Hazrat Baba Fareed GAnj Shakar

Hazrat Baba Fareed GAnj Shakar
بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ بدخشاں تشریف لے گئے۔یہاں آپ کی ملاقات مشہور بزرگ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ سے ہوئی۔ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ مشہور صوفی حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اﷲ علیہ کے مرید تھے۔ حضرت شیخ عبدالواحدرحمتہ اﷲ علیہ عشق خداوندی سے اس قدر سرشار تھے کہ اہل دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ اسی بے نیازی اور قلندری کے سبب آپ شہری حدود سے نکل کر ایک غار میں مقیم ہوگئے تھے۔ جب کوئی دنیا پرست حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اپنے کسی کام کے لئے آپ سے دعا کی درخواست کرتا تو حضرت شیخ نہایت تلخ لہجے میں فرماتے۔
’’تم کب تک اس مردار (دنیا) کے پیچھے بھاگتے رہوگے؟ کیا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اﷲ کی خوشنودی حاصل کرے؟ اور اس بھڑکتی ہوئی آگ سے بچنے کی کوشش کرے۔ جس کا ایندھن انسان ہیں۔ تم میرے پاس اس لئے کیوں نہیں آتے کہ میں تمہارے حق میں اپنے اﷲ سے عافیت طلب کروں… تم میرے پاس دنیا مانگنے کے لئے آتے ہو تو غور سے سن لو کہ دنیا سے میرا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ میں نے اس سیاہ کار اور کریہہ المنظر عورت کو طلاق دے دی ہے۔ جائو کسی اور کے دروازے پر جائو‘ تمہیں دینے کے لئے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جانتے تھے کہ حضرت شیخ عبدالواحدرحمتہ اﷲ علیہ ملاقاتیوں سے بیزار رہتے ہیں پھر بھی ایک خدا رسیدہ بزرگ کا شوق دیدار آپ کو اس غار تک لے گیا جہاں سناٹے اور ویرانی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ جیسے ہی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ڈرتے ڈرتے غار کے دروازے میں قدم رکھا۔ ایک تیزآواز گونجی۔
’’اے جاں سوختۂ عشق! ادھر آکہ تجھ پہ میرے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اندازے سے پہچان لیا کہ یہ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز تھی۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ غار کے اندر پہنچے تو آپ نے ایک نحیف و نزار شخص کو دیکھا جو بظاہر ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آرہا تھا اور جس کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ آگے بڑھتے رہے مگر جب غار کے درمیان میں پہنچے تو حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز دوبارہ سنائی دی۔ آپ پرنہایت پرجلال لہجے میں فرمارہے تھے۔
’’فرید! میرے قریب ہرگز نہ آنا کہ جل کر خاک ہوجائے گا… اور مجھ سے دور بھی نہ رہنا کہ تجھ پر جادو کا اثر ہوجائے گا‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر اس مرد جاں سوختہ کی اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ بڑھتے ہوئے قدم رک گئے‘‘ وہیں خاک پر بیٹھ جاکہ تو میرا مہمان ہے اور میری میزبانی یہ ہے کہ میں اپنے مہمانوں کو خاک کے سوا کچھ نہیں دیتا… اور میرے پاس خاک کے سوا ہے بھی کیا کہ میں خود ہی خاک ہوچکا ہوں‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس مرد قلندر کی خدمت میں سلام پیش کیا اور بڑی خوش دلی کے ساتھ فرش خاک پربیٹھ گئے۔ غار میں سناٹا چھا گیا۔ کچھ دیر بعد بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا۔
’’شیخؑ عشق خداوندی کیا ہے؟‘‘
’’مجھے دیکھ کہ میں عشق کی ادنیٰ ترین مثال ہوں‘‘ حضرت شیخ عبدالواحد نے جوابا فرمایا ’’میرے جسم پر نظر کر کہ یہ آتش فراق میں بوند بوند پگھل رہا ہے۔ بس کچھ دنوں کی بات ہے کہ یہ پگھلتے پگھلتے خاک میں جذب ہوجائے گا۔ میرے پیروں کی جانب دیکھ کہ میں ایک ٹانگ سے محروم ہوں۔ مجھے دنیا کو طلاق دیئے ہوئے پون صدی گزر چکی ہے۔ میں ستر سال سے اس گوشہ تنہائی میں پڑا ہوں اور میں نے تمام اسباب ظاہری کی نفی کردی ہے۔ بہت دن پہلے اس غار میں ایک عورت آئی تھی۔ اس کے حسن فریب کار کو دیکھ کر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی غار سے باہر چلا جائوں۔ مگر جیسے ہی قدم اٹھایا‘ ایک غیبی آواز نے میرے پیروں میں ہمیشہ کے لئے زنجیر ڈال دی‘‘
کہنے والا کہہ رہا تھا۔ ’’کہاں …

No comments:

Post a Comment

WE WANT FREEDOM - kashmir voice

WE WANT FREEDOM - kashmir voice azaadi azadi