ISI new chief General Asim Pak Army

نئے اسپائی ماسٹر 

مار خوروں کے نئے اسپائی ماسٹر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو دنیا کی نمبر ون خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی کمان سنبھالنے پر نیک خواہشات اور تمناوں کے ساتھ مبارکباد پیش کرتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں کہ ان کے دور میں آئی ایس آئی کامیابیوں کی بلندیوں کو چھوئے اور پاکستان کے اندر چھپے سانپوں اور سرحدوں پر پھنکارنے والے امریکہ، انڈیا، اسرائیل، افغانستان، جماعت الاحرار اور داعش جیسے اژدھوں کے پھن کچل ڈالے۔

جنرل عاصم صاحب اس سے ملٹری انٹیلی جینس (MI) کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی اپنے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل انٹرسروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) پاکستان ۔ یہ دنیا کی نظر میں ایک سپر پاور ملک کے صدر یا سب سے اہم منصب سے بھی بڑا منصب ہے کیونکہ آئی ایس آئی دنیا کی نمبر ون ایجنسی ہے جس کے ایجنٹ کرۂ ارض کے ہر کونے کونے میں موجود ہیں، یہ بات شاید عام آدمی کے لیے کوئی خاص معنی رکھنے والی نہیں ہوگی ۔

لیکن وہ قوتیں جو دنیا کو اپنی مٹھی میں بند کرکے اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتی ہیں خاص طور پر پاکستان کو تہس نہس کرنے کے خواب دیکھتی رہتی ہیں، ان کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ پاکستان کے ڈی جی آئی ایس آئی کا منصب کتنا اہم ہےاورجب ان لوگوں کو یہ پتا چلا ہوگا کہ آج آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل اپنے عہدے سے رخصت ہو رہے ہیں تو ان قوتوں نے کتنا بے صبری سے نئیں آنے والے ڈائریکٹر کا انتظار کیا ہوگا یہ بھی وہ اچھی طرح جانتے ہیں ۔

رہی بات بھارت کی تو اب ایسے ملک کے لیے کیا کہا جائے جو فروٹ کو بھی دھشت گرد سمجھ کر باقاعدہ طور پر ان کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کرلیتا ہے ، جب بھارت کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے فوری طور پر اپنے تمام ٹی وی چینلز پر یہ خبر چلائی اور اپنی اپنی ویب سائٹس پر لگادیں ۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ایک بہترین پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہیں اس لیے ان کی تقرری چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر اعظم پاکستان کی مشاورت سے طے کی گئی ، لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ہمیشہ مشکل محاذ پر کمانڈر بنا کر بھیجا گیا ان میں خیبر پختون خواہ کے وہ علاقے بھی شامل ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک دھشت گردوں کی آماجگاہیں اور آنے جانے کے راستے تھے آپ نے اپنی سرپرستی میں تمام علاقوں سے دھشت گردوں کا صفایا کروا دیا ۔

ڈی جی آئی ایس آئی کو کبھی بھی کیمرا پر آنے کا شوق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کسی پریس کانفرنس وغیرہ سے دلچسپی رکھتے ہیں، رخصت ہونے والے ڈی جی آئی ایس آئی نے بہت بڑے جارحانہ آپریشن کیے لیکن کسی قسم کی تعریف یا اپنے آپ کو دکھانے کے لیے کوئی خبر نہیں لگوائی گئی ، میڈیا کو اپنے ذرائع و ابلاغ سے کچھ خبروں کا ادراک ہوا بھی ہو تو وہ ایسے طریقے سے لگائی جاتی رہیں کہ جیسے کوئی روزہ مرہ کی روایتی خبر ہو ۔

جب جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی بطور چیف آف آرمی اسٹاف ہوئی تھی تو ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ٹی وی چینلز پر بہت بڑے ماہر دفاعی تجزیہ نگار، سابق بھارتی افواج کے سربراہان اور افسران سے دس دن تک تبصرے اور تجزیے کرواتے رہے، اب بھی جب ڈی جی آئی ایس آئی کی تعییناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس سے بڑھ کر ماحول نظر آرہا ہے ۔

