سوال : یہ کیسے پتہ چلے کہ کوئی واقعہ اللّہ کی طرف سے آزمائش ہے یا سزا ہے ؟
جواب : اب آپ معیار سے نکلنے کی کوشش کریں ۔ ہمیشہ یہی کہنا کہ سب اللّہ نے کیا ہے ۔ جب انسان مکان بنا چکا ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ میں نے پیسوں سے بنایا ہے ۔ مگر یہ تو اللّہ احسان کر رہا ہے ، اس لئے اس کا شکر ادا کرو ۔
آزمائش ہوتی ہے غیروں کے لئے اور اپنوں کے ساتھ تو مہربانی ہوتی ہے ۔ اگر اللّہ سے آپ کا تعلق ہے تو پھر آزمائش نہیں ہے ۔ راز کی بات یہی ہے ۔۔۔
جو غیر ہے وہ صبر کرتا ہے اور جو اپنے ہیں وہ شکر ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شکر ہے کہ تُو نے مجھے اپنے لئے چن لیا اور شکر ہے کہ تُو نے اس امانت کے لئے مجھے منتخب کیا ۔
اگر آپکو شہادتِ کربلا کا واقعہ سمجھ آجائے تو پھر آپ کہیں گے کہ شکر ہے ایسا واقعہ ہو گیا ۔ جس کو اتنی بڑی دولت مل گئی اس کے لئے ہی تو شکر ہے ۔ اس لئے اللّہ کا شکر ادا کرو کیونکہ آزمائش نہیں ہے ۔
اس نے چمگادڑوں کو بنایا اور آپ کو انسان بنا کر بھیج دیا۔ اس پر بڑا شکر ادا کرنا چاہئے کیونکہ اللّہ کیا نہیں بنا سکتا ، وہ کیا نہیں کر سکتا تھا ۔
کتنی مہربانیوں میں اس نے پہل کی ، اس لئے آپ شکریہ میں پہل کریں ۔
یہ آزمائش کی بات نہیں بلکہ احسان کی بات ہے ۔ احسان ماننے والے کے لئے کوئی آزمائش نہیں ہے ، احسان ماننے والے کے لئے ہر راستہ خوشگوار ہے ۔ اس کا احسان مانو اور اس سے محبت کا اظہار کرو ۔
حضرت واصف علی واصف رح

No comments:
Post a Comment