GOOD MORNING WORLD

تمام فیملی ممبرز کے لئے ۔
1۔نہار منہ ایک دیسی لہسن کی پھلی دو ٹکڑے کر کے پانی سے نگل لیں۔
2۔ناشتے میں دہی کا استعمال لازمی کریں۔
3۔ناشتے کے وقت ایک آملہ ایک سیب کا استعمال کریں۔
4۔گھی کی روٹی کی بجائے خشک روٹی استعمال کریں۔
5۔دن میں بارہ گلاس پانی ہر صورت پیئں۔
6۔ایک دن چھوڑ کر بلنگہ اور اسپغول چھلکا کا استعمال کریں۔
7۔ادرک۔سونف۔دار چینی۔پودینہ۔چھوٹی الائچی۔
تمام چیزیں تھوڑی مقدار میں لیں۔زیادہ نہ لیں۔انکا قہوہ بنا کے ایک ایک کپ پیئں۔تھوڑی شکر اور آدھا لیموں ملا لیں۔ایک دن چھوڑ کر ایک دن پیئں۔
صبح کے وقت بھگو کے رکھے ھوئے بادام جھیل کر کھائیں 7 عدد ۔
بوتل اور ڈبے والے جوسز ترک کر دیں۔بہت نقصان دہ ہیں۔ان کی جگہ گھر میں فریش جوسز بنا کر پیئں۔ہر گھر میں گرینڈر موجود ھیں۔کوئی مشکل نہیں۔

روزانہ اپنے ہاتھ کی ہتھلیوں اور پائوں کے تلووں پر تیل لگا کر سوئیں۔ناف میں تین قطرے تیل ڈالیں۔کافی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
پانج وقت نماز پابندی سے پڑھیں اور جو تھوڑا سا وقت جب بھی ملے اللہ کا ذکر کریں۔
اللہ ہم سب کو ایمان اور جان کی حفاظت کے ساتھ رکھے۔
آمین۔
اپنے تمام اہل خانہ
دوستوں
اور تعلقداروں 
عوام الناس کو یہ میسیج بھیجیں۔صدقہ جاریہ ھے۔

KAMZOR ROOH WEAK SOUL

کمزورروحکی_پہچان

آٹھ آٹھ گھنٹے آپ دھوپ، گرمی، سردی، دن یا رات، دفتر یا بازار میں، کھیت میں یا صحرا میں محنت مشقت کر رہے ھوں مگر آپ سے چند منٹ کی ہلکی سی محنت کے ساتھ چند رکعات نماز نہ پڑھی جائے تو سمجھ لیں کہ آپ کا جسم تو مضبوط ہے البتہ روح کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

دولت کی اچھی خاصی رقم بھی ہو، ارد گرد غریب و مستحق رشتہ دار بھی ھوں، بستی میں خود آپ کی نظر، دماغ، دل کی گواہی کے مطابق نادار لوگ بھی ھوں مگر آپ صاحبِ مال ہوتے ہوئے بھی کچھ خرچ نہ کریں یا پھر اونٹ کے منہ میں زیرہ جتنا خرچ کرکے خود کو مطمئن کر لیں تو سمجھ لیں کہ آپ کی تجوری تو مضبوط ہے مگر روح کمزور ہے. 

کمزور روح کی پہچان

اللّٰہ نے آپ کو سب کچھ دیا ہے. گر بے حساب نہیں تو بہت کچھ ضرور دیا ہے مگر آپ دس دس دن مری کی، پندرہ پندرہ دن دبئی کی، اور مہینہ مہینہ یورپ کی سیر تو کرتے ہیں مگر آپ سے حج و عمرہ نہیں ہوتا تو سمجھ لیں کہ لوگوں سے آپ کے تعلقات تو مضبوط ہیں مگر روح پیدا کرنے والے رب سے اور اس کی روح سے آپ کا تعلق کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

قبرستان کے پاس سے گزریں تو قبر کا خوف نہ ستائے، یا قبر والوں کا حق دینا آپ کو اہم نہ لگے، یا قبروں کی مٹی آپ کو محض مٹی کا ڈھیر لگے. روزانہ کے اٹھتے جنازے آپ کو غمگین نہ کریں. قبر کی تنہائی میں ڈالا جانا بے چین نہ کرے تو سمجھ لیں کہ آپ کی روح کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

آپ کی محفل میں کسی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہو اور اس زیادتی کو روکنے کیلئے آپ کا کسی نہ کسی درجے میں بس بھی چلتا ہو مگر آپ ٹس سے مس نہیں ہوتے تو سمجھ لیں کہ آپ کی روح کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

صاحبِ عہدہ یا صاحبِ مال چودھری آدھی آدھی رات کو فضول کام کے لیے بلائے تو آپ دوڑتے ہوئے جائیں مگر مجبور لاچار بے بس خود آپ کے دروازے پر چل کر آئے اور آپ اس کی بات سننے کے لیے خود اپنے دروازے تک نہ آئیں تو سمجھ لیں کی آپ کی روح کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

روزانہ گھنٹوں ڈائجسٹ پڑھ سکیں، فلم بینی کر سکیں، گیمز کھیل سکیں، مگر قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ نہ کر سکیں تو سمجھ لیں کہ آپ کی روح کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

حلال کاروبار سے روزانہ ہزاروں کما کر، دوستوں کی مجلس میں روزانہ سینکڑوں لگا کر، رسم و رواج میں لاکھوں لگا کر جب کسی غریب کو دو وقت کی دال روٹی کبھی نہ دے سکیں تو سمجھ لیں کہ آپ کی روح کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

دین سے محبت نہ ہو، دیندار کی عزت نہ ہو، نیکی پہ استوار اولاد کی تربیت نہ ہو، بود و باش مسلمانی نا ہو، نیکوں کی صحبت میں دلچسپی نہ ہو  تو سمجھ لیں کہ آپ کی روح کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

خود کو مال کے ساتھ اعلیٰ سمجھیں، غریب کو گندگی کا نالہ سمجھیں، تکبر زدوں کو خود کا ہم پیالہ سمجھیں، روزِ حساب سے خود کو بالا سمجھیں، تو سمجھ لیں کہ آپ کی روح کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

جب جھوٹ بطورِ عادت بولا جاتا ہو، ناچ گانے مستی میں وقت گزر جاتا ہو، موسیقی کو روح کی غذا سمجھا جاتا ہو، اذان کو آوازِ بٙلا سمجھا جاتا ہو، بے دینی کو اقدارِ حیاء سمجھا جاتا ہو، حق بات کو ناروا سمجھا جاتا ہو تو سمجھ لیں کہ آپ کی روح کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

*حقدار کمزور کے خلاف آپ کی گواہی ہو، ظالم یا ناحقدار کے ساتھ آپ کی ساز باز ہو، سادہ لوح کو لُوٹ کر طبیعت ہشاش  بشاش ہو، خدا کو بھول کر آپ کو نیند جب آپ کو راس آتی ہو 
تو سمجھ لیں کہ آپ کی روح کمزور ہے.