اتھرا سپاہی

NIKAAH AUR MUHABBAT

ﺟﻮ ﻟﮍﮐﺎ ﮐﺴﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺛﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﺴﻢ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ۔۔۔۔
ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺡ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﭗ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﺍﻭﺭ ﺳﭽﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ۔۔ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﮍﮐﺎ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ نہ ﮐﺮﮮ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﭽﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﮭﻮﭨﺎ ﮨﮯ ﮈﺭﺍﻣﮧ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺲ۔۔ﺟﻮ ﺍﭖ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﮨﻤﺸﮧ ﺍﭘﮑﻮ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ۔۔ !!
ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﭼﺎﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﺎﺷﻖ
ﺑﺎﺕ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ !!
😰 

تحفہ لڑکیو ں کے لیے
اس لیے کے کسی 1 بہن نے بھی اپنی عزت کی حفا ظت کر لی تو کم سے کم 1 تو نہ لٹے گی کسی درندے کے ہاتھوں ۔۔۔۔۔

Kapra Indan Dramas and OUr Houses


#کیڑا 

بھارتی ڈرامے دیکھ دیکھ کر پاکستان کی عورتوں میں ایک خاص قسم کا کیڑا پیدا ہو چکا ہے اور وہ کیڑا ہے "میرا پریوار" کا کیڑا
پہلے تین تین خاندان اکٹھے رہتے تھے اگر ایک بڑا بھائی سب سے زیادہ کمانے والا ہوتا تو وہ باقی بھائیوں کے بچوں کی سکول کی فیس دیتا، گھر کے بل جمع کرا دیتا یا سودا سلف منگوا دیتا تھا۔ وہی بڑا بھائی عیدین پر کپڑے کے تھان خرید لاتا جس سے سب گھر والوں کے ایک جیسے کپڑے بنتے تھے۔
اور اس بڑے بھائی کا روزگار ترقی ہی کرتا رہتا تھا۔ اس آدمی کی بیوی بھی ماں بن کر سارے گھر کو سنبھالتی اور سب کی ضروریات کا خیال رکھتی تھی۔ یعنی جتنا بڑا دل بیوی کا اتنا ہی بڑا دل شوہر کا۔ تو انکا رزق بھی کھل جاتا تھا۔ خاندان میں عزت بھی ہوتی تھی
پھر ایسا ہوا کہ ایک اور کیڑا پیدا ہوا وہ کیڑا تھا بہو کی تلاش میں خاندان، شرافت، دینداری چھوڑ کر شکل، فیشن، مال اور تعلیم پر مرنے والا کیڑا
ایسی ایسی کم ذات حسینائیں بہو بنا بنا کر جب گھروں میں گھسائی گئیں تو انہوں نے رنگ دکھانے شروع کئے۔
پھر "میرا پریوار" والا کیڑا بچوں کے ساتھ ہی پیدا ہونے لگا۔ 
ارے تم نے ٹھیکا اٹھایا ہوا ہے انکے بچوں کا۔
میرے بچوں کا حق تم انہیں نہیں کھلا سکتے۔
ارے تمہاری بہنیں کب تک تمھاری کمائی پر عیش کریں گی۔
میرے بچوں کا حق تم انہیں نہیں کھلا سکتے۔
ارے ہم نے کوئی یتیم خانہ نہیں کھول رکھا۔ 
میرے بچوں کا حق تم انہیں نہیں کھلا سکتے۔
اور جب شوہر صاحب نے بیوی کی باتیں ماننا شروع کیں تو گھر سے رزق کا ہی صفایا ہوگیا۔
آپ نے غور کیا ہی ہوگا ایسے لوگوں پر۔
ہمارے خاندان میں ایک گھر ایسا ہے جس میں سات بھائی رہتے ہیں۔ بہت بڑا گھر ہے اور سات خاندان ہیں۔ تین بہنیں شادی شدہ ہیں اور دوسرے شہروں میں رہتی ہیں۔
اتنے بڑے خاندان کو صرف ایک بڑے بھائی نے سنبھال رکھا ہے۔
وہ شخص گھر نہیں آ سکتا۔ سارا وقت زمینداری کھیتوں کی دیکھ بھال، لوگوں کے مسائل سننا ، حل کرنا۔
خاندان کے سارے کے سارے معاملات اور سب کے بچوں اور بیویوں کی ضروریات کا خیال رکھنا, کھانا پکانے سے لیکر تعلیم اور سبکو اتفاق سے رکھنا اسکی بیوی کرتی ہے۔
وہ زیادہ عمر کی نہیں نہ ہی کوئی بہت حسین عورت ہے نہ ہی زیادہ تعلیم یافتہ۔ مشقت اور عدل اسکے چہرے سے ٹپکتے ہیں مگر اسکے زندہ دل قہقہے اور ہنستا مسکراتا چہرہ اس سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اسکی ایک بات مجھے بہت پسند ہے۔
سنیں 
اور اپنی بیویوں کو بھی سنائیں
جب اللہ نے میرے شوہر کو پسند فرمایا ہے کہ اسکے ہاتھ سے گھر کے تمام افراد کو رزق ملے تو میں کیوں بیچ میں آوٗں؟
میں اگر کہوں کے میرے بچوں کا حق دوسے بھائیوں کے بچوں کو کھلا رہا ہے تو کیا خبر میرے بچوں کے نصیب میں اتنا رزق ہو ہی نہ؟
کیا خبر ہمیں ان بھائیوں کے بچوں کے نصیب سے ہی مل رہا ہو؟
کیا خبر کس خاندان میں کس کا بچہ ہے کہ جس کے مقدر سے ہمیں بھی نصیب ہو رہا ہے؟
اگر میں اپنا گھر اپنے بچے کرنے لگ گئی تو مجھے وہی ملے گا جو میرے مقدر میں ہے۔ اور مجھے مقدر سے ڈر لگتا ہے کہیں ایسا ہی نہ ہو کہ جو دوسروں کے نصیب سے ہمیں مل رہا ہے وہ بھی چن جائے۔
نہ بابا مجھے بہت ڈر لگتا ہے کہ میرے منہ سے ایسا کچھ نہ نکلے۔ بس اللہ ہمیں دے رہا ہے اور ہم ایمانداری سے حقداروں تک پہنچانے کی کوش کر رہے ہیں۔
ورنہ ہماری کیا اوقات کہ ایک پرندے کو بھی کھلا سکیں۔
۔
ماشا اللہ
۔
اور ایک ایسی خاتون بھی گزری ہیں جنہوں نے اپنے کیڑے کی بدولت اپنا ہنستا بستاامیر کبیر گھرانہ اجاڑ دیا۔
شوہر کو سب سے دور کیا۔ سب سے جھگڑے کئے مگر آخر میں گھر میں ایسے فاقے پڑے کہ خود تو رخصت ہوگئیں مگرشوہر اور اولاد کو برباد کرکے فاقوں کا شکار کر گئیں۔
۔
اللہ نے اگر آپکو اس قابل بنایا ہے کہ وہ آپکے ہاتھ سے کسی کا رزق پہنچا رہا ہے تو اسے اپنی خوش قسمتی سمجھیں۔ نہ کہ اس پر تکبر کریں۔
اپنے گھر کی عورتوں کو سمجھائیں۔
سمجھانا آپکا کام ہے۔ ورنہ یہ کم عقل بیویاںسب برباد کر کے آخر میں آنسو بہا کر آپ پر ہی الزام لگائیں گی کہ اگر میں غلط کر رہی تھی تو تم نے مجھے روکا کیوں نہیں؟
ابھی بھی وقت ہے سب کچھ ٹھیک کر لیں۔
۔
#بنت_پاکستان

