MAREEZ BY RUMI

رومی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں :” مریض ِ محبت کو اگر چارہ ساز سے نسبت قلبی نہ ہو تو سب چارہ سازی حجاب ہے“ صوفیاءکرام کی تعلیمات کے سلسلے میں ایک اہم تعلیم اس امر کا مشاہدہ دل میں بٹھا دینا ہے کہ انسان آخر ایک دن ﷲ کی طرف لوٹ جائے گا کیونکہ وہ ﷲ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سے آیا ہے۔ روزمرہ زندگی کے معمولات اور مشغولات میں انسان اس قدر کھو جاتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے روزانہ کئی لوگوں کو مرتے دیکھتا ہے‘ جنازے میں شرکت کرتا ہے بلکہ اُن کو ان کے مقابر میں اتارنے کے لیے قبرستان میں موجود ہوتا ہے مگر اس کے دل میں یہ خیال بھولے سے بھی نہیں آتا کہ آخر ایک دن یہ پراسیس اس کے ساتھ بھی ہونا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مختلف النوع نفسانی آلائشوں سے اس کے دل پر زنگ کا ایک پردہ چڑھ جاتا ہے جو اسے حق اور حقیقت کی موجودگی کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ شروع شروع میں یہ حجاب عارضی ہوتا ہے اور اس کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ کوئی صاحب ِ نظر اس شخص کی تربیت کر کے اسے دور کر سکتا ہے۔ بعد میں یہ پردہ پکا ہو جاتا ہے اور پھر قلب پر ایک ایسی مہر لگ جاتی ہے کہ جو انسان کو ہمیشہ کے لیے غفلت اور طاغوت میں داخل کر دیتی ہے۔ غفلت کے اس پردے کو چاک کرنے کے لیے پیرِ کامل اپنے مرید کو ایک خاص کیفیت کا مشاہدہ کراتا ہے جس کے ذریعے اس کا قلب زندہ اور بیدار ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو صوفیاء کرام "موتوا قبل ان تموتو" یعنی ”موت سے پہلے مر جانا“ کہتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ اور دقیق مسئلہ ہے جو عام اذہان کی سمجھ اور بس کی بات نہیں۔
جب اس سلسلے میں جناب ِ واصف علی واصف سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی وضاحت میں مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کی یہ حکایت اس طرح بیان فرمائی: ”ایک آدمی نے طوطا رکھا ہوا تھا۔ طوطا باتیں کرتا تھا۔ اس آدمی نے کہا کہ میں دور کے سفر پر جا رہا ہوں‘ وہاں سے کوئی چیز منگوانی ہو تو بتا۔ طوطے نے کہا کہ وہاں تو طوطوں کا جنگل ہے‘ وہاں ہمارے گُرو رہتے ہیں‘ ہمارے ساتھی رہتے ہیں‘ وہاں جانا اور گرو طوطے کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ایک غلام طوطا‘ پنجرے میں رہنے والا ‘ غلامی میں پابند‘ پابند ِ قفس ‘ آپ کے آزاد طوطوں کو سلام کرتا ہے۔ سوداگر وہاں پہنچا اور اس نے جا کر یہ پیغام دیا۔ اچانک جنگل میں پھڑ پھڑ کی آواز آئی‘ ایک طوطا گِرا‘ دوسرا گِرا اور پھر سارا جنگل ہی مر گیا۔ سوداگر بڑا حیران کہ یہ پیغام کیا تھا‘ قیامت ہی تھی۔ اداس ہو کے چلا آیا۔ واپسی پر طوطے نے پوچھا کہ کیا میرا سلام دیا تھا؟ اس نے کہا کہ بڑی اداس بات ہے‘ سلام تو میں نے پہنچا دیا مگر تیرا گرو مر گیا اور سارے چیلے بھی مر گئے۔ اتنا سننا تھا کہ وہ طوطا بھی مر گیا۔ سوداگر کو بڑا افسوس ہوا۔ اس نے مردہ طوطے کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ طوطا فوراً اُڑ گیا اور شاخ پر بیٹھ گیا۔ اس نے پوچھا یہ کیا؟ طوطے نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے اپنے گُرو طوطے سے پوچھا تھا کہ پنجرے سے بچنے کا طریقہ بتا۔
 اس نے کہا کہ مرنے سے پہلے مر جا۔ 
اور جب میں مرنے سے پہلے مر گیا تو پنجرے سے بچ گیا“

No comments:

Post a Comment

WE WANT FREEDOM - kashmir voice

WE WANT FREEDOM - kashmir voice azaadi azadi