کمزور روح کی پہچان

*نیکی ہمیشہ سے روح کی غذا ہے، بات یہ عام فہم اور سادہ ہے، پھر آپ کی سوچ کیوں جدا ہے؟ 
کیا اللہ کے سوا آپ کا کوئی دوسرا اللہ ہے؟

بات اگر یہی ہے:

تو پھر سمجھ لیں کہ آپ کی روح کمزور ہے

Umhaat ul mumineen Ummat kee Maayen

Umhaat ul mumineen Ummat kee Maayen

Mahshar Mein Ruswa Wohee hoga Asif Sayyida Zahra ke bachchon sey jise adaawat hogi

Mahshar Mein Ruswa Wohee hoga Asif Sayyida Zahra ke bachchon sey jise adaawat hogi

all elements is the creation of #asifart

KHasra sey bachen DHO Office Gujranwala

محکمہ صحت ضلع گوجرانوالہ کی جانب سے اہم اعلان :
خسرہ ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہونے والا وبائی مرض ہے جو بہت جلد پورے علاقہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ سال 2018 میں خسرہ کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر محکمہ صحت نے خسرہ جیسے موذی مرض کے خلاف مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ 15 اکتوبر سے شروع ہو کر 27 اکتوبر تک جاری رہے گی اس دوران محکمہ صحت ضلع گوجرانوالہ کی ٹیمیں ہر گلی محلہ اور سکول میں جا  کر اور  مراکز صحت پر بیٹھ کر 06 ماہ سے لے کر7 سات سال تک کے تمام بچوں کو خسرہ سے بچاو کے ٹیکے لگائیں گی، آپ سے گزارش ہے کہ اپنی یونین کونسل میں ٹیموں کے شیڈول سے آگاہی حاصل کریں اور جس دن  ٹیم آپ کے محلہ میں خسرہ سے بچاو کے ٹیکے لگانے آئے اس دن اپنے 06 ماہ سے لے کر07سات سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو خسرہ سے بچاو کے ٹیکے ضرور لگوائیں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی اس پیغام سے آگاہ کریں۔ مہم کے بارے میں مزید معلومات کے لئے مندرجہ ذیل آفس پر رابطہ کریں

CEO Office Gujranwala

DHO Office

 ☆ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی گوجرانوالہ

یہ پیغام عوام الناس کی خدمت کے لئے جاری کیا گیا اس کو فیس بک، وٹس ایپ اور دوسرے سماجی رابطوں کے ذریعہ ذیادہ سے ذیادہ پھیلائیں تا کہ ضلع گوجرانوالہ اور دیگر اضلاع کے  تمام بچے خسرے جیسے موذی مرض سے نجات پا سکیں شکریہ

SUNNAT E IBRAHIM AND SUNNAT E MUSTAFA

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﺧﺮﯾﺪﺍ. ﺍس میں پھلوں کا ایک باغ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ. 
ﭘﮍﻭﺱ ﮐﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﮍﻭﺱ ﮐﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﺑﮭﺮ ﻛﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ.

ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﻟﯽ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﭘﮭﻞ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﮔﮭﻨﭩﯽ ﺑﺠﺎﺋﯽ. ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ. ﻟﮩﺬﺍ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻟﮕﮯ.
ﻣﮕﺮ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ، ﻭﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﮔﺌﮯ.ﺭﺳﯿﻠﯽ ﺗﺎﺯﮦ ﭘﮭﻞ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﯼ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﺌﮯ ﻧﯿﺎ ﭘﮍﻭﺳﯽ، ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ.

ﺳﺐ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ !

پڑوسی نے کہا.... ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﮭﺎ، ﻭﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻻ ﺳﮑﺎ... ﺳﭻ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﻮ ﮨﮯ، ﻭﮨﯽ ﻭﮦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ....!

ﺫﺭﺍ ﺳﻮﭼﯿﮟ، ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ..؟


دانا بزرگ کہاکرتے ہینکہ پتر
جانوروں کو ذبح کرنا سنت ابراھیم علیہ السلام
اور 
‏نفرتوں کو ذبح کرنا سنتِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم ھے ۔

MAREEZ BY RUMI

رومی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں :” مریض ِ محبت کو اگر چارہ ساز سے نسبت قلبی نہ ہو تو سب چارہ سازی حجاب ہے“ صوفیاءکرام کی تعلیمات کے سلسلے میں ایک اہم تعلیم اس امر کا مشاہدہ دل میں بٹھا دینا ہے کہ انسان آخر ایک دن ﷲ کی طرف لوٹ جائے گا کیونکہ وہ ﷲ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سے آیا ہے۔ روزمرہ زندگی کے معمولات اور مشغولات میں انسان اس قدر کھو جاتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے روزانہ کئی لوگوں کو مرتے دیکھتا ہے‘ جنازے میں شرکت کرتا ہے بلکہ اُن کو ان کے مقابر میں اتارنے کے لیے قبرستان میں موجود ہوتا ہے مگر اس کے دل میں یہ خیال بھولے سے بھی نہیں آتا کہ آخر ایک دن یہ پراسیس اس کے ساتھ بھی ہونا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مختلف النوع نفسانی آلائشوں سے اس کے دل پر زنگ کا ایک پردہ چڑھ جاتا ہے جو اسے حق اور حقیقت کی موجودگی کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ شروع شروع میں یہ حجاب عارضی ہوتا ہے اور اس کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ کوئی صاحب ِ نظر اس شخص کی تربیت کر کے اسے دور کر سکتا ہے۔ بعد میں یہ پردہ پکا ہو جاتا ہے اور پھر قلب پر ایک ایسی مہر لگ جاتی ہے کہ جو انسان کو ہمیشہ کے لیے غفلت اور طاغوت میں داخل کر دیتی ہے۔ غفلت کے اس پردے کو چاک کرنے کے لیے پیرِ کامل اپنے مرید کو ایک خاص کیفیت کا مشاہدہ کراتا ہے جس کے ذریعے اس کا قلب زندہ اور بیدار ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو صوفیاء کرام "موتوا قبل ان تموتو" یعنی ”موت سے پہلے مر جانا“ کہتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ اور دقیق مسئلہ ہے جو عام اذہان کی سمجھ اور بس کی بات نہیں۔
جب اس سلسلے میں جناب ِ واصف علی واصف سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی وضاحت میں مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کی یہ حکایت اس طرح بیان فرمائی: ”ایک آدمی نے طوطا رکھا ہوا تھا۔ طوطا باتیں کرتا تھا۔ اس آدمی نے کہا کہ میں دور کے سفر پر جا رہا ہوں‘ وہاں سے کوئی چیز منگوانی ہو تو بتا۔ طوطے نے کہا کہ وہاں تو طوطوں کا جنگل ہے‘ وہاں ہمارے گُرو رہتے ہیں‘ ہمارے ساتھی رہتے ہیں‘ وہاں جانا اور گرو طوطے کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ایک غلام طوطا‘ پنجرے میں رہنے والا ‘ غلامی میں پابند‘ پابند ِ قفس ‘ آپ کے آزاد طوطوں کو سلام کرتا ہے۔ سوداگر وہاں پہنچا اور اس نے جا کر یہ پیغام دیا۔ اچانک جنگل میں پھڑ پھڑ کی آواز آئی‘ ایک طوطا گِرا‘ دوسرا گِرا اور پھر سارا جنگل ہی مر گیا۔ سوداگر بڑا حیران کہ یہ پیغام کیا تھا‘ قیامت ہی تھی۔ اداس ہو کے چلا آیا۔ واپسی پر طوطے نے پوچھا کہ کیا میرا سلام دیا تھا؟ اس نے کہا کہ بڑی اداس بات ہے‘ سلام تو میں نے پہنچا دیا مگر تیرا گرو مر گیا اور سارے چیلے بھی مر گئے۔ اتنا سننا تھا کہ وہ طوطا بھی مر گیا۔ سوداگر کو بڑا افسوس ہوا۔ اس نے مردہ طوطے کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ طوطا فوراً اُڑ گیا اور شاخ پر بیٹھ گیا۔ اس نے پوچھا یہ کیا؟ طوطے نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے اپنے گُرو طوطے سے پوچھا تھا کہ پنجرے سے بچنے کا طریقہ بتا۔
 اس نے کہا کہ مرنے سے پہلے مر جا۔ 
اور جب میں مرنے سے پہلے مر گیا تو پنجرے سے بچ گیا“