Khan Property Advisers Gujranwala Aalam Khan

Khan Property Advisers  Gujranwala Aalam Khan

DELLUS CAFE Gujranwala Pakistan




MY WORK #ASIFART



#Mywork

DELLUS CAFE
DELLUS CAFE  Gujranwala Pakistan 

SHAADI RISHTA AUR IMAM HASAN BIN ALI

ایک شخص حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ بن امام علی مرتضیٰ رضی ﷲ تعلی عنہم کے پاس آیا اور کہنے لگا میری بیٹی جوان ہوگئی ہے مجھے مشورہ دیں کہ اس کی شادی کس شخص سے کروں؟



انہوں نے جواب دیا ، اس کی شادی اس شخص سے کرو جوا ﷲ سے ڈرتا ہو، متقی ہو۔ اگر اس سے محبت کریگا تو اسکی عزت کریگا لیکن اگر اس سے محبت نہ کرے اور اس کو اچھا نہ جانے تو بھی اس پر ظلم نہ کرےگا۔

پھر ان سے کہا گیا فلاں فلاں آدمی نے ہم سے بچی کا رشتہ پوچھا ہے۔

حضرت سیدنا امام حسن رضی ﷲ عنہ نے پوچھا: کیا وہ عقل اور دین میں ٹھیک ٹھاک ہے؟



انہوں نے کہا: ہاں!



