میں کون ہوں؟
کہاں رہتا ہوں کیا کرتا ہوں ؟
اتنا وقت کہاں سے لاتا ہوں؟
کیا مجھے اس بات کی تنخوا ملتی ہے ؟
کیا مجھے کوئی کام دہندہ نہیں ہے ؟
یہ وہ سوالات جو مجھے ذاتی طور پر سننے کو ملتے ہیں۔
نا ہمیں پیسے ملتے ہیں نا ہم فارغ ہیں
میں وہ ہوں جو کسی بھی بس میں بیٹھا ہوا دنیا و جہاں سے بےنیاز اپنے موبائل میں لگا ہوتا ہے
میں وہ ہوں جو کسی دوکان میں بیٹھا موبائل کے ساتھ لگا ہے آور دوکانداری کی پروا نہیں
میں وہ ہوں جو کلاس روم میں موبائل سے لگے رہتے ہیں اور لیکچر پر توجہ نہیں دیتے۔
میں وہ ہوں جب سب فیملی اپنی باتوں میں مصروف ہوتی ہے اور ہم کسی سے بولتے نہیں بس اپنے موبائل سے لگے رہتے ہیں
میں وہ ہوں جنہیں لوگ کہتے ہیں خدا کے لئے اس موبائل کا پیچھا چھوڑ دو کیا نکالتے ہو اس میں سے ؟
اپنے آس پاس نظر ڈورایں آپ کو ضرور نظر آؤں گا
ہاں میں بھی وہی ہوں۔
پاکستان سوشل میڈیا مارخور ٹیم کا حصہ۔
ایک ایسی ٹیم جس کا کوئی سربراہ نہیں
جس میں صرف ورکر ہیں
ہر وقت کام کرنے والے ورکر
جن کے بھروسے آصف غفور صاحب نے یہ الفاظ کہے تھے۔
"کچھ تھک گئے ہیں باقی بھی جلد ہی تھک جایئں گیں۔"
یہ الفاظ آپ کے لئے عام ہیں ہمارے لئے تمغہ تھا جو ہم نے خود حاصل کیا۔
ہم اپنے ملک کا آثاثہ ہیں
ہماری افواج سوشل میڈیا کی طرف سے بےفکر ہیں کیوں کہ وہ جانتی ہے سوشل میڈیا کا محاذ ان کے خفیہ مارخوروں نے سمبھال رکھا ہے
جن کا کوئی نام نہیں کوئی نشان نہیں بس ایک جذبہ ہے جس کا نام پاکستان ہے لاکھوں اربوں لگا کر بنائی گئی سوشل میڈیا ٹیم کا مقابلہ مفت میں کرنا اور شکست بھی دینا ہمارا کام ہے
پشتون تحفظ مومنٹ آخری سانس لے رہی ہے
اس کی کمر ٹوٹ چکی ہے
وہ خوفزدہ ہے
اس سے پہلے بلوچ لبرشن آرمی تھی اس کو نیست و نابود کیا گیا
شاید میں وہاں بھی کسی اور نام کسی اور پہچان کے ساتھ تھا۔
جسے آج پی ٹی ایم کے خلاف پاکستان کے ساتھ ہوں اور شاید بہت جلد آپ کا اور میرا تعلق ختم بھی ہو جائے اور مجھے کسی دوسرے محاذ پر کسی دوسرے نام کے ساتھ جانا پڑے۔
شاید وہاں بھی آپ کی مجھ سے ملاقات ہو لیکن ایک الگ نام اور الگ پہچان کے ساتھ۔
کہاں رہتا ہوں کیا کرتا ہوں ؟
اتنا وقت کہاں سے لاتا ہوں؟
کیا مجھے اس بات کی تنخوا ملتی ہے ؟
کیا مجھے کوئی کام دہندہ نہیں ہے ؟
یہ وہ سوالات جو مجھے ذاتی طور پر سننے کو ملتے ہیں۔
نا ہمیں پیسے ملتے ہیں نا ہم فارغ ہیں
میں وہ ہوں جو کسی بھی بس میں بیٹھا ہوا دنیا و جہاں سے بےنیاز اپنے موبائل میں لگا ہوتا ہے
میں وہ ہوں جو کسی دوکان میں بیٹھا موبائل کے ساتھ لگا ہے آور دوکانداری کی پروا نہیں
میں وہ ہوں جو کلاس روم میں موبائل سے لگے رہتے ہیں اور لیکچر پر توجہ نہیں دیتے۔
میں وہ ہوں جب سب فیملی اپنی باتوں میں مصروف ہوتی ہے اور ہم کسی سے بولتے نہیں بس اپنے موبائل سے لگے رہتے ہیں
میں وہ ہوں جنہیں لوگ کہتے ہیں خدا کے لئے اس موبائل کا پیچھا چھوڑ دو کیا نکالتے ہو اس میں سے ؟
اپنے آس پاس نظر ڈورایں آپ کو ضرور نظر آؤں گا
ہاں میں بھی وہی ہوں۔
پاکستان سوشل میڈیا مارخور ٹیم کا حصہ۔
ایک ایسی ٹیم جس کا کوئی سربراہ نہیں
جس میں صرف ورکر ہیں
ہر وقت کام کرنے والے ورکر
جن کے بھروسے آصف غفور صاحب نے یہ الفاظ کہے تھے۔
"کچھ تھک گئے ہیں باقی بھی جلد ہی تھک جایئں گیں۔"
یہ الفاظ آپ کے لئے عام ہیں ہمارے لئے تمغہ تھا جو ہم نے خود حاصل کیا۔
ہم اپنے ملک کا آثاثہ ہیں
ہماری افواج سوشل میڈیا کی طرف سے بےفکر ہیں کیوں کہ وہ جانتی ہے سوشل میڈیا کا محاذ ان کے خفیہ مارخوروں نے سمبھال رکھا ہے
جن کا کوئی نام نہیں کوئی نشان نہیں بس ایک جذبہ ہے جس کا نام پاکستان ہے لاکھوں اربوں لگا کر بنائی گئی سوشل میڈیا ٹیم کا مقابلہ مفت میں کرنا اور شکست بھی دینا ہمارا کام ہے
پشتون تحفظ مومنٹ آخری سانس لے رہی ہے
اس کی کمر ٹوٹ چکی ہے
وہ خوفزدہ ہے
اس سے پہلے بلوچ لبرشن آرمی تھی اس کو نیست و نابود کیا گیا
شاید میں وہاں بھی کسی اور نام کسی اور پہچان کے ساتھ تھا۔
جسے آج پی ٹی ایم کے خلاف پاکستان کے ساتھ ہوں اور شاید بہت جلد آپ کا اور میرا تعلق ختم بھی ہو جائے اور مجھے کسی دوسرے محاذ پر کسی دوسرے نام کے ساتھ جانا پڑے۔
شاید وہاں بھی آپ کی مجھ سے ملاقات ہو لیکن ایک الگ نام اور الگ پہچان کے ساتھ۔
پاکستان زندہ آباد
پاک افواج پایندآباد
پاک افواج پایندآباد
اتھرا سپاہی

No comments:
Post a Comment