10 TIPS FOR EVERY WIFE - کامیاب بیوی بننے کے لیے دس تجاویز

کامیاب بیوی بننے کے لیے دس تجاویز

ایک سمجھدار عورت نے اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت کچھ مفید نصیحتیں کیں  جو ہر رخصت ہونے والی بیٹی کے نئے گھر کو امن کا گہوارا بناسکتی ہے :ـ

 اے بیٹی، تو ایک دوست ماحول اور وطن سے دور اجنبی ماحول میں جا رہی ہے، جسے توجانتی نہیں  ،  ایک ایسے ساتھی کے ہاں تجھے جانا ہے جس کے ساتھ تو مانوس نہیں  ۔ میری چند باتیں یاد رکھنا: ـ

پہلی بات :  اپنے شوہر کے ساتھ قناعت اور سادگی سے زندگی گزارنا ، اس کی بات غور سے سننا اور اطاعت کرنا کیونکہ قناعت میں دل کو راحت پہنچتی ہے اور اطاعت و فرمانبرداری میں خاوندخوش ہوتا ہے ۔

دوسری بات  : کوشش کرنا  کہ تجھ سے خاوند کی مرضی کے خلاف کوئی بات سرزد نہ ہو ۔ اگر  غلطی سے ہو بھی  جائے تو  غلطی کی تلافی کی  بھرپور کوشش کرنا ۔

تیسری بات :  خوب بناؤ سنگھار کرنا مگر صرف اپنے خاوند کے لیے ، تیرا خاوند تجھے صاف ستھرے اور مہکتے لباس میں ہی ملبوس دیکھے۔

چوتھی بات  : اس کے کھانے کے وقت کا خیال رکھ ، سونے کے وقت بھی اس کے آرام کا خیال رکھ کیونکہ بھوک کی شدت ناقابل برداشت ہوتی ہے اور نیند سے اچانک جاگنا غصے کا سبب ہوتا ہے  ۔

پانچویں بات :  ہمیشہ اس کے مال کی حفاظت کرنا ہے یعنی اس کو اپنا مال سمجھنا اور اسے صحیح جگہ خرچ کرنا ۔۔۔ فضول خرچی سے بچتے رہنا ۔

 چھٹی بات : اس کے رشتے داروں اور خاندان کا لحاظ رکھنا ،کیونکہ مال کی حفاظت حسن ترتیب اور رشتے داروں اور خاندان کی رعایت حسن انتظام کی علامت ہے ۔

ساتویں بات : اس کے رازوں کو ظاہر نہ کرنا ، یعنی گھر کی بات کو گھر  تک رکھنا باہر کسی  غیر سے مت کرنا  کہ یہ بات تم دونوں میں جدائی کا سبب بن سکتی ہے ۔

آٹھویں بات : اس کے حکم کی نافرمانی نہ کرنا ، اگر نافرمانی کی،تو اس کے غصے کو بھڑکا دے گی  اور یہ چیز تیرے لیے انتہائی نقصان کا باعث ہو سکتی ہے ۔

نویں بات :  تجھے اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تمام چیزیں، تو اپنے خاوند سے اس وقت تک حاصل نہ کر سکے گی جب تک کہ تو  تمام معاملات میں اپنے خاوند کی خواہش اور رضا کو اپنی مرضی پر ترجیح نہ دے ۔

دسویں بات :  اس گھر کو اپنا گھر سمجھنا  ، اس کے ماں باپ کو اپنے ماں باپ سمجھنا   تا کہ تیری اجنبیت جلد از جلد مانوسیت میں بدل جائے ۔۔۔ جو تیرے وہاں رہ سکنے کے لیے لازمی ہے ۔


اللہ تعالیٰ تجھے اپنی رحمت کے سائے میں رکھے اور تم دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈال دے ،،، آمین 
​​​●┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈●​​​
​​

strange photo ajeeb tasveer

بے عیب تصویر


کہنے کو تو بادشاہ انصاف پسند اور عوام کے دکھ سکھ کو سمجھنے والا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ سے لنگڑا اور ایک آنکھ سے کانا تھا۔
ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا۔
اور وہ بھی اس شرط پر، کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔
سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔
اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے کانا،
اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سےبھی لنگڑا تھا۔
لیکن اس اجتماعی انکار میں ایک مصور نے کہا: بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر۔
اور جب تصویر تیار ہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اور شاہکار تھی۔
وہ کیسے؟؟
تصویر میں بادشاہ شکاری بندوق تھامے نشانہ باندھے ، جس کیلئے لا محالہ اُسکی ایک (کانی) آنکھ کو بند ،
اور اُسکے (لنگڑی ٹانگ والے) ایک گھٹنے کو زمیں پر ٹیک لگائے دکھایا گیا تھا۔
اور اس طرح بڑی آسانی سے ہی بادشاہ کی بے عیب تصویر تیار ہو گئی تھی۔
کیوں ناں ہم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویر بنا لیا کریں
خواہ انکے عیب کتنے ہی واضح ہی نظر آ رہے ہوا کریں!!
اور کیوں ناں جب لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں…. اُنکے عیبوں کی پردہ پوشی کر لیا کریں!!
آخر کوئی شخص بھی تو عیبوں سے خالی نہیں ہوتا!!
اِلَّا ماشآءاللّٰه ۔
کیوں نہ ہم اپنی اور دوسروں کی مثبت اطراف کو اُجاگر کریں اور منفی اطراف کو چھوڑ دیں…… اپنی اور دوسروں کی خوشیوں کیلئے!!
ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث پاک کا ملخص اور مفہوم ہے کہ
(جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا)

