بھارت اگر ایل او سی پر کوئ کاروائ کرتا ہے تو اسے کن پاکستانی ہتھیاروں کا سامنا کرنا ہو گا؟
پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ بھارت کبھی بھی آزاد کشمیر کی طرف دراندازی کی کوشش نہیں کرے گا لیکن لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف سے شدید گولہ باری بھارت کے لیے آپشن ہو سکتی ہے۔
لیکن فرض کریں اگر بھارت کوئ فلمی سین کھیلتے ہوئے ہیلی کاپٹر کی مدد سے لائن آف کنٹرول کراس کرتا ہے تو اسکا سامنا پاکستان کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے عنزہ ایم کے-3 میزائلز سے ہو گا جو کہ کشمیر میں ہر پاکستانی پوسٹ پر عام موجود ہوتے ہیں۔
دوسرا اگر بھارتی فوج لائن آف کنٹرول کو پیدل کراس کرنے کی کوشش کرتی ہے تو بھارتی فوج کو لائن آف کنٹرول کے ساتھ لگی ہوئیں پاکستانی ساختہ اینٹی پرسنل مائنز لے ڈوبیں گئیں۔
آزاد کشمیر کے جنگلات میں ایل او سی کے ساتھ دن رات درجنوں پاکستانی سنائپرز موجود رہتے ہیں جو کہ بھارتیوں کو چن چن کر ہلاک کریں گے۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ لشکر طیبہ کے وہ مجاہد جو کشمیر میں شہادتوں کا بدلہ لینے کے لیے تڑپ رہے ہیں،بھارتی فوج کو سامنے دیکھ کر بھارتیوں کی تکہ بوٹی کر ڈالیں۔
لہزا ثابت ہوا کہ یہ چیز ممکنہ طور پر بھارتی فوج کے لیے خودکشی ہو گی،چناچہ بھارت کے لیے اکلوتا آپشن اپنی حدود میں رہتے ہوئے آزاد کشمیر پر شدید بمباری کرنا ہی بچتا ہے۔
لیکن کیا پاکستان اس بمباری پر چپ بیٹھا رہے گا؟ بلکل یہی سوال ہے جو بھارتی فوج کو ایسی کسی کاروائ سے بعض رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان بھارتی بمباری کے جواب میں بھارتی چیک پوسٹوں پر بکترشکن میزائلز کی برسات کر سکتا ہے اور اس سے پہلے پاکستان آرمی کئ بھارتی چیک پوسٹوں کو اس میزائل سے اڑا چکی ہے۔
لیکن اس چیز سے انکار نہیں کہ بھارت ایل او سی پر فائرنگ کے واقعات اپنے ملکی ایلیکشن کی خاطر بڑھا سکتا ہے جس کے لیے بھارتی فوج کو وافر اسلحہ پہنچانے کی اطلاعات ہیں۔
ہم اس لمحے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ پاک فوج اپنی روایات کو زندہ رکھے گی۔
(بھارت کا عام آبادی پر داغا ہوا گولہ روکنا فوج کے بس کی بات نہیں لیکن کاش ایسا ہو کہ پاکستانی حکومت چین سے ٹائپ-730 موبائل کلوز ان ویپن سسٹم خرید لے جو بھارتی بموں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
اتھرا سپاہی
نوٹ
جنگ کی باتیں پھیلانے والے بھائ ہاتھ ہولا رکھیں، چند ہفتوں سے سٹاک مارکیٹ کی حالت پتلی ہو چکی ہے
پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ بھارت کبھی بھی آزاد کشمیر کی طرف دراندازی کی کوشش نہیں کرے گا لیکن لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف سے شدید گولہ باری بھارت کے لیے آپشن ہو سکتی ہے۔
لیکن فرض کریں اگر بھارت کوئ فلمی سین کھیلتے ہوئے ہیلی کاپٹر کی مدد سے لائن آف کنٹرول کراس کرتا ہے تو اسکا سامنا پاکستان کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے عنزہ ایم کے-3 میزائلز سے ہو گا جو کہ کشمیر میں ہر پاکستانی پوسٹ پر عام موجود ہوتے ہیں۔
دوسرا اگر بھارتی فوج لائن آف کنٹرول کو پیدل کراس کرنے کی کوشش کرتی ہے تو بھارتی فوج کو لائن آف کنٹرول کے ساتھ لگی ہوئیں پاکستانی ساختہ اینٹی پرسنل مائنز لے ڈوبیں گئیں۔
آزاد کشمیر کے جنگلات میں ایل او سی کے ساتھ دن رات درجنوں پاکستانی سنائپرز موجود رہتے ہیں جو کہ بھارتیوں کو چن چن کر ہلاک کریں گے۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ لشکر طیبہ کے وہ مجاہد جو کشمیر میں شہادتوں کا بدلہ لینے کے لیے تڑپ رہے ہیں،بھارتی فوج کو سامنے دیکھ کر بھارتیوں کی تکہ بوٹی کر ڈالیں۔
لہزا ثابت ہوا کہ یہ چیز ممکنہ طور پر بھارتی فوج کے لیے خودکشی ہو گی،چناچہ بھارت کے لیے اکلوتا آپشن اپنی حدود میں رہتے ہوئے آزاد کشمیر پر شدید بمباری کرنا ہی بچتا ہے۔
لیکن کیا پاکستان اس بمباری پر چپ بیٹھا رہے گا؟ بلکل یہی سوال ہے جو بھارتی فوج کو ایسی کسی کاروائ سے بعض رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان بھارتی بمباری کے جواب میں بھارتی چیک پوسٹوں پر بکترشکن میزائلز کی برسات کر سکتا ہے اور اس سے پہلے پاکستان آرمی کئ بھارتی چیک پوسٹوں کو اس میزائل سے اڑا چکی ہے۔
لیکن اس چیز سے انکار نہیں کہ بھارت ایل او سی پر فائرنگ کے واقعات اپنے ملکی ایلیکشن کی خاطر بڑھا سکتا ہے جس کے لیے بھارتی فوج کو وافر اسلحہ پہنچانے کی اطلاعات ہیں۔
ہم اس لمحے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ پاک فوج اپنی روایات کو زندہ رکھے گی۔
(بھارت کا عام آبادی پر داغا ہوا گولہ روکنا فوج کے بس کی بات نہیں لیکن کاش ایسا ہو کہ پاکستانی حکومت چین سے ٹائپ-730 موبائل کلوز ان ویپن سسٹم خرید لے جو بھارتی بموں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
اتھرا سپاہی
نوٹ
جنگ کی باتیں پھیلانے والے بھائ ہاتھ ہولا رکھیں، چند ہفتوں سے سٹاک مارکیٹ کی حالت پتلی ہو چکی ہے

No comments:
Post a Comment