یک نوجوان عالم دین نے مجھ سے اپنے نئے شروع ہونے والے درس قرآن کے منہج کے بارے دریافت کیا کہ انہیں درس قرآن کا اسلوب و موضوعات اور مزاج کیسا رکھنا چاہیے؟؟
اس بابت میں نے جو عرض کیا وہ احباب کی خدمت میں کچھ ضروری اضافے کے ساتھ پیش کر رہا ہوں، کیونکہ میری فرینڈ لسٹ میں کثیر نوجوان علما و دینی احباب بھی موجود ہیں جو اپنے اپنے انداز سے دین کی تبلیغ کر رہے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں، اس لیے امید ہے کہ شاید انہیں کوئی فائدہ پہنچ جائے۔
_________________
اس بابت میں نے جو عرض کیا وہ احباب کی خدمت میں کچھ ضروری اضافے کے ساتھ پیش کر رہا ہوں، کیونکہ میری فرینڈ لسٹ میں کثیر نوجوان علما و دینی احباب بھی موجود ہیں جو اپنے اپنے انداز سے دین کی تبلیغ کر رہے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں، اس لیے امید ہے کہ شاید انہیں کوئی فائدہ پہنچ جائے۔
_________________
درس قرآن کے منہج کے ضمن میں یہی مشورہ دوں گا کہ اب لوگ روایتی موضوعات و مضامین سن سن کر اکتا چکے ہیں، کچھ کو تو روایتی موضوعات پر روایتی مواد ازبر بھی ہو چکا ہے مثلاً سورۃ یوسف کے تحت حضرت یوسف کا واقعہ یا بنی اسرائیل کا گائے ذبح کرنے میں لیت ولعل کرنا یا روزہ کے متعلق آیت کی وہی روایتی تشریح کہ روزہ ہم سے پہلے کی اقوام پر بھی فرض تھا وغیرہ۔۔
سو درس قرآن کے تحت اگر کسی بھی لحاظ سے نیا مواد دیا جائے خواہ وہ اصلاحی اعتبار سے ہو یا تفسیر قرآن کے تحت سائنسی اعتبار سے یا فقہی احکام کے تحت مشہور مسائل کو چھوڑ کر غیر مشہور لیکن ضروری مسائل بیان کرنا مثلاً حرمت مصاہرت کا شعور اجاگر کرنا یا قرآن پر کفار کے اعتراضات کا جواب سادا مفہوم کے ساتھ شامل کرنے کا منہج بہتر رہے گا۔۔
البتہ یہاں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جب کفار کے اعتراضات کے جوابات بیان کر رہے ہوں یا دفاع اسلام کر رہے ہوں تو سامع کو ڈاکٹر ذاکر نائیک کی یاد نا آئے اور نا ہی ان کا مواد من و عن پیش کر دیا جائے بلکہ موقع محل اور سامعین کی علمی حیثیت کے مطابق ضروری مواد پیش کیا جائے۔
سو درس قرآن کے تحت اگر کسی بھی لحاظ سے نیا مواد دیا جائے خواہ وہ اصلاحی اعتبار سے ہو یا تفسیر قرآن کے تحت سائنسی اعتبار سے یا فقہی احکام کے تحت مشہور مسائل کو چھوڑ کر غیر مشہور لیکن ضروری مسائل بیان کرنا مثلاً حرمت مصاہرت کا شعور اجاگر کرنا یا قرآن پر کفار کے اعتراضات کا جواب سادا مفہوم کے ساتھ شامل کرنے کا منہج بہتر رہے گا۔۔
البتہ یہاں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جب کفار کے اعتراضات کے جوابات بیان کر رہے ہوں یا دفاع اسلام کر رہے ہوں تو سامع کو ڈاکٹر ذاکر نائیک کی یاد نا آئے اور نا ہی ان کا مواد من و عن پیش کر دیا جائے بلکہ موقع محل اور سامعین کی علمی حیثیت کے مطابق ضروری مواد پیش کیا جائے۔
آج دراصل عوام روایتی مولویانہ تقاریر و موضوعات نیز مواد اور اپروچ سے ہٹ کر دور حاضر کے مسائل اور موضوعات پر اسلامی رہنمائی چاہتی ہے۔