Hujjaj by Gulistan e Saadi

حجاج کرام کے لئے سبق آموز حکایت

شیخ سعدی شیرازی لکھتے ہیں :
ایک سال کچھ حجاج پیادہ (پیدل) حج کوجا رہے تھے میں بھی ان کے ساتھ تھا دوران سفر ہمارا کسی بات پرآپس میں جھگڑا ہو گیا اورخوب مارپیٹ ہوئی اور لڑائی جھگڑے کی حد کردی میں نے دیکھا کہ ایک اونٹ پر سوار آدمی اپنے ساتھ بیٹھے ساتھی سے کہہ رہا تھا
بڑے تعجب کی بات ہے کہ شطرنج کا پیادہ جب شطرنج کی بساط کو طے کر لیتا ہے تو (ترقی پا کر ) وزیر بن جاتا ہے اور یہ پیادہ حاجی پورا جنگل طے کر آئے ہیں مگر پہلے حال سے بھی برے بن گئے ہیں

از من بگوئ حاجی مردم گزائے را
کو پوستین خلق بآزار می درد
حاجی تو نیستی شتر است برائے آنکہ
بیچارہ خار می خورد و بار می برد

لوگوں کو ستانے اور تکلیف دینے والے حاجی کو میری طرف سے کہہ دو کہ تو حاجی نہیں ہے بلکہ تمہارا اونٹ حاجی ہے کہ جو راستے کے کانٹے سہتا رہا اور بوجھ اٹھاتا رہا (وہ کسی کی تکلیف کا باعث تو نہیں بنا )

گلستان سعدی باب۷ حکایت ۱۲

Hujjaj by Gulistan e Saadi
#Hajj #hujjaj

Aaj Kal ki Shaadian - Shaadi by DawateIslami

آج کل کی شادیاں

اگر غور کیا جائے تو اخراجات کی اصل وجہ شادی نہیں بلکہ خواہ مخواہ کی رسومات ہیں جو ہمارے کلچر میں بری طرح اتر چکی ہیں۔ اگر ہم مایو ، مہدی ، منگنی ، جہیز اور دیگر فرسودہ رسومات سے جان چھڑا لیں اور صرف نکاح اور ولیمہ پر اکتفا کرلیں تو بڑی آسانی ہوجائے گی ۔۔۔ 
مہنگے زیورات ، مہنگا جہیز، مکلاوا، جوتی چھپائی، دودھ پلائی، سسرال کے جوڑے لگائی اور سب رشتے داروں کی مٹھائی اور بِد بھجائی جیسی جتنی زیادہ رسمیں ہم پال چکے ہیں اتنی ہی زیادہ ٹینشنیں، رشتے داروں کی باتیں اور ناراضگیاں بھی مول لے رہے ہیں ۔
لیکن قصوروار کون۔۔۔؟ ہماری خواہ مخواہ کی انا، ہمارا معاشرہ، ہندووانہ رسمیں اور لوگوں کی باتوں اور سوچ کا ڈر ۔۔۔ کہ "لوگ کیا سوچیں گے۔۔۔ ؟"
اسی لئے اب والدین کے لئے سب سے بڑی ذمہ داری اولاد بیاہنے کی ہوتی ہے اور وہ ان تین چار دنوں میں ساری عمر کی کمائی لگا دیتے ہیں۔ ایک نئی زندگی تو شروع ہوجاتی ہے لیکن پرانی زندگی کا خون چوس کر۔۔۔
شادی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے رشتے کی تلاش سے۔ رشتے کروانے والے خوب پیسے بٹورتے ہیں۔۔۔ 
رشتہ طے ہونے کے بعد مبارکباد کے نام پر مٹھائی کھلائی جاتی ہے اور لڑکا ،لڑکی والے ایک دوسرے کو نقد رقم دے کر بات پکی کرتے ہیں ۔ 
منگنی کی تاریخ طے ہو تو دلہن کے لئے سونے کی انگوٹھی اور سسرال والوں کے لئے بھی جوڑے ۔ ناک رکھنے کے لئے اچھے کھانوں کا اہتمام ۔۔۔
منگنی کے بعد ڈیٹ فکس کرنے کی روایت الگ جس میں لڑکی والوں کو دعوت کے ساتھ رقم دی جاتی ہے۔ لڑکی والے لڑکے والوں کی مٹھائی سے تواضع کرتے ہیں۔
یہاں سے شادی کی شاپنگ کےدن شروع۔۔۔ لڑکی والوں کی کمر تو پہلے جہیز اور زیور توڑتا ہے ۔ دلہا دلہن کے جوڑے، جوتیاں، سسرالیوں کے لئے ان سلے کپڑے، مایو مہندی کا سامان، شادی کارڈ چھپوانا، بارات والوں کو بلاوے سمیت دعوت طعام کابھرپور انتظام ۔ 
شادی کی دعوت آپ ایس ایم ایس پر نہیں دے سکتے۔ خود گھر گھر جانا پڑتا ہے۔ 
پہلے مایو اور پھر مہندی پر رقم اجڑتی ہے ، بارات میں گاڑی والے کا خرچہ، ڈھول باجے ، پیسے لٹانا ، شادی ہال ، مووی میکر، فوٹو گرافر اور کھانےوغیرہ کا خرچہ۔
ولیمے کے دن لڑکے والے ایک ہاتھ آگے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات مقروض بھی ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔
یہ سب ہماری غلطیاں ہیں جو ہماری نسلوں کے لیے مسائل کھڑے کرتی جا رہی ہیں ۔۔۔ ہمیں ان فضول رسموں کو ترک کر کے ایسی رسمیں بنانی چاہئیں جن میں خرچہ کم سے کم ہو تاکہ غریب کا بھرم بھی رہ جائے اور اہم فریضہ بھی انجام پاجائے۔ نکاح بہت پیاری سنت ہے اسے فرسودہ رسومات کی وجہ سے مشکل نہ بنائیں ۔۔۔


Aaj Kal ki Shaadian - Shaadi by DawateIslami (منجانب : سوشل میڈیا ، دعوتِ اسلامی)

