علمِ وھبی اور علمِ کسبی
اللہ نے قرآن پاک نازل کیا تو اس وقت سمجھانے کے لٸیے نبی پاکﷺ کی ذات با برکات کی صورت میں کاٸنات کے بہترین معلّم موجود تھے۔جبکہ قرآن تو عربی زبان میں نازل ھوا تھا اور اسے سمجھنا عرب کے لوگوں کے لٸیے مشکل نا تھا لیکن
بس یہی فرق ھوتا ھے ایک عام انسان کے الفاظ میں اور ربّ کے الفاظ میں کہ کلام اللہ کو سمجھنے کے لٸیے ربّ کے خاص بندوں کیطرف ھی رجوع کرنا پڑتا ھے
نبّی پاکﷺ کو بہترین معلّم بنا کر بھیجا گیا کیونکہ بہترین کے کلام کو سمجھنے کے لٸیے معلّم کا بھی ویسا ھی بہترین ھونا ضروری ھوتا ھے
جیسا کہ کسی بھی Subject میں PHd یا M.Phil کرنے کے لٸیے ایسے انسان کو استاد بنایا جاتا ھے جو تجربہ کار ھو اور ان ڈگریوں سے بھی ذیادہ علم رکھتا ھو اور یقیناََ قرآن جیسی عظمت والی کتاب کو ایسی ہستی ھی سمجھا سکتی تھی جِسے جبراٸیل علیہ السلام نے ربّ کے حکم سے پڑھنا لکھنا سکھایا ھو۔
ربّ کے علم کو جاننے اور سمجھنے کے لٸیے معلّم کی تلاش کرنا بھی سنّت ھے۔
ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کتب تحریر کی گٸی ھیں اور دنیا کے ہر موضوع پہ لکھا گیا ھے۔دین اسلام مکمل ھو چکا لیکن اس پہ ریسرچ ابھی تک جاری و ساری ھے
لیکن واحد علمِ روحانیت ایسا علم جِس پر علمأ اکرام اور صوفیأ نے بہت کچھ لکھا لیکن کسی نے اس علم کی گہراٸی میں گوہر نکال کر لوگوں کے سامنے نہیں رکھا۔اسکی کیا وجہ ھے؟
کیونکہ علمِ روحانیت کَسبی علم نہیں ھے یعنی کتابوں سے ملنے والا علم نہیں ھے
یہ تو وہبی علم ھے یعنی ایسا علم ھے جو کسی کی نگاہ سے ملتا ھے۔
آپ ساری کتب کا مطالعہ کر کے بہت سا علم حاصل کرکے عالمِ دین بن سکتے ھیں لیکن ایک درویش یا صوفی یا فقیر نہیں بن سکتے
مولانا رومؒ کی مثال ھمارے سامنے موجود ھے۔بہت بڑے عالم تھے۔علم کی دھاک تھی لیکن کیا ھوا؟جب شاہ شمس تبریزؒ سے ملے خود کو انکے آگے Surrender کر دیا تو پھر علامہ اقبالؒ جیسی ہستی بھی انکو اپنا روحانی استاد مانتی ھے۔آج کے عالمِ دین کا یہی المیہ ھے جھکتے نہیں
جبکہ قرآن میں بار بار ذکر ھے کہ
جھک جاٶ جھکنے والوں کے ساتھ۔۔
امام احمد بن حنبلؒ اپنے عقیدت مندوں کیساتھ بیٹھے تھے کہ پاس سے حضرت بَشر حافیؒ گزرے تو امام احمد بن حنبلؒ کھڑے ھو گٸے۔جب وہ گزر گٸے تو امام بیٹھ گٸے۔ایک عقیدت مند نے ہوچھا کہ حضرت آپ اتنے بڑے عالم اور بَشر حافی کا اتنا احترام؟
امامؒ نے فرمایا
تم کو نہیں معلوم کہ امام احمد بن حنبلؒ جس ربّ کو مانتا ھے بَشر حافیؒ اس ربّ کو جانتا ھے۔
تو پھر اتنی کتابیں لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
کتابیں لکھنے کی سب سے بڑی وجہ ھوتی ھے کہ لوگوں کو Inspiration ملتی ھے کہ ہاں واقعی ایسا علم ھے جو بندے کو خدا سے قریب کرتا ھے۔ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ھے کہ یہ نیک لوگ بھی تو ھم جیسے انسان ھی تھے۔محبت ھو جاتی ھے اور اس محبت میں انسان ربّ کی تلاش شروع کر دیتا ھے۔عملی طور پہ اللہ کی تلاش شروع ھو جاتی ھے۔
واصفؒ کا فرمان ھے کہ
”ربّ کی تلاش انسان کو دوسرے انسان کے پاس لے جاتی ھے“
بچپن سے ایک بہت پیاری نعت پڑھتے اور سنتے بھی آۓ ھیں کہ
اللہ اللہ کیے جانے سے اللہ نا ملے
اللہ والے ھیں جو اللہ سے ملا دیتے ھیں.