پھر صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ انہیں یہ رہنمائی چاہیے بھی معاشرتی زبان و سادا انداز گفتگو میں ڈھال کر ہے جو شرعی اصطلاحات اور مولویانہ اسلوب سے پاک ہو۔
ضروری نہیں کہ ایک موضوع مثلاً صلہ رحمی پر جب تک آپ لگاتار پانچ احادیث بیان نہیں کر دیں گے کہ جس سے آپ کا درس قرآن حدیث کا انسائیکلوپیڈیا محسوس ہونے لگے، تب تک سامع صلہ رحمی اختیار ہی نہیں کرے گا اور نا ہی اس کی اہمیت سمجھے گا بلکہ اگر صرف ایک حدیث کے ساتھ جامع مفہوم اور عوامی سطح کے انداز میں صلہ رحمی کی اہمیت اور فوائد بیان کر دیں گے تو یہ اسلوب عوام کو زیادہ بھائے گا۔۔۔
پھر صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ انہیں یہ رہنمائی چاہیے بھی معاشرتی زبان و سادا انداز گفتگو میں ڈھال کر ہے جو شرعی اصطلاحات اور مولویانہ اسلوب سے پاک ہو۔
ضروری نہیں کہ ایک موضوع مثلاً صلہ رحمی پر جب تک آپ لگاتار پانچ احادیث بیان نہیں کر دیں گے کہ جس سے آپ کا درس قرآن حدیث کا انسائیکلوپیڈیا محسوس ہونے لگے، تب تک سامع صلہ رحمی اختیار ہی نہیں کرے گا اور نا ہی اس کی اہمیت سمجھے گا بلکہ اگر صرف ایک حدیث کے ساتھ جامع مفہوم اور عوامی سطح کے انداز میں صلہ رحمی کی اہمیت اور فوائد بیان کر دیں گے تو یہ اسلوب عوام کو زیادہ بھائے گا۔۔۔
ایک سب سے اہم اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر مولوی حضرات عوام کو کسی بات کے لیے قائل کرنے پر ان کے مسلمان ہونے، اللہ و رسول کی عزت کرنے اور قرآن کا ادب کرنے جیسی باتوں کا سہارا لیکر ایک لحاظ سے اپنے مؤقف پر سامع کو مطمئن کرنے کے لیے مذکورہ عناصر کے ادب کو، خفیہ اور نفسیاتی لحاظ سے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
مثلاً ایک مولوی اگر عوام کو یہ سمجھانا چاہ رہا ہے کہ اپنے بچوں کو انگریزی سکولوں میں مت پڑھائیں کہ بچے کاٹھے انگریز بن رہے ہیں ، تو بجائے اپنے مؤقف کو منطقی طور پر ثابت کرنے کے، یعنی وہ بچے کے دیسی انگریز ہونے کا نفسیاتی و معاشرتی اور ملّی نقصان سمجھائیں، وہ انہیں بتائیں کہ اس طرح کی دوہری شخصیت سے بچے انفرادی اور پھر معاشرے میں اجتماعی طور پر سطحیت و احساس کمتری کے جراثیم پیدا ہوتے ہیں نیز ایسی ہی دیگر قباحتیں۔
بلکہ وہ یہ چاہیں گے کہ بس اتنا کہنے سے کام چلا لیں کہ چونکہ پرائیویٹ انگریزی سکول قرآن کے خلاف تعلیم دے رہے اور عمل کر رہے ہیں اس لیے وہاں سے بچوں کو ہٹا لو، زیادہ ہی دلیل دے دی تو یہ کہ وہاں coeducational system ہے اور بس۔۔۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے آغاز سے عوام کسی فعل کو اسلام کے نام پر چھوڑنے کے لیے منطقی دلیل اور وجہ مانگتی ہے۔ انہیں صرف قرآن کا حوالہ دے کر آپ راضی نہیں کر سکتے۔۔۔
اور نا ہی بچے بچیوں کے اکٹھا پڑھنے سے انہیں کوئی خاص مسئلہ ہے۔ لہٰذا اگر آپ انہیں روکنا چاہتے ہیں تو دنیوی معیار پر وہ نقصانات بتائیں جو ان کی عقل قبول کر سکے۔۔۔۔
بس اسی کمی کو مولوی حضرات پورا نہیں کرتے اور اسی خامی کے سبب ہماری تعلیم یافتہ عوام مولوی کو دقیانوس اور فضول قرار دے کر ٹھکرا دیتی ہے۔۔۔
