HAZRAT BILAL HABSHI

*سیدنا بلال حبشی (رضی اللہ عنہ) کو مدینہ منورہ کا بلاوا*
امام ابن عساکر وغیرہ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اور امام سبکی نے شفاء اور علامہ سمہودی نے وفا اور امام ابن حجر نے جوہر میں اس کی سند کو جید کہا کہ جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام میں سکونت اختیار فرمائی خواب میں حضور پر نور سید المحبوبین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے شرفیاب ہوئے کہ ارشاد فرماتے ہیں:
ما هذه الجفوة يا بلال؟ أما آن لك أن تزورني يا بلال؟
اے بلال! یہ کیا جفا ہے، اے بلال! کیا ابھی تجھے وہ وقت نہ آیا کہ میری زیارت کو حاضر ہو۔
بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ غمگین و ترساں و ہراساں بیدار ہوئے اور فوراً قصدِ مزار پرانوار جانب مدینہ شد الرحال فرمایا، جب شرف حضور پایا قبر انور کے حضور رونا اور منہ اس خاک پر ملنا شروع کیا، دونوں صاحبزادے حضرات حسین و حسن رضی اللہ علٰی