امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کا وقتِ نزع جب آیا تو کیا ہوا
ایمان کی حفاظت کا ایک ذریعہ 
نیک اعمال پر استقامت کے ساتھ ساتھ ایمان کی حفاظت کا ایک ذریعہ کسی ’’مرشدِکامل ‘‘ سے بیعت ہوجانا بھی ہے ۔امام فخر الدین رازی علیہ رحمۃ اللہ الھادی کی نزْع کا جب وقت قریب آیا تو شیطان آیا اور ان کاایمان سلْب کرنے کی بھر پور کوشش کی(کیونکہ شیطان اس وقت ہر مسلمان کا ایمان برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے)۔ اُس نے پوچھا: اے رازی! تم نے ساری عمرْمناظروں میں گزاری ذرا یہ تو بتاؤ تمہارے پاس خدا کے ایک ہونے پر کیا دلیل ہے؟آپ نے ایک دلیل دی۔ وہ خبیث چونکہ مُعَلِّمُ المَلَکوت رہ چکا تھا۔ اس نے وہ دلیل اپنے علمِ باطل کے زور ے( اپنے زُعْمِ فاسد میں ) توڑدی۔ آ پ نے دوسری دلیل دی، اس نے وہ بھی( اپنے  زُعْمِ فاسد میں ) توڑ دی ، یہاں تک کہ آپ نے 360دلیلیں قائم
کیں اور اس نے وہ سب( اپنے  زُعْمِ فاسد میں ) توڑدیں۔اب آپ سخت پریشان ہوئے۔ شیطان نے کہا،اب بول خدا کو کیسے مانتا ہے ؟ آپ کے پیر حضرت نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے میلوں دور کسی مقام پر وُضو فرماتے ہوئے چشمِ باطن سے یہ مناظرہ ملاحَظہ فرمارہے تھے ۔آپ نے وہیں سے آواز دی: رازی! کہہ کیوں نہیں دیتے کہ میں نے خدا کو بغیر دلیل کے ایک مانا۔ امام رازی نے یہ کہا اور کلمۂ طیبہ پڑھ کر جان! جان آفرین کے سِپُرد کر دی۔ (الملفوظ حصہ چہارم صفحہ ۳۸۹)
اللہ عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

No comments:

Post a Comment

WE WANT FREEDOM - kashmir voice

WE WANT FREEDOM - kashmir voice azaadi azadi