چنانچہ یہ نصیحت پلے باندھ لیں کہ جس کام یا چیز کو حرام قرار دے کر اس سے منع کرنا ہے اس کے پختہ شرعی دلائل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کام کا منطقی نقصان، اس کے دنیوی مضمرات ، اس کا متبادل پیش کرنے کے علاوہ عوام کی طرف سے کسی بھی طرح کے اعتراضات و سوالات کے لیے خود کو تیار رکھیں۔۔۔ اور جب بھی کوئی ایسا سوال کرے تو چڑنے کی بجائے حوصلے کے ساتھ اس کی رہنمائی کریں۔
مثلاً ایک مولوی اگر عوام کو یہ سمجھانا چاہ رہا ہے کہ اپنے بچوں کو انگریزی سکولوں میں مت پڑھائیں کہ بچے کاٹھے انگریز بن رہے ہیں ، تو بجائے اپنے مؤقف کو منطقی طور پر ثابت کرنے کے، یعنی وہ بچے کے دیسی انگریز ہونے کا نفسیاتی و معاشرتی اور ملّی نقصان سمجھائیں، وہ انہیں بتائیں کہ اس طرح کی دوہری شخصیت سے بچے انفرادی اور پھر معاشرے میں اجتماعی طور پر سطحیت و احساس کمتری کے جراثیم پیدا ہوتے ہیں نیز ایسی ہی دیگر قباحتیں۔
بلکہ وہ یہ چاہیں گے کہ بس اتنا کہنے سے کام چلا لیں کہ چونکہ پرائیویٹ انگریزی سکول قرآن کے خلاف تعلیم دے رہے اور عمل کر رہے ہیں اس لیے وہاں سے بچوں کو ہٹا لو، زیادہ ہی دلیل دے دی تو یہ کہ وہاں coeducational system ہے اور بس۔۔۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے آغاز سے عوام کسی فعل کو اسلام کے نام پر چھوڑنے کے لیے منطقی دلیل اور وجہ مانگتی ہے۔ انہیں صرف قرآن کا حوالہ دے کر آپ راضی نہیں کر سکتے۔۔۔
اور نا ہی بچے بچیوں کے اکٹھا پڑھنے سے انہیں کوئی خاص مسئلہ ہے۔ لہٰذا اگر آپ انہیں روکنا چاہتے ہیں تو دنیوی معیار پر وہ نقصانات بتائیں جو ان کی عقل قبول کر سکے۔۔۔۔
بس اسی کمی کو مولوی حضرات پورا نہیں کرتے اور اسی خامی کے سبب ہماری تعلیم یافتہ عوام مولوی کو دقیانوس اور فضول قرار دے کر ٹھکرا دیتی ہے۔۔۔
چنانچہ یہ نصیحت پلے باندھ لیں کہ جس کام یا چیز کو حرام قرار دے کر اس سے منع کرنا ہے اس کے پختہ شرعی دلائل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کام کا منطقی نقصان، اس کے دنیوی مضمرات ، اس کا متبادل پیش کرنے کے علاوہ عوام کی طرف سے کسی بھی طرح کے اعتراضات و سوالات کے لیے خود کو تیار رکھیں۔۔۔ اور جب بھی کوئی ایسا سوال کرے تو چڑنے کی بجائے حوصلے کے ساتھ اس کی رہنمائی کریں۔
یہ المیہ ہے کہ دور حاضر کا مولوی آج سے کم و بیش ساٹھ سال پہلے کے دور میں جی رہا ہے جب لوگ مولوی صاحب کے کہے کو حرف آخر مانتے اور مولوی صاحب کے منہ سے نکلنے والی عربی سن کر ہی سر جھکا لیتے تھے بغیر اس تحقیق کے کہ آیا یہ عربی، قرآن ہے حدیث ہے یا کسی بزرگ کا قول؟؟؟؟ جبکہ آج کل تو تعلیم یافتہ اور دنیا دار طبقہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ اسلاف کی اسیسمنٹ اور ریسرچ کے مکلف نہیں، قرآن کی تشریح و تفہیم کا جتنا حق مولوی کو ہے اتنا ہی انہیں بھی، اس لیے جو انہیں صحیح لگے وہ بھی اسلام کے مطابق ہی ہے۔۔۔۔
از : زوہیب زیبی

No comments:
Post a Comment