تحریر۔شیراز شوکت
اللہ نے قرآن پاک نازل کیا تو اس وقت سمجھانے کے لٸیے نبی پاکﷺ کی ذات با برکات کی صورت میں کاٸنات کے بہترین معلّم موجود تھے۔جبکہ قرآن تو عربی زبان میں نازل ھوا تھا اور اسے سمجھنا عرب کے لوگوں کے لٸیے مشکل نا تھا لیکن
بس یہی فرق ھوتا ھے ایک عام انسان کے الفاظ میں اور ربّ کے الفاظ میں کہ کلام اللہ کو سمجھنے کے لٸیے ربّ کے خاص بندوں کیطرف ھی رجوع کرنا پڑتا ھے
نبّی پاکﷺ کو بہترین معلّم بنا کر بھیجا گیا کیونکہ بہترین کے کلام کو سمجھنے کے لٸیے معلّم کا بھی ویسا ھی بہترین ھونا ضروری ھوتا ھے
جیسا کہ کسی بھی Subject میں PHd یا M.Phil کرنے کے لٸیے ایسے انسان کو استاد بنایا جاتا ھے جو تجربہ کار ھو اور ان ڈگریوں سے بھی ذیادہ علم رکھتا ھو اور یقیناََ قرآن جیسی عظمت والی کتاب کو ایسی ہستی ھی سمجھا سکتی تھی جِسے جبراٸیل علیہ السلام نے ربّ کے حکم سے پڑھنا لکھنا سکھایا ھو۔
ربّ کے علم کو جاننے اور سمجھنے کے لٸیے معلّم کی تلاش کرنا بھی سنّت ھے۔
ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کتب تحریر کی گٸی ھیں اور دنیا کے ہر موضوع پہ لکھا گیا ھے۔دین اسلام مکمل ھو چکا لیکن اس پہ ریسرچ ابھی تک جاری و ساری ھے
لیکن واحد علمِ روحانیت ایسا علم جِس پر علمأ اکرام اور صوفیأ نے بہت کچھ لکھا لیکن کسی نے اس علم کی گہراٸی میں گوہر نکال کر لوگوں کے سامنے نہیں رکھا۔اسکی کیا وجہ ھے؟
کیونکہ علمِ روحانیت کَسبی علم نہیں ھے یعنی کتابوں سے ملنے والا علم نہیں ھے
یہ تو وہبی علم ھے یعنی ایسا علم ھے جو کسی کی نگاہ سے ملتا ھے۔
آپ ساری کتب کا مطالعہ کر کے بہت سا علم حاصل کرکے عالمِ دین بن سکتے ھیں لیکن ایک درویش یا صوفی یا فقیر نہیں بن سکتے
مولانا رومؒ کی مثال ھمارے سامنے موجود ھے۔بہت بڑے عالم تھے۔علم کی دھاک تھی لیکن کیا ھوا؟جب شاہ شمس تبریزؒ سے ملے خود کو انکے آگے Surrender کر دیا تو پھر علامہ اقبالؒ جیسی ہستی بھی انکو اپنا روحانی استاد مانتی ھے۔آج کے عالمِ دین کا یہی المیہ ھے جھکتے نہیں
جبکہ قرآن میں بار بار ذکر ھے کہ
جھک جاٶ جھکنے والوں کے ساتھ۔۔
امام احمد بن حنبلؒ اپنے عقیدت مندوں کیساتھ بیٹھے تھے کہ پاس سے حضرت بَشر حافیؒ گزرے تو امام احمد بن حنبلؒ کھڑے ھو گٸے۔جب وہ گزر گٸے تو امام بیٹھ گٸے۔ایک عقیدت مند نے ہوچھا کہ حضرت آپ اتنے بڑے عالم اور بَشر حافی کا اتنا احترام؟
امامؒ نے فرمایا
تم کو نہیں معلوم کہ امام احمد بن حنبلؒ جس ربّ کو مانتا ھے بَشر حافیؒ اس ربّ کو جانتا ھے۔
تو پھر اتنی کتابیں لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
کتابیں لکھنے کی سب سے بڑی وجہ ھوتی ھے کہ لوگوں کو Inspiration ملتی ھے کہ ہاں واقعی ایسا علم ھے جو بندے کو خدا سے قریب کرتا ھے۔ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ھے کہ یہ نیک لوگ بھی تو ھم جیسے انسان ھی تھے۔محبت ھو جاتی ھے اور اس محبت میں انسان ربّ کی تلاش شروع کر دیتا ھے۔عملی طور پہ اللہ کی تلاش شروع ھو جاتی ھے۔
واصفؒ کا فرمان ھے کہ
”ربّ کی تلاش انسان کو دوسرے انسان کے پاس لے جاتی ھے“
بچپن سے ایک بہت پیاری نعت پڑھتے اور سنتے بھی آۓ ھیں کہ
اللہ اللہ کیے جانے سے اللہ نا ملے
اللہ والے ھیں جو اللہ سے ملا دیتے ھیں.
تحریر۔شیراز شوکت

No comments:
Post a Comment