Kapra Indan Dramas and OUr Houses


#کیڑا 

بھارتی ڈرامے دیکھ دیکھ کر پاکستان کی عورتوں میں ایک خاص قسم کا کیڑا پیدا ہو چکا ہے اور وہ کیڑا ہے "میرا پریوار" کا کیڑا
پہلے تین تین خاندان اکٹھے رہتے تھے اگر ایک بڑا بھائی سب سے زیادہ کمانے والا ہوتا تو وہ باقی بھائیوں کے بچوں کی سکول کی فیس دیتا، گھر کے بل جمع کرا دیتا یا سودا سلف منگوا دیتا تھا۔ وہی بڑا بھائی عیدین پر کپڑے کے تھان خرید لاتا جس سے سب گھر والوں کے ایک جیسے کپڑے بنتے تھے۔
اور اس بڑے بھائی کا روزگار ترقی ہی کرتا رہتا تھا۔ اس آدمی کی بیوی بھی ماں بن کر سارے گھر کو سنبھالتی اور سب کی ضروریات کا خیال رکھتی تھی۔ یعنی جتنا بڑا دل بیوی کا اتنا ہی بڑا دل شوہر کا۔ تو انکا رزق بھی کھل جاتا تھا۔ خاندان میں عزت بھی ہوتی تھی
پھر ایسا ہوا کہ ایک اور کیڑا پیدا ہوا وہ کیڑا تھا بہو کی تلاش میں خاندان، شرافت، دینداری چھوڑ کر شکل، فیشن، مال اور تعلیم پر مرنے والا کیڑا
ایسی ایسی کم ذات حسینائیں بہو بنا بنا کر جب گھروں میں گھسائی گئیں تو انہوں نے رنگ دکھانے شروع کئے۔
پھر "میرا پریوار" والا کیڑا بچوں کے ساتھ ہی پیدا ہونے لگا۔ 
ارے تم نے ٹھیکا اٹھایا ہوا ہے انکے بچوں کا۔
میرے بچوں کا حق تم انہیں نہیں کھلا سکتے۔
ارے تمہاری بہنیں کب تک تمھاری کمائی پر عیش کریں گی۔
میرے بچوں کا حق تم انہیں نہیں کھلا سکتے۔
ارے ہم نے کوئی یتیم خانہ نہیں کھول رکھا۔ 
میرے بچوں کا حق تم انہیں نہیں کھلا سکتے۔
اور جب شوہر صاحب نے بیوی کی باتیں ماننا شروع کیں تو گھر سے رزق کا ہی صفایا ہوگیا۔
آپ نے غور کیا ہی ہوگا ایسے لوگوں پر۔
ہمارے خاندان میں ایک گھر ایسا ہے جس میں سات بھائی رہتے ہیں۔ بہت بڑا گھر ہے اور سات خاندان ہیں۔ تین بہنیں شادی شدہ ہیں اور دوسرے شہروں میں رہتی ہیں۔
اتنے بڑے خاندان کو صرف ایک بڑے بھائی نے سنبھال رکھا ہے۔
وہ شخص گھر نہیں آ سکتا۔ سارا وقت زمینداری کھیتوں کی دیکھ بھال، لوگوں کے مسائل سننا ، حل کرنا۔
خاندان کے سارے کے سارے معاملات اور سب کے بچوں اور بیویوں کی ضروریات کا خیال رکھنا, کھانا پکانے سے لیکر تعلیم اور سبکو اتفاق سے رکھنا اسکی بیوی کرتی ہے۔
وہ زیادہ عمر کی نہیں نہ ہی کوئی بہت حسین عورت ہے نہ ہی زیادہ تعلیم یافتہ۔ مشقت اور عدل اسکے چہرے سے ٹپکتے ہیں مگر اسکے زندہ دل قہقہے اور ہنستا مسکراتا چہرہ اس سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اسکی ایک بات مجھے بہت پسند ہے۔
سنیں 
اور اپنی بیویوں کو بھی سنائیں
جب اللہ نے میرے شوہر کو پسند فرمایا ہے کہ اسکے ہاتھ سے گھر کے تمام افراد کو رزق ملے تو میں کیوں بیچ میں آوٗں؟
میں اگر کہوں کے میرے بچوں کا حق دوسے بھائیوں کے بچوں کو کھلا رہا ہے تو کیا خبر میرے بچوں کے نصیب میں اتنا رزق ہو ہی نہ؟
کیا خبر ہمیں ان بھائیوں کے بچوں کے نصیب سے ہی مل رہا ہو؟
کیا خبر کس خاندان میں کس کا بچہ ہے کہ جس کے مقدر سے ہمیں بھی نصیب ہو رہا ہے؟
اگر میں اپنا گھر اپنے بچے کرنے لگ گئی تو مجھے وہی ملے گا جو میرے مقدر میں ہے۔ اور مجھے مقدر سے ڈر لگتا ہے کہیں ایسا ہی نہ ہو کہ جو دوسروں کے نصیب سے ہمیں مل رہا ہے وہ بھی چن جائے۔
نہ بابا مجھے بہت ڈر لگتا ہے کہ میرے منہ سے ایسا کچھ نہ نکلے۔ بس اللہ ہمیں دے رہا ہے اور ہم ایمانداری سے حقداروں تک پہنچانے کی کوش کر رہے ہیں۔
ورنہ ہماری کیا اوقات کہ ایک پرندے کو بھی کھلا سکیں۔
۔
ماشا اللہ
۔
اور ایک ایسی خاتون بھی گزری ہیں جنہوں نے اپنے کیڑے کی بدولت اپنا ہنستا بستاامیر کبیر گھرانہ اجاڑ دیا۔
شوہر کو سب سے دور کیا۔ سب سے جھگڑے کئے مگر آخر میں گھر میں ایسے فاقے پڑے کہ خود تو رخصت ہوگئیں مگرشوہر اور اولاد کو برباد کرکے فاقوں کا شکار کر گئیں۔
۔
اللہ نے اگر آپکو اس قابل بنایا ہے کہ وہ آپکے ہاتھ سے کسی کا رزق پہنچا رہا ہے تو اسے اپنی خوش قسمتی سمجھیں۔ نہ کہ اس پر تکبر کریں۔
اپنے گھر کی عورتوں کو سمجھائیں۔
سمجھانا آپکا کام ہے۔ ورنہ یہ کم عقل بیویاںسب برباد کر کے آخر میں آنسو بہا کر آپ پر ہی الزام لگائیں گی کہ اگر میں غلط کر رہی تھی تو تم نے مجھے روکا کیوں نہیں؟
ابھی بھی وقت ہے سب کچھ ٹھیک کر لیں۔
۔
#بنت_پاکستان

No comments:

Post a Comment

WE WANT FREEDOM - kashmir voice

WE WANT FREEDOM - kashmir voice azaadi azadi