اسلامی نظریاتی کونسل، تین طلاق اور تعزیر: غلط سوال کا غلط جواب
-------------------------------------
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ابھی میں نے نہیں دیکھیں لیکن جو کچھ اخبارات میں رپورٹ ہوا ہے اس کی رو سے اتنا معلوم ہوا ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے پر قانون سازی کے ذریعے تعزیری سزا تجویز کی جارہی ہے اوراس ضمن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے بھی استدلال کیا جارہا ہے۔
ہمارے نزدیک یہ غلط سوال کا غلط جواب ہے۔
پاکستان کے قانون کی رو سے اس وقت پوزیشن یہ ہے کہ ایک طلاق دی جائے، دو دی جائیں، یا تین دی جائیں، ایک مجلس میں دی جائے/جائیں، الگ الگ طہر میں دی جائے/جائیں، یا برسوں کے وقفے سے دی جائے/جائیں، کسی بھی صورت کوئی بھی طلاق اس وقت تک مؤثر ہی نہیں ہوتی جب تک اس طلاق، یا طلاقوں، کے بعد شوہر اس کارروائی کا نوٹس یونین کونسل کے چیئرمین کو نہ دے، اس کی کاپی بیوی کو نہ دے، اور یونین کونسل کے چیئرمین کے پاس نوٹس موصول ہونے کے بعد مصالحت ناکام ہونے پر نوے دن گزر نہ جائیں۔ واضح رہے کہ ہر دفعہ طلاق، یا طلاقیں، دے چکنے کے بعد یہ کارروائی پھر کی جائے گی اور ہر دفعہ کارروائی مکمل ہونے پر ایک طلاق مؤثر ہوگی، خواہ کتنی ہی طلاقیں دی گئی ہوں اور کیسے ہی الفاظ استعمال کیے گئے ہوں۔ دیکھیے مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس مجریہ 1961ء کی دفعہ سات بمع سپریم کورٹ کے فیصلے کے، کنیز فاطمہ بنام ولی محمد (1993ء)۔
اس قانون نے نہ صرف تین طلاق کو، بلکہ دو، بلکہ ایک طلاق کو بھی کالعدم کردیا ہے جب تک متعلقہ کارروائی نہ کی جائے۔ بلکہ اس قانون نے ایک طلاق بائن کو بھی کالعدم کردیا ہے اور پاکستانی قانون کی رو سے طلاق ہمیشہ رجعی ہوتی ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ انتہائی بے ہودہ قانون ہے لیکن یہی قانون ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں تین طلاق پر تعزیر کی کیا تک بنتی ہے؟ اسلامی نظریاتی کونسل کو چاہیے کہ پہلے یہ بے ہودہ قانون ختم کرادے۔ ایک دفعہ جب قانون کی رو سے تین طلاق مؤثر ہوجائیں گی تو اس کے بعد ہی اس پر بات کی جاسکے گی کہ کیا بیک وقت تین طلاق دینے پر سزا دی جائے یا نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل پر بحث کا موقع بھی تبھی آئے گا۔
تاہم واضح رہے کہ یہ قانون ایک ''ٹیبو'' ہے۔ ایسا ٹیبو جسے جنرل ضیاء بھی نہیں توڑ سکا۔ اسلامی نظریاتی کونسل بے چاری کس قطار شمار میں ہے۔

No comments:
Post a Comment