﻗﻴﻘﺔ ﻭﻻ
ﻃﻮﻳﻠﺔ ، ﻭﻓﻴﻬﺎ ﻛﺜﺎﻓﺔ
ﺍٓﭖ ﮔﮭﻨﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ،ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﻭﯼ ﮐﯽ ﻣﺮﺍﺩ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺎﻝ ﺗﮭﮯ، ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ،ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﺜﺎﻓﺖ ﺗﮭﯽ۔
179/2
ﺍﻣﺎﻡ ﺳﯿﻮﻃﯽ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﺍﻟﻜﺜﻮﺛﺔ ﺃﻥ ﺗﻜﻮﻥ ﻏﻴﺮ ﺩﻗﻴﻘﺔ ﻭﻻ ﻃﻮﻳﻠﺔ ﻭﻟﻜﻦ ﻓﻴﻬﺎ ﻛﺜﺎﻓﺔ ‏) ﺍﻟﺪﻳﺒﺎﺝ ﻋﻠﻰ ﻣﺴﻠﻢ ‏( 3/160 ‏)
ﮐﺜﺎﻓﺖ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﻨﺎﻭﯼ ﻓﯿﺾ ﺍﻟﻘﺪﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ :
ﻛﺜﻴﻒ ﺍﻟﻠﺤﻴﺔ ﻻ ﺩﻗﻴﻘﻬﺎ ﻭﻻ ﻃﻮﻳﻠﻬﺎ ، ﻭﻓﻴﻬﺎ ﻛﺜﺎﻓﺔ۔ ‏(
ﻓﻴﺾ ﺍﻟﻘﺪﻳﺮ 5/81 ‏)
ﯾﻌﻨﯽ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﮔﮭﻨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ،ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﮯ۔
ﯾﮧ ﺩﻻﺋﻞ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻭﺍﺿﺢ ﺛﺒﻮﺕ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﯼ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﻌﺘﺪﻝ ﻭ ﻣﺘﻮﺳﻂ ﺗﮭﯽ،ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﭩﻮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺿﻌﯿﻒ ﮨﯿﮟ،ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺍﻟﻌﺜﯿﻤﯿﻦ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ :
‏( ﻭﺃﻣﺎ ﻭﺻﻒ ﻟﺤﻴﺘﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﺄﻧﻬﺎ ﻛﺎﻧﺖ ﺗﻤﻸ ﺻﺪﺭﻩ ﺍﻟﺸﺮﻳﻒ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺼﻼﺓ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ : ﻓﻬﺬﺍ ﻟﻢ ﻧﻘﻒ ﻋﻠﻴﻪ ﻣﺴﻨﺪﺍ ﻣﺄﺛﻮﺭﺍ ‏)
ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﮐﯽ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺗﻨﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ،ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺘﻨﺪ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﯽ۔
‏) ﻓﺘﺎﻭﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﻋﺜﯿﻤﯿﻦ : ﺭﻗﻢ ﺍﻟﻔﺘﻮﯼ :
147167
ﺍٓﺛﺎﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻭ ﺗﺎﺑﻌﯿﻦ :
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﮯ ﻣﺸﺖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﭨﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ،ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻭﻟﯿﻘﻀﻮ ﺗﻔﺜﻬﻢ ﮐﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯽ ﮨﮯ،ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ :
ﺣﺪَّﺛﻨﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪ ﺑﻦ ﺇِﺳْﺤَﺎﻕ ﺍﻟﺴِّﻨْﺪﻱ ﻗَﺎﻝَ : ﺣَﺪﺛﻨَﺎ ﻋَﻠِﻲ ﺑﻦ ﺧَﺸْﺮَﻡ ﻋَﻦ ﻋِﻴﺴَﻰ ﻋَﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟْﻤﻠﻚ ﻋَﻦ ﻋَﻄﺎﺀِ ﻋَﻦ ﺍﺑْﻦ ﻋَﺒَّﺎﺱ ﻓِﻲ ﻗَﻮْﻟﻪ : } ﺛُﻢَّ ﻟْﻴَﻘْﻀُﻮﺍْ ﺗَﻔَﺜَﻬُﻢْ { ‏( ﺍﻟْﺤَﺞ : 29 ‏)
ﻗَﺎﻝَ : ﺍﻟﺘَّﻔَﺚُ ﺍﻟﺤَﻠْﻖ ﻭﺍﻟﺘّﻘﺼﻴﺮ ﻭﺍﻷﺧﺬُ ﻣﻦ ﺍﻟﻠّﺤﻴﺔ ﻭﺍﻟﺸّﺎﺭﺏ ﻭﺍﻹﺑﻂ، ﻭﺍﻟﺬّﺑْﺢ ﻭَﺍﻟﺮَّﻣْﻲ .
