عام طور پر مسلم ہے کہ بحث و تقریر اور مناظرہ و مکالمہ میں
بڑی لیاقت درکار ہے، لیکن خواجہ عطار فرماتے ہیں !
باز باید فہم و عقل بے قیاستا شود خاموش یک حکمت شناس
یعنی بولنے کے لئے جس قدر عقل درکار ہے، چپ رہنے کے لئے اس سے بھی زیادہ عقل درکار ہے۔
کیونکہ جب انسان تحقیق اور تجربہ کے تمام مراحل طے کر چکتا ہے۔اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ
جو کچھ اب تک اس نے جانا یہ سب ہیچ تھا ۔ چنانچہ سقراط سے جب لوگوں نے پوچھا کہ آپ کو اتنے دنوں کی
غور و فکر کے بعد کیا معلوم ہوا اس نے کہا یہ معلوم ہوا کہ کچھ نہیں معلوم ہوااور جب یہ مرتبہ حاصل ہوگا تو
خواہ مخواہ انسان چُپ ہو جائے گا اس لئے چپ ہونے کے لئے بولنے سے زیادہ عقل اور تجربہ درکار ہے۔
بڑی لیاقت درکار ہے، لیکن خواجہ عطار فرماتے ہیں !
باز باید فہم و عقل بے قیاستا شود خاموش یک حکمت شناس
یعنی بولنے کے لئے جس قدر عقل درکار ہے، چپ رہنے کے لئے اس سے بھی زیادہ عقل درکار ہے۔
کیونکہ جب انسان تحقیق اور تجربہ کے تمام مراحل طے کر چکتا ہے۔اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ
جو کچھ اب تک اس نے جانا یہ سب ہیچ تھا ۔ چنانچہ سقراط سے جب لوگوں نے پوچھا کہ آپ کو اتنے دنوں کی
غور و فکر کے بعد کیا معلوم ہوا اس نے کہا یہ معلوم ہوا کہ کچھ نہیں معلوم ہوااور جب یہ مرتبہ حاصل ہوگا تو
خواہ مخواہ انسان چُپ ہو جائے گا اس لئے چپ ہونے کے لئے بولنے سے زیادہ عقل اور تجربہ درکار ہے۔
#khamoshi

No comments:
Post a Comment