Baghdad City Bazaar aur ek Halwai

بغداد کے بازار میں ایک حلوائی صبح صبح اپنی دکان سجا رہا تھا کہ ایک فقیر آنکلا تو دکاندار نے کہا کہ باباجی آؤ بیٹھوفقیر بیٹھ گیا تو حلوائی نے گرم گرم دودھ فقیر کو پیش کیا. فقیر نے دودھ پی کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس حلوائی کو کہا کہ بھائی تیرا شکریہ اور یہ کہہ کرفقیرچل پڑا۔
بازار میں ایک فاحشہ عورت اپنے دوست کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ کر موسم کا لطف لے رہی تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی، بازار میں کیچڑ تھا، فقیر اپنی موج میں بازار سے گزر رہا تھا کہ فقیر کے چلنے سے ایک چھینٹا اڑا اورفاحشہ عورت کے لباس پر گر گیا۔ جب یہ منظر فاحشہ عورت کے دوست نے دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔ وہ اٹھا اور فقیر
کے منہ پرتھپڑ مارا اور کہا کہ فقیر بنے پھرتے ہو، چلنے پھرنے کی تمیز نہیں؟
فقیر نے ہنس کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا
مالک تو بھی بڑا بے نیاز ہے، کہیں سے دودھ پلواتا ہے اور کہیں سے تھپڑ مرواتا ہے.. یہ کہہ کر فقیر آگے چل پڑا،
فاحشہ عورت چھت پر جارہی ہوتی ہے تو اس کا پاؤں پھسلتا ہے اور زمین پر سر کے بل گر جاتی ہے، اس کو ایسی شدید چوٹ لگتی ہے کہ موقع پر ہی فوت ہوجاتی ہے۔
شور مچ گیا کہ فقیر نے آسمان کی طرف منہ کر کے بدعا دی تھی، جس کی وجہ سے یہ قیمتی جان چلی گئی
فقیر ابھی بازار کے دوسرے کونے تک نہیں پہنچ پائے تھے کہ لوگوں نے فقیر کو پکڑ لیا اور کہا کہ بڑے فقیر بنے پھرتے ہو، حوصلہ بھی نہیں رکھتے ہو
فقیرنے کہا کہ کیا ہوا میاں؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے بددعا دی اور عورت کی جان چلی گئی
فقیرنے کہا کہ واللہ میں نے تو کوئی بددعا نہیں دی تو لوگوں نے ضد کی اور کہا کہ نہیں تیری بددعا کا کیا دھرا ہے۔
جب لوگوں نے ضد کی تو فقیر نے کہا کہ اصل بات پوچھتے ہو تو میں نے کوئی بددعا نہیں کی، یہ یاروں یاروں کی لڑائی ہے.لوگوں نے کہا کہ وہ کیا؟ فقیر نے کہا کہ جب میں گزر رہا تھا اور میرے پاؤں سے چھینٹا اڑا اور اس عورت کے لباس پر پڑا تو اس کے یار کو غصہ آیا، اس نے مجھے مارا تو پھر میرے یار کو بھی غصہ آگیا.۔۔

Pakistan mein hum jins parast larkion ki sargarmian sana ghauri sana ghori



پاکستان میں ہم جنس پرست لڑکیوں کی سرگرمیاں
..................................
”آپ ثناء غوری ہیں؟ “
”جی“
”میں آپ کے شو دیکھتی ہوں ٹی وی پر“
”اچھا، شکریہ“
جواب دے کر میں اپنی خریداری میں پھر مصروف ہوگئی۔
”میں سوشل میڈیا پر بھی آپ کو فالو کرتی ہوں۔ آپ کا گیٹ اپ مجھے بہت اپیل کرتا ہے۔ “

وہ ایک بار پھر مجھ سے مخاطب ہوئی۔ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ اس کی عمر چھبیس ستائیس کے قریب ہوگی، میں جس شاپنگ سینٹر میں موجود تھی وہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں واقع ہے۔ میں کاسمٹکس خرید رہی تھی، لہٰذا غور سے ہر چیز پر لکھی تحریر پڑھتی جارہی تھی۔ اتنے میں وہ اچانک میرے قریب آکر مخاطب ہوگئی۔ اس کا لباس کافی ماڈرن تھا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس نے بڑی مشکل سے خود کو لباس میں پھنسا رکھا تھا، ایسے میں اس کا کہنا کہ آپ کا گیٹ اپ مجھے اپیل کرتا ہے، میرے لیے حیرت کی بات تھی۔

میں پھر سامان خریدنے لگی۔ وہ کافی دیر مجھے دیکھتی رہی پھر نزدیک آکر کہنے لگی،
”کیا آپ مجھ سے شادی کر سکتی ہیں؟ “

میرے لیے ایک خاتون کی طرف سے یہ سوال آنا نہایت حیرت کی بات تھی۔ میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا، اسے جواب دینے کے لیے لفظ نہیں مل رہے تھے۔ میں کوئی سخت بات کرتی لیکن مجھے اس پر رحم آگیا۔ میں نے فقط اتنا کہا کہ میں شادی شدہ ہوں۔

جواب آیا، ”اچھا ٹھیک ہے، لیکن دوستی؟ “
”نہیں مجھے اس میں بھی کوئی دل چسپی نہیں“
”ہم ساتھ کافی پی سکتے ہیں؟ “

مجھے اس کے جذبات کو لفظوں میں ڈھالنے کی جلدی تھی، شاید اسی لیے میں نے ہامی بھرلی۔ ہم لفٹ سے کافی شاپ میں چلے گئے۔ میں عام سیٹ لیتی لیکن اس نے اسموکنگ ایریا کا رخ کیا، اور بیٹھتے ہی اپنی سگریٹ سلگالی۔ شام کا وقت تھا، اور جہاں ہم تھے وہاں پورے کراچی کا منظر صاف نظر آرہا تھا۔ اس نے گفتگو کا آغاز کیا:
”ٓآپ کو حیرت ہوئی ہوگی؟ “

”ظاہر ہے حیرت کی بات تو ہے تم ایک لڑکی ہو اور کافی پڑھی لکھی سمجھ دار دکھائی دیتی ہو۔ پھر ایِسی گھٹیا سوچ۔ “
”پلیز گھٹیا مت کہیے اسے۔ میری عادت ہوگئی ہے اور میں عادت نہیں بدل سکتی۔ “

”ایک منٹ۔ تم نے کہا شادی۔ یہ شادی کیسے ہوسکتی ہے؟ کیا تم لوگ آپس میں شادی کرتے ہو۔ اور پاکستان میں تو یہ جرم بھی ہے۔ “
”شادی نہیں ہوتی ایک کنٹریکٹ ہوتا ہے جس کی پاسداری دونوں فریق کرتے ہیں“

”لیکن اس کنٹریکٹ کی کوئی قانونی حیثیت بھی تو نہیں ہوسکتی۔ “
”ہاں، نہیں ہوتی، لیکن دل کی تسلی کے لیے“
”تمھیں کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ “
”کوئی فائدہ نہیں“

”یہ تم کہہ رہی ہو ناں کہ کوئی فائدہ نہیں۔ تم چاہو تو میں تمھاری مدد کر سکتی ہوں“
”نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ “
”شادی کیوں نہیں کی تم نے“

”کی تھی گھر والوں نے۔ پھر انھیں اندازہ ہوگیا کہ مجھے خواتین میں دل چسپی ہے اور کالج کے زمانے سے ہی یہ عادت لگ گئی تھی، شادی کام یاب نہ ہوسکی۔ میں ایک پرائیویٹ فرم میں جاب کرتی ہوں۔ جاب کی مجھے ضرورت نہیں۔ بس خود کو مصروف رکھنے کے لیے کر رہی ہوں۔ “

مجھے اس پر رحم بھی آرہا تھا اور معاشرے میں پھیلتی گندگی کی بو بھی محسوس ہورہی تھی۔ میں سوچ رہی تھی ہم کسے دھوکہ دے رہے ہیں۔ سب اچھا ہے کا خول پہنے ہم کب تک خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔ میں عجیب مخمصوں کا شکار تھی۔ پوچھنا بہت کچھ چاہتی تھی لیکن لفظ حلق میں اٹک رہے تھے۔