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻓﺮﻣﺎﻥ } ﺛُﻢَّ ﻟْﻴَﻘْﻀُﻮﺍْ ﺗَﻔَﺜَﻬُﻢْ { ﮐﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ : ﺗﻔﺚ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﺣﻠﻖ،ﺗﻘﺼﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﮌﯼ،ﻣﻮﻧﭽﮫ ﺍﻭﺭﺑﻐﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﺎﭨﻨﺎ ، ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻣﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔
‏( ﺗﻬﺬﻳﺐ ﺍﻟﻠﻐﺔ ﻟﻤﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ‏( ﺍﻟﻤﺘﻮﻓﻰ : 370 ﻫـ ‏) 190/14 ‏) ‏( ﺳﻨﺪﻩ ﺻﺤﯿﺢ ‏)
ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ : ‏( ﺍﻟﺘﻔﺚ ﺍﻟﺤﻠﻖ ﻭﺍﻟﺘﻘﺼﻴﺮ ﻭﺍﻟﺮﻣﻲ ﻭﺍﻟﺬﺑﺢ ﻭﺍﻷﺧﺬ ﻣﻦ ﺍﻟﺸﺎﺭﺏ ﻭﺍﻟﻠﺤﻴﺔ ﻭﻧﺘﻒ ﺍﻹﺑﻂ ﻭﻗﺺ ﺍﻹﻇﻔﺎﺭ ‏)
‏( ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﻟﻠﻨﺤﺎﺱ : 4/400 ‏) ‏( ﺳﻨﺪﻩ ﺻﺤﯿﺢ ‏)
ﺛﻨﺎ ﻫﺸﻴﻢ، ﻗﺎﻝ : ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ، ﻋﻦ ﻋﻄﺎﺀ، ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ، ﻓﻲ ﻗﻮﻟﻪ : ‏( ﺛُﻢَّ ﻟْﻴَﻘْﻀُﻮﺍ ﺗَﻔَﺜَﻬُﻢْ ‏) ﻗﺎﻝ : ﺍﻟﺘﻔﺚ : ﺣﻠﻖ ﺍﻟﺮﺃﺱ، ﻭﺃﺧﺬ ﻣﻦ ﺍﻟﺸﺎﺭﺑﻴﻦ، ﻭﻧﺘﻒ ﺍﻹﺑﻂ، ﻭﺣﻠﻖ ﺍﻟﻌﺎﻧﺔ، ﻭﻗﺺّ ﺍﻷﻇﻔﺎﺭ، ﻭﺍﻷﺧﺬ ﻣﻦ ﺍﻟﻌﺎﺭﺿﻴﻦ، ﻭﺭﻣﻲ ﺍﻟﺠﻤﺎﺭ، ﻭﺍﻟﻤﻮﻗﻒ ﺑﻌﺮﻓﺔ ﻭﺍﻟﻤﺰﺩﻟﻔﺔ . ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﻟﻄﺒﺮﯼ : 612/18 ،ﺳﻨﺪﻩ ﺻﺤﯿﺢ ‏)
ﺃَﺑُﻮ ﺑَﻜْﺮٍ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺷﯿﺒﺔ ﻗَﺎﻝَ : ﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﺑْﻦُ ﻧُﻤَﻴْﺮٍ، ﻋَﻦْ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟْﻤَﻠِﻚِ، ﻋَﻦْ ﻋَﻄَﺎﺀٍ، ﻋَﻦِ ﺍﺑْﻦِ ﻋَﺒَّﺎﺱٍ ﻗَﺎﻝَ : ‏« ﺍﻟﺘَّﻔَﺚُ ﺍﻟﺮَّﻣْﻲُ، ﻭَﺍﻟﺬَّﺑْﺢُ، ﻭَﺍﻟْﺤَﻠْﻖُ، ﻭَﺍﻟﺘَّﻘْﺼِﻴﺮُ، ﻭَﺍﻟْﺄَﺧْﺬُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﺎﺭِﺏِ ﻭَﺍﻟْﺄَﻇْﻔَﺎﺭِ ﻭَﺍﻟﻠِّﺤْﻴَﺔِ ‏»
ﻣﺼﻨﻒ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺷﯿﺒﺔ : 429/3 ، 15673 ﺳﻨﺪﻩ ﺻﺤﻴﺢ،ﺳﻠﺴﻠﺔ ﺍﻷﺣﺎﺩﻳﺚ ﺍﻟﻀﻌﻴﻔﺔ، 376/5 ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ : 2355 ،
ﮔﻮﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﯿﺪﻧﺎﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺮ ﻣﻨﮉﻭﺍﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﯾﺎﺳﺮ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻝ ﮐﺎﭨﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ،ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺍﮌﯼ ﮐﮯ ﻣﺸﺖ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﺑﺎﻝ،ﻣﻮﻧﭽﮫ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺮ ﻧﺎﻑ ﺑﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﭨﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ،ﺭﻣﯽ،ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﻧﺎﺍﻭﺭ ﻧﺎﺧﻦ ﮐﺎﭨﻨﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﻔﺚ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﺗﻔﺚ ﮐﯽ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﺑﮭﯽ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ،ﺍﻣﺖ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ " ﺗﺮﺟﻤﺎﻥ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ " ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﻮﺋﯽ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺣﺪﯾﺚ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ :
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﻣﺠﮭﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺍﺳﮯ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ !
ﺻﺤﻴﺢ ﺑﺨﺎﺭﻱ ، ﻛﺘﺎﺏ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ، ﺑﺎﺏ : ﺫﻛﺮ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ ، ﺣﺪﯾﺚ : 3801
ﮐﺌﯽ ﺑﺮﺣﻖ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ " ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻟﻤﻔﺴﺮﯾﻦ " ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﮔﻮﻳﺎ ﺍﻥ ﻛﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻛﺮﻡ ﷺ ﻧﮯ ﺗﻔﺴﻴﺮ ﻗﺮﺍٓﻥ ﻛﺎ ﺳﺮﭨﻴﻔﻜﻴﭧ ﺩﻳﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻋﻠﻢ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ، ﮨﺮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺗﻔﺴﯿﺮﯼ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻣﺴﻠﻢ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﻣﺸﮑﻞ ﺁﯾﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﻌﯿﺪ ﺑﻦ ﺟﺒﯿﺮﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﺟﯿﺴﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﮨﯿﮟ۔
ﯾﮩﯽ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮐﻮ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺮﻓﻮﻉ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮐﻮ ﺳﻨﺪ ﮐﮯ ﺿﻌﯿﻒ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺮﻓﻮﻉ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮ ﺷﮩﯿﺮ ﺟﻠﯿﻞ ﺍﻟﻘﺪﺭ ﺗﺎﺑﻌﯽ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﺑﻦ ﺟﺒﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺍٓﯾﺖ ‏( ﺛُﻢَّ ﻟْﻴَﻘْﻀُﻮﺍ ﺗَﻔَﺜَﻬُﻢْ ‏) ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ۔ ‏( ﻃﺒﺮﯼ ﻻﺑﻦ ﺟﺮﻳﺮ : ‏( 17/149 ‏) ﻭ‏( 17/149 ‏) ﺑﺴﻨﺪ ﺣﺴﻦ .
ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﺗﻮ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻃﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ : )) ﻭﻛﺎﻥ ﺍﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺇﺫﺍ ﺣﺞ ﺃﻭ ﺍﻋﺘﻤﺮ ﻗﺒﺾ ﻋﻠﻰ ﻟﺤﻴﺘﻪ ﻓﻤﺎ ﻓﻀﻞ ﺃﺧﺬﻫﺎ (( ‏( ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ : ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ : 5892 ‏)
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺟﺐ ﺣﺞ ﯾﺎ ﻋﻤﺮﮦ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﭩﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺘﮯ ﺟﻮ ﻣﭩﮭﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮈﺍﻟﺘﮯ ۔
)) ﺃﻥ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻛﺎﻥ ﺇﺫﺍ ﺃﻓﻄﺮ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻭﻫﻮ ﻳﺮﻳﺪ ﺍﻟﺤﺞ ﻟﻢ ﻳﺄﺧﺬ ﻣﻦ ﺭﺃﺳﻪ ﻭﻻ ﻣﻦ ﻟﺤﻴﺘﻪ ﺷﻴﺄ ﺣﺘﻰ ﻳﺤﺞ (( ‏( ﻣﻮﻃﺄ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺎﻟﮏ : ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ :
1396
ﺳﻴﺪﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺟﺐ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺞ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﻧﮧ ﮐﺎﭨﺘﮯﺗﮭﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺣﺞ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺗﮯ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺷﻮﺍﻝ ﺍﻭﺭ ﺫﯼ ﻗﻌﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﺮﮦ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺞ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺘﺮﺍﺗﮯ ﺗﮭﮯ ،ﺑﺎﻗﯽ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻀﮯ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﺯﺍﺋﺪ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺘﺮﺍﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﭼﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﻋﻤﺮ،ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ،ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺑﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮ ﮨﺮﯾﺮﮦ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺭﻭﺍۃ ﮨﯿﮟ ،ﻟﮩﺬﺍ ﻭﮨﯽ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﺻﻮﻝ ﻓﻘﮧ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﺻﻮﻝ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ : ﺍﻟﺮَّﺍﻭِﻱ ﺃﺩﺭﻯ ﺑِﻤَﺎ ﻳﺮﻭﻳﻪِ ﻭَﺃﻋﺮﻑ
‏( ﺇﺟﺎﺑﺔ ﺍﻟﺴﺎﺋﻞ ﺷﺮﺡ ﺑﻐﻴﺔ ﺍﻵﻣﻞ، ﺍﻣﻴﺮ ﺻﻨﻌﺎﻧﻲ 419: ‏)
ﯾﻌﻨﯽ ﺭﺍﻭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺩﮦ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﺭﺍﻭﯼ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻣﻌﻨﯽ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﻋﻔﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﯽ ﺍ ﯾﮏ ﻣﺸﺖ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ،ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺧﻼﻝ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﺮﺟﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﮨﮯ،ﻭﮦ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﺳﮯ ﺍﻋﻔﺎﺀﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﮐﺎﻥ ﻫﺬﺍ ﻋﻨﺪﻩ ﺍﻹﻋﻔﺎﺀ،ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﺖ ﺩﺍﮌﯼ ﮨﯽ ﺍﻋﻔﺎﺀ ﮨﮯ۔
ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺒﺮ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
)) ﻭﻓﻲ ﺃﺧﺬ ﺑﻦ ﻋُﻤَﺮَ ﻣِﻦْ ﺁﺧِﺮِ ﻟِﺤْﻴَﺘِﻪِ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺤَﺞِّ ﺩَﻟِﻴﻞٌ ﻋَﻠَﻰ ﺟَﻮَﺍﺯِ ﺍﻟْﺄَﺧْﺬِ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻠِّﺤْﻴَﺔِ ﻓِﻲ ﻏَﻴْﺮِ ﺍﻟْﺤَﺞِّ ﻟِﺄَﻧَّﻪُ ﻟَﻮْ ﻛَﺎﻥَ ﻏَﻴْﺮُ ﺟَﺎﺋِﺰٍ ﻣَﺎ ﺟَﺎﺯَ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺤَﺞِّ ﻟِﺄَﻧَّﻬُﻢْ ﺃُﻣِﺮُﻭﺍ ﺃَﻥْ ﻳَﺤْﻠِﻘُﻮﺍ ﺃَﻭْ ﻳُﻘَﺼِّﺮُﻭﺍ ﺇِﺫَﺍ ﺣَﻠُّﻮﺍ ﻣَﺤَﻞَّ ﺣَﺠِّﻬِﻢْ ﻣَﺎ ﻧﻬﻮﺍ ﻋﻨﻪ ﻓﻲ ﺣﺠﻬﻢ، ﻭﺍﺑﻦ ﻋُﻤَﺮَ ﺭُﻭِﻱَ ﻋَﻦِ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭﺳﻠﻢ ﺃﻋﻔﻮﺍ ﺍﻟﻠﺤﺎ ﻭَﻫُﻮَ ﺃَﻋْﻠَﻢُ ﺑِﻤَﻌْﻨَﻰ ﻣَﺎ ﺭَﻭَﻯ ﻓَﻜَﺎﻥَ ﺍﻟْﻤَﻌْﻨَﻰ ﻋِﻨْﺪَﻩُ ﻭَﻋِﻨْﺪَ ﺟُﻤْﻬُﻮﺭِ ﺍﻟْﻌُﻠَﻤَﺎﺀِ ﺍﻟْﺄَﺧْﺬُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻠِّﺤْﻴَﺔِ ﻣَﺎ ﺗَﻄَﺎﻳَﺮَ ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﺃَﻋْﻠَﻢُ (( ‏( ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺒﺮ ،ﺍﻻﺳﺘﺬﻛﺎﺭ : 4/317 ‏)
ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﯾﺎﻡ ﺣﺞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﻝ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﺍﯾﺎﻡ ﺣﺞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻓﻌﻞ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻓﻌﻞ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺣﺞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﺎﮨﻮﺗﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺣﺞ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻝ ﻣﻨﮉﻭﺍﺩﯾﮟ ﯾﺎ ﮐﺘﺮﻭﺍﺩﯾﮟ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺣﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﮐﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﮨﮯ : ﺍﻋﻔﻮﺍ ﺍﻟﻠﺤﯽ ‏( ﺩﺍﮌﮬﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﺅ ‏) ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﻣﭩﮭﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﻝ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﮩﻮﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﯾﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﻝ ﻟﻴﮯ ﺟﺎﺋﻴﮟ ﺟﻮ ﺯﺍﺋﺪ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺍﮔﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑُﺮﮮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ‏( ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺮﻣﺎﻧﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ‏) ﮐﺎ ﺭﺩ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﺣﺞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺎﺹ ﺗﮭﺎ : '' ﺃَﻥ ﺑﻦ ﻋُﻤَﺮَ ﻛَﺎﻥَ ﻟَﺎ ﻳَﺨُﺺُّ ﻫَﺬَﺍ ﺍﻟﺘَّﺨْﺼِﻴﺺَ ﺑِﺎﻟﻨُّﺴُﻚِ ''
‏( ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ : 350/1o ‏)
ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ‏( ﮈﺍﮌﮬﯽ ﮐﭩﺎﻧﮯ ‏) ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺣﺞ ﮐﮯ ﺧﺎﺹ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
DAARHI BEARD 

WE WANT FREEDOM - kashmir voice

WE WANT FREEDOM - kashmir voice azaadi azadi