مولانا روم حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت کے فیض سے قال سے حال میں ایسے داخل ہوئے کہ سلطان العارفین ہوئے اور دنیا کو صاحبِ حال کرنے کے لیے مثنوی لکھی۔ اس مثنوی کا آغاز وہ اس شعر سے کرتے ہیں:
۔
بشنواز نے چوں حکایت می کند
وز جدائیہا شکایت می کند
بانسری سے سن کیا حکایت بیان کرتی ہے
اور جدائیوں کی کیا شکایت کرتی ہے
کز نیستان تا مرا ببریدہ اند
از نفیریم مرد و زن نالیدہ اند
جب سے مجھے بانس سے کاٹا گیا
میرے اس رونے سے مرد و عورت سب روتے ہیں
سینہ خواہم شرحہ شرحہ از فراق
تا بگویم شرح درد اشتیاق
میں جدائی سے چھید چھید سینہ چاہتی ہوں
تاکہ اپنے شوق و عشق کی تفصیل بیان کر سکوں
ہر کسے کو دور ماند از اصل خویش
باز جوید روزگار وصل خویش
جو اپنوں سے دور ہو جاتا ہے
اسے واپس اپنوں میں جانے کی دھن رہتی ہے
من بہر جمیعتے نالاں شدم
جفت خوشحالان وبد حالاں شدم
میں ہر محفل و مجلس میں روئی
اچھوں اور بروں کے ساتھ رہی
ہر کسے از ظن خود شد یار من
وز درون من نہ جُست اسرار من
ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق میرا دوست رہا
لیکن میرے اندر کے بھیدوں کو جاننے کی کوشش نہ کی
سر من از نالہ من دور نیست
لیک چشم و گوش را آں نور نیست
میرا بھید میرے رونے سے الگ تو نہیں
لیکن آنکھ اور کان اسے پا نہیں سکتے
-
اے طالبِ حق! بانسری کی آواز سن وہ کیا کہانی بیان کرتی ہے اور کن کن جدائیوں کی شکایت کرتی ہے۔ اس کو کتنی جدائیاں لاحق ہیں جس پر روتی اور آہ و زاری کرتی ہے۔ ’’نے‘‘ سے مراد روحِ انسانی ہے۔ روح ایک وقت میں عالمِ ملکوت/ عالمِ ارواح میں رہتی تھی۔ جہاں اس روح کو کئی قربتیں حاصل تھیں۔ اللہ کی معرفت میں ہمہ وقت مشغول و مستغرق تھی لیکن وہاں سے جدا کرکے اسے بدن انسانی میں ڈال دیا گیا اور اس جدائی کی وجہ سے اِسے کئی جدائیاں ہوگئیں۔
۔
عالم ملکوت کی جدائی (فرشتوں اور روحوں کی سنگت)
عالم جبروت، عالم ملکوت کے اوپر پڑوس میں ہے، اس عالم میں صفات الہٰیہ کے تجلیات اترتی تھیں۔ اس عالم کی بھی جدائی اسے سہنا پڑی۔
عالم جبروت کے ساتھ عالم لاہوت ہے۔ جہاں ذات الہٰیہ کے انوار اترتے ہیں، اس عالم کی جدائی بھی درپیش تھی۔
اب روح کو وہ ساری جدائیاں یاد آتی ہیں۔
جب بندہ کسی ایک ماحول میں کچھ دن گزار کر جائے تو جانے کے بعد اُسے اس ماحول کے شب و روز یاد آتے ہیں، اسی طرح روح نے بھی چونکہ ایک خاص عرصہ عالم ارواح/ ملکوت میں گزارا لہذا اس بدن میں قید ہوجانے کے بعد اُسے وہ لمحات یاد آتے ہیں جب وہ معرفت و قربت کی رہتی تھی۔ پس ان لمحات کو وہ یاد کرکے روتی ہے

No comments:
Post a Comment