کافی ختم ہوئی۔ اس نے مجھ سے میرا نمبر مانگا تو میں نے معذرت کرلی۔ نمبر نہ دینے پر مجھے احساسِ ندامت تھا، کیوں کہ میں اس کی کسی بھی طرح مدد کر سکتی تھی، لیکن میں بھی اسی معاشرے کی فرد ہوں، مجھے اپنا دامن بچانے کی فکر زیادہ تھی۔ اس نے اپنا کارڈ مجھے تھمایا اور یہ بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر کس نام سے ہے۔ پھر وہ چلی گئی۔ اس کے جانے کا ساتھ ہی میں نے کارڈ پھاڑ کر ایک طرف رکھ دیا۔ اور گاڑی کی چابی اٹھا کر لفٹ کا رخ کیا۔ لفٹ سے پارکنگ تک کے راستے میں اور پھر کار چلاتے ہوئے نہ جانے کتنے خیالات نے مجھے گھیرے رکھا۔

میں اس موضوع پر پہلے بھی لکھنا چاہتی تھی لیکن مجھے علم تھا کہ ایسے موضوعات وہ بھی ایک خاتون کے قلم سے کسی صورت قابل قبول نہیں ہوتے اور نہ کبھی ہوپائیں گے۔ ایسے ہی کچھ تجربات مجھے کالج لائف میں بھی ہوئے اور پھر پروفیشنل لائف میں آنے کے بعد باقاعدہ یہ راز کھلا کہ کراچی میں ایسی خواتین کا ایک منظم گروپ ہے جو باقاعدہ طور پر سرگرم ہے۔ لیکن بس بات سنی ان سنی ہوگئی کہ آخر ہمیں کیا پڑی ہے گندگی میں ہاتھ ڈالنے کی۔ شاید یہ سوچ ہی ہے کہ ہم غلط باتوں کو سامنے نہیں لاتے اور اس لیے خاموش ہوجاتے ہیں کہ ہمارے دامن پر چھینٹے آئیں گے، لیکن ایک لکھاری جواب د ہ ہے اپنے رب کے سامنے بھی کہ جب برائی دیکھی تو کچھ کہا کیوں نہیں اپنا قلم استعمال کیوں نہ کیا اور معاشرے کے سامنے بھی۔

ہم جنس پرست عورت اس عورت کو کہتے ہیں جو دوسری عورتوں کی طرف رومانوی، جذباتی یا جنسی کشش محسوس کرتی ہو۔ ہم جنس پرست عورت کے لیے انگریزی میں عام اصطلاح ’لیسبئین (lesbian)‘ استعمال کی جاتی ہے۔

اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ 3 ستمبر 2018 کو ملائیشیا میں شرعی عدالت کے حکم پر دو ہم جنس پرست خواتین کو سیکڑوں افراد کی موجودگی میں سر عام کوڑے مارے گئے اور 3 ہزار 300 رنگٹ جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ رواں برس اپریل میں اسلامک انفورسمنٹ فورس کے افسران نے دونوں خواتین کو عوامی مقام پر کھڑی کار میں قابل اعتراض حالت میں پائے جانے پر حراست میں لیا تھا اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی کے جرم میں شرعی عدالت میں پیش کیا تھا۔ عدالتی حکم پر دونوں خواتین کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خواتین کو سرعام کوڑے لگانے کی سزا کی مخالفت کرتے ہوئے اس عمل کی مذمت کی۔ تاہم حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سرعام سزا دینے کا مقصد لوگوں کو عبرت دلانا ہے۔ یہ طریقہ جرائم کے پھیلاؤ میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
ملائیشیا سے آنے والی خبر، وہ لڑکی اور بہت سے سُنی ہوئی باتیں۔ میں دیر تک اس موضع میں الجھی رہی۔ میں سوچ رہی تھی کہ دنیا کس تیزی سے سیاہ کاریوں کو قبول کرتی جارہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے 1977ء کے ICD9 میں ہم جنس پرستی کو ذہنی بیماریوں میں سرفہرست رکھا۔ لیکن 17 مئی 1990 کو عالم ادارہ صحت کی اسمبلی کی تصدیق سے اسے ICD۔ 10 سے ہٹا دیا گیا۔ برطانیہ میں ہم جنس پرستوں کی شادی قانوناًجائز ہے۔ برطانیہ کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس قانون سے ”استفادہ“ کرنے کے لیے رجسٹریشن کرانے والے جوڑوں کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

قومی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق برطانوی معاشرے میں جوڑے بننا اور ٹوٹنا معمول بن چکا ہے۔ ان جوڑوں میں ہم جنس پرست مردوں کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرست خواتین بھی شامل ہیں۔ برطانیہ نے ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کو باہم ”شادی“ کرنے کا قانون ”سول پارٹنرشپ“ دسمبر 2005ء میں بنایا تھا۔ اس وقت دنیا بھر کے 113ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے، جن میں مالی، اردن، ترکی، تاجکستان، کرغزستان، بوسنیا اور آزربائیجان جیسے مسلمان ممالک بھی شامل ہیں۔ 76ممالک میں یہ عمل غیرقانونی ہے۔ ماہرینِ عمرانیات کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی کا کوئی ٹھوس جواز نظر نہیں آتا کیوں کہ اس کا سب سے بڑا نقصان کسی مذہب یا مسلک کو نہیں بلکہ براہ راست انسانیت کو ہے۔

ایک طرف یہ قبولیت ہے اور دوسری طرف ان مکروہ افعال سے مکمل چشم پوشی، جیسی ہمارے یہاں ہے۔ پاکستان میں بھی اگرچہ ہم جنس پرستی قابل تعزیر جرم ہے لیکن اب کچھ غیرملکی سفارت کار ہم جنس پرستی کو پروموٹ کر رہے ہیں۔ اسلام کی رو سے ہم جنسی پرستی ایک گناہ ہے اور اس کے لیے سزائیں موجود ہیں، اس سب کے باوجود پاکستان میں ہم جنس پرستوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں اور بڑھتی ہوئی بے راہ روی کے باعث ایچ آئی وی ایڈز کی بیماری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے 56 ہزار مریض موجود ہیں۔

میں جس زمانہ میں کالج کی طالبہ علم تھی اس زمانے میں کالج کی سطح پر ایک گروپ باقاعدہ اس حوالے سے اپنا کام کرتا تھا۔ میں اپنے کالج کی ہیڈ سی آر تھی۔ اکثر ان لڑکیوں کو قابلِ اعتراض حالت میں پکڑا گیا اور کالج انتظامیہ کے سپرد کیا گیا۔ لیکن چوں کہ اس وقت میں خود ان باتوں سے بہت زیادہ واقف نہیں تھی تو میرے لیے یہ اتنا اہم موضوع نہیں تھا۔

ہوتا یوں ہے کہ ہم اپنی گھر کی بیٹیوں پر کچھ خاص پابندیاں عائد کرتے ہیں کہ انھیں جنس مخالف سے کس حد تک دور رہنا چاہیے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اپنی سہیلیوں سے ملنے یا ان کے ساتھ رابطہ کس حد تک ہونا چاہیے اکثر لڑکیوں کو یہ ہی علم نہیں ہوتا کہ وہ جو کررہی ہیں وہ غلط ہے یا گناہ ہے ان کے نزدیک کسی مرد سے تعلق تو گناہ ہوسکتا ہے لیکن کسی عورت سے تعلق گناہ نہیں، اور یہ سب نہایت نارمل انداز میں چل رہا ہوتا ہے، یعنی انھیں علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ غلط عادت عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان میں پختہ ہوتی جائے گی اور پھر باقاعدہ ایک نفسیاتی عارضہ بن کر سامنے آئے گی۔