فرمایا: پھر اس کے ساتھ اس بچی کی شادی کردو.



یہ مشورہ دراصل اس فرمان نبوی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عین مطابق تھا جس میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

جب کوئی ایسا شخص تم سے رشتہ کا طلب گار بن کر آئے جس کے دین و اخلاق سے تم مطمئن ہو تو رشتہ دےدو۔ بلاوجہ تاخیر معاشرے میں بڑے فتنوں اور عظیم فساد کا باعث بنے گا.



(📗سلسلہ احادیث الصیحیحہ 1022)

🏍 ﻏﺮﯾﺐ ﮨﯿﻠﻤﭧ نہیں ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﮯ 🏍

ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﺟﺐ ﺍﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﮩﺎﺯ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻠﯿﮧ ﺑﮕﺎﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ
ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭﻭپے ﮐﺎ ﺟﻨﮕﯽ ﺟﮩﺎﺯ ﺍﯾﮏ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﮐﮯ ﭨﮑﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﻟﻮﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﮐﮫ ﮐﮯ ﮈﮬﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻮﺍ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﮨﮯ
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﻗﺘﻞ ﻧﮩﯿﮟ کئے
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺳﻄﺎً ﺩﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ ﻣﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺌﯽ ﺣﺎﺩﺛﺎﺕ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ہیں

ﺗﯿﺰ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﻣﻮﭨﺮﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﺜﻼ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ 60 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺳﺎﮐﻦ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺳﭙﯿﮉ ﺳﺎﭨﮫ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺭﮐﺎﻭﭦ،ﺣﺎﺩﺛﮯ,ﺭﺯﺳﭩﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﯾﮏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﺎﭨﮫ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﻓﯽ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﻮﭨﺮﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﮌﺗﯽ ﮨﮯ ﻓﻼﺋﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﮭﺎﺭیﺣﺼﮧ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
*ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺑﮭﺎﺭﺍ ﺣﺼﮧ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﮯ ﺍﺩﮬﺮ ﮨﮉﯼ ﺑﮭﯽ ﻭﺯﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮍﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻭﺯﻧﯽ ﻟﮩﺬﺍ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﺁﮔﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﺮ ﭨﮑﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﭼﻮﭦ لگتی ہے
نتیجہ=ﺑﮯ ﮨﻮشی ﯾﺎ فوری موت
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﻮﮮ ﻓﯿﺼﺪ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ
ﮨﯿﮉ ﺍﻧﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻮﻣﺎ ﻏﻠﻂ ﺍﻧﺠﯿﮑﺸﻦ ﮨﯿﮉ ﺍﻧﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﭨﺮﯾﻔﮏ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﯿﺲ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﻮ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ لئے ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﻠﻤﭧ ﻏﺮﯾﺐ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﮯ ﻭﮦ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺮﻣﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻭﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟؟

ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ کہاوت ہے ﻣﻦ ﺣﺮﺍﻡ ﺯﺍﺩﮦ ﺗﮯ ﺣُﺠﺘﺎﮞ ﮈﮬﯿﺮ

ﻗﻮﻡ ﺩﻭ ﮨﺰﺍﺭ ﺟﺮﻣﺎﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ ﮨﺎﮞ ﻣﮕﺮ ﮐﻔﻦ ﺩﻓﻦ ﺗﻨﺒﻮ ﻗﻨﺎﺗﯿﮟ ،ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺳﺎﺕ ﺟﻤﻌﺮﺍﺗﯿﮟ ﭼﺎﻟﯿﺴﻮﺍﮞ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﺟﻨﮑﮯ ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺩﺱ ﺑﺎﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺍﯾﺴﮯ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﯾﻒ ﺳﻮﻟﮧ ﮨﻮ

ﺟﺎﻥ ﺑﮩﺖ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﮯ،ﮨﯿﻠﻤﭧ ﻭﺍﺣﺪ ﺳﯿﻔﭩﯽ ﮨﮯ
ﺳﺮ ﺑﭻ ﺟﺎﺋﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮨﮉﯾﺎﮞ ﺟﮍ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ
ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﮨﯿﻠﻤﭧ ﺗﻮﮌﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ

WE WANT FREEDOM - kashmir voice

WE WANT FREEDOM - kashmir voice azaadi azadi