ایک شخص حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ بن امام علی مرتضیٰ رضی ﷲ تعلی عنہم کے پاس آیا اور کہنے لگا میری بیٹی جوان ہوگئی ہے مجھے مشورہ دیں کہ اس کی شادی کس شخص سے کروں؟
انہوں نے جواب دیا ، اس کی شادی اس شخص سے کرو جوا ﷲ سے ڈرتا ہو، متقی ہو۔ اگر اس سے محبت کریگا تو اسکی عزت کریگا لیکن اگر اس سے محبت نہ کرے اور اس کو اچھا نہ جانے تو بھی اس پر ظلم نہ کرےگا۔
پھر ان سے کہا گیا فلاں فلاں آدمی نے ہم سے بچی کا رشتہ پوچھا ہے۔
حضرت سیدنا امام حسن رضی ﷲ عنہ نے پوچھا: کیا وہ عقل اور دین میں ٹھیک ٹھاک ہے؟
انہوں نے کہا: ہاں!
فرمایا: پھر اس کے ساتھ اس بچی کی شادی کردو.
یہ مشورہ دراصل اس فرمان نبوی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عین مطابق تھا جس میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی ایسا شخص تم سے رشتہ کا طلب گار بن کر آئے جس کے دین و اخلاق سے تم مطمئن ہو تو رشتہ دےدو۔ بلاوجہ تاخیر معاشرے میں بڑے فتنوں اور عظیم فساد کا باعث بنے گا.
(📗سلسلہ احادیث الصیحیحہ 1022)

No comments:
Post a Comment