ماں باپ کسی بھی صورت میں یہ نہیں جان پاتے کہ ان کی بیٹی کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہوچکی ہے۔ اکثر نتائج شادی کے بعد سامنے آتے ہیں۔ اس عارضے کا شکار فرد مخالف جنس سے تعلق رکھنے والے اپنے شریکِ حیات سے مطمئن نہیں ہوپاتا، پریشانیاں عمر بھر کا روگ بن جاتی ہیں۔

ہمارے ملک میں اکثریت دینِ اسلام کے پیروکاروں کی ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جو جسمانی روحانی قلبی اور فکری طہارت کا درس دیتا ہے اور اس کا مقصد ایک باحیا، معاشرے کی تشکیل ہے۔ قرآنِ کریم میں بے حیائی کے کاموں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی بار بار اس کا ذکر ملتا ہے۔ اسلام میں بے حیائی بے راہ روی اور فحش باتوں اور اقدامات سے نہ صرف روکا گیا ہے بلکہ اس کی باقاعدہ سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔ ظاہر ہے جب تک سزا کا عنصر نہیں ہوگا تب تک برائی کا خاتمہ لفاظی کا سوا کچھ نہیں۔ ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم مان ہی نہیں رہے کہ ہمارے آس پاس پرائی پھیل چکی ہے۔

ہمارے یہاں ہم جنس پرست خواتین کے منظم گروہ اپنی تقریبات منعقد کررہے ہیں، جہاں ایسی خواتین کو خوش آمدید کہا جاتا ہے جو اس گناہ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہوں۔ بہت سے لوگوں کو میری تحریر بری لگے گی لیکن ایسی بہت سی حقیقتیں ہیں جو ہمارے معاشرہ میں اپنا وجود رکھتی ہیں، جن سے ہم نظریں نہیں چُرا سکتے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ گھناؤنی حرکتیں انسان کی آزادی کے نام پر ہوتی ہیں، اور اسی نام پر انھیں تحفظ دیا جاتا ہے، لیکن آزادی کے علمبردار یہ بات بھی ذہن نشین کرلیں کہ انسان جب حیوانیت کی حدود کو پار کرگیا ہو تو اس کے لیے لفظ انسانیت ہی موزوں نہیں رہتا سو آزادی کا نعرہ کیسا؟ کھلے عام بے حیائی کے کاموں کی حمایت کرنا عجب تماشہ ہے۔ اس برائی سے آنکھیں چُرانے یا اسے آزادی سمجھنے والے اس بات سے بے خبر ہیں کہ اگر برائی کو نہ روکا گیا تو یہ تماشہ ان کے گھروں میں بھی ہوسکتا ہے۔ پھر شاید انھیں خود برا لگ رہا ہو۔ عقل ہوش اور دماغ رکھنے کے باوجود برائی کو برائی نا سمجھنا خود فریبی کو سوا اور کیا ہے؟

Drying and Smoking Harvests: How to Improve Longevity and Flavour



Drying and Smoking Harvests: How to Improve Longevity and Flavour

Harvesting Your Herbs and Spices

Getting the best flavor out of your crop starts with when you harvest. Once most herbs, fruits or vegetables have been harvested, their ability to produce sugar declines or stops (although some fruits will continue to ripen off of the vine). Then, the plant will cannibalize its starch reserves, converting them to sugar and thereby increasing the Brix or sugar content of the plant material.
A scientific study determined that one should harvest hay (or any plant) when the sugar and starch content or total nonstructural carbohydrate (TNC) is at its peak in the plant’s diurnal cycle. This simply means one should always harvest at the end of the day. In the case of indoor growers, this means you should harvest right before your lights go off.
This is because the TNC content is at its lowest point at sunrise/lights-on because the plant used carbohydrates for respiration during the previous night. By harvesting in the evening, or right before the lights go out, the plant will be at its maximum sugar content.




Drying Your Herbs and Spices

Drying your herbs, fruits or vegetables is a great way of keeping your harvest for a longer period of time; it is actually the oldest known method of preserving food. Dried foods are able to be stored for long periods of time because their low moisture content reduces the risk of spoilage.
There are several options for drying your crop, such as kiln or oven drying, food dehydrators or sun drying, but my favorite is slow drying. By slow drying you get the highest conversion of starch to sugar, and the best-tasting product. The keys to slow drying are to make sure your drying space has the right humidity and temperature, slight air movement and to make sure to maintain a high surface area to air ratio of what you are drying. That is to say you don’t want to just pile a bunch of peppers in a bowl and wait for them to dry; that is a surefire way to get a bunch of moldy peppers.
The humidity for slow drying should be maintained at 40 to 60%. The temperature for fruit and vegetable drying should be between 100 to 140°F; this is usually done in an oven or food dehydrator due to high water content (but the lower and slower you dry, the better flavor your crop will have).



The water content of fruits and vegetables can make some types unsuitable for slow drying. For herbs and low-water content vegetables like hot peppers, you can tie them in bunches and hang them from string, or place them on a drying rack or mesh drying screen in a thin layer (remember your high surface area to air ratio) and then maintain the temperature at about 60°F.
Keep herbs out of direct sunlight as this can damage their delicate aroma. Drying can take anywhere from several days to two weeks depending on what you are drying. Again, remember that the slower you dry, the more flavor it will have, but if you do not maintain your temperature, humidity and air movement, you will end up with a bunch of mold.

Smoking Your Herbs and Spices

Smoking is one of my favorite methods of preserving food. Smoking food is believed to date back to the time of cavemen. By exposing food to smoke for a period of time you effectively remove the moisture from the food while simultaneously imparting the smoky flavor of the smoking wood. Popular woods used in smoking include hickory, oak, mesquite and apple wood. Smoking is a great method for drying thin-walled peppers for later use in cooking. You not only preserve the peppers but you create unique flavor combinations perfect for use in chili, salsas and hot sauces. Below are instructions for smoking peppers.
You will need:
  • A wood smoker (I used a propane fired wood smoker)
  • 1.5 lbs of your favorite hot peppers (I used orange habaneros)
  • Wood chips of your preference (I used apple wood)
  • Water
Instructions:
  • Rinse off peppers in warm water and place them on a paper towel to dry fully.
  • Soak wood chips in water for a minimum of one hour.
  • Pre-heat the smoker to 200 to 225°F.
  • Once smoker is at the desired temperature, place the peppers in a single layer directly on the racks
  • Place wet wood chips in smoke pan or box.
  • Add water or a combination of water and juice to the water pan. This will add moisture to the smoke and slow down the drying process.
  • Leave peppers smoking for 2 to 2.5 hours, or until they are dehydrated. You want them to be crisp, but you do not want them to crumble into powder.
  • Remove peppers from smoker and allow them to cool.
  • Place in a canning jar, vacuum seal bags or place in Ziploc bags until ready to use.
  • Written by David Kessler with special thanks

takbeeraat takbeerat


Multimedia Digital Service Group

Multimedia Digital Service Group






Dastgir Travels and tours Lahore Hajj and Umrah Packages

Dastgir Travels and tours Lahore

Dastgir Travels and tours Lahore Hajj and Umrah Packages

GHEE RICE WITH RECIPE INDIA RICE



Respect the relations - rishta daaron ka ehtiram karo

رِشتے داروں  کا احتِرام

     تمام رِشتے داروں  کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے ۔حضرتِ سیِّدُنا عاصِم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوایت ہے کہ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’جس کو یہ پسند ہو کہ عمر  میں  درازی اور رِزق میں  فراخی ہو اور بری موت دفع ہو وہ اللہ تَعَالٰی  سے ڈرتا رہے اور رِشتے داروں  سے حسن سلوک کرے۔‘‘
(اَلْمُستَدرَک ج۵ ص۲۲۲ حدیث۷۳۶۲)
       مصطَفیٰ جانِ رحمت ،شمعِ بزمِ ہدایت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’رشتہ کاٹنے والا جنت میں  نہیں  جائے گا۔‘‘( بُخاری ج۴ ص۹۷ حدیث۵۹۸۴)

Big Brother Bare Bhai Ka ehtiraam - Aulaad ko Adab Sikhaiye

بڑ ے بھائی کا احتِرام

       والدین کے ساتھ ساتھ دیگر اہلِ خاندان مَثَلاً بھائی بہنوں  کا بھی خیال رکھنا

چاہئے۔والد صاحب کے بعد دادا جان اور بڑے بھائی کا رتبہ ہے کہ بڑا بھائی والد کی جگہ ہوتا ہے۔مصطَفٰے جانِ رحمت ،شمعِ بزمِ ہدایت ،تاجدارِ رسالت،صاحِبِ جودو سخاوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ رحمت نشان ہے:’’ بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسے والِد کا حق اولاد پر۔‘‘
(شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۲۱۰ حدیث۷۹۲۹)

اولاد کو ادب سکھائیے

       والدین کو بھی چاہئے کہ اپنی اولاد کے حقوق کا خیال رکھیں ، انہیں  ماڈَرن بنانے کے بجائے سنتوں  کاچلتا پھرتا نمونہ بنائیں ، ان کے اَخلاق سنواریں  ،بری صحبت سے دُور رکھیں ،  سنتوں  بھرے مَدَنی ماحول سے وابستہ کریں۔فلموں  ڈِراموں ،گانے باجوں  اور برے رسم و رَواجوں سے بھر پور ،یادِ خدا ومصطَفٰے سے دورکرنے والے فحش فنکشنوں  سے بچائیں۔ آج کل شاید ماں  باپ اولاد کے حقوق یہی سمجھتے ہیں  کہ ان کو دُنیوی تعلیم مل جائے ، ہنر اور مال کمانا آجائے ۔ آہ! اپنے لخت جگر کے لباس اور بدن کومیل کچیل سے بچانے کا توذِہن ہوتا ہے مگر  بچّے کے دل ودماغ اور اَعمال و افعال کی پاکیزگی کا کوئی خیال نہیں  ہوتا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے محبوب،دانائے غیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ والا نشان ہے:’’کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے وہ اس کیلئے ایک صاع([2])صد قہ کرنے سے افضل ہے ۔ ‘‘ ( تِرمِذی ج ۳ ص ۳۸۲ حدیث ۱۹۵۸)اور ارشاد ہے کہ’’ کسی باپ نے اپنی اولاد کو کوئی چیز ایسی نہیں

دی جو اچھے ادب سے بہتر ہو ۔‘‘ (اَیضاً ص۳۸۳ حدیث۱۹۵۹)

Mardana Libaas Pahanne Waali Auraten

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مَردانہ لباس والی جنّت سے محروم

       حدیث پاک میں  مردانی وَضع بنانے والی عورت کوبھی جنت سے محروم قرار دیاگیا ہے۔تو جو عورت مردانہ لباس ،یا مردانہ جوتے پہنے یا مردانہ طرزکے بال کٹوائے وہ بھی اِس وَعید میں داخل ہے۔آج کل بچوں  میں  اس بات کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، لڑکے کو لڑکی کا لباس پہنادیا جاتا ہے جس سے وہ لڑکی معلوم ہوتا ہے جبکہ لڑکی کو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  لڑکے کا لباس مَثَلاً پینٹ شرٹ، لڑکے کے جوتے اور ہیٹ وغیرہ پہنادیتے ہیں ، بال بھی لڑکے جیسے رکھوائے جاتے ہیں  کہ دیکھنے میں  بالکل لڑکا معلوم ہوتی ہے۔ صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  لکھتے ہیں :’’ بچّوں  کے ہاتھ پاؤں  میں  بلا ضَرورت مہندی لگانا ناجائز ہے۔ عورت خود اپنے ہاتھ پاؤں  میں  لگاسکتی ہے مگر لڑکے کو لگائے گی تو گنہگار ہوگی۔ ‘‘   (بہار شریعت ج ۳ص۴۲۸)
         اپنے بچّوں  کو ایسے بابا سوٹ بھی مت پہنائیے جن پر انسان یا جانور کی تصویر بنی ہو، بچوں  کو نیل پالش بھی نہ لگائیے اور بچوں  کی ماں  بھی ہرگز نہ لگائے کہ نیل پالش لگی ہونے کی صورت میں  اس کے نیچے ناخن پر پانی نہیں  بہتا، لہٰذا وضوو غسل نہیں  ہوتا۔

BE PARDAH DAYYOOS KI TAREEF DAYYUS KI TAAREEF

دَ یُّوث کی تعریف

   بیان کردہ حدیثِ پاک میں  ماں  باپ کو ایذاء دینے والے کے ساتھ ساتھ دَیوث کے بارے میں  بھی وَعیدہے کہ وہ جنت سے محروم کردیا جائے گا۔’’دَیوث‘‘ .1یعنی وہ شخص جواپنی بیوی یا کسی محرم پرغیرت نہ کھائے ۔(دُرِّمُختارج۶ ص ۱۱۳ ) مطلب یہ کہ  باوجودِ قدرت اپنی زوجہ ،ماں ، بہنوں اور جوان بیٹیوں  وغیرہ کو گلیوں  بازاروں  ، شاپنگ سینٹروں   اور مَخْلُوط  تفریح گاہوں  میں  بے پردہ گھومنے پھر نے، اجنبی پڑوسیوں  ،

نامَحرم رِشتے داروں  ، غیرمحرم.1 ملازِموں ، چوکیدار وں  اور ڈرائیوروں  سے بے تکلفی اور بے پر دَ گی سے منع نہ کرنے والے دَیُّوث، جنت سے محروم اور جہنم کے حقدار ہیں۔

WE WANT FREEDOM - kashmir voice

WE WANT FREEDOM - kashmir voice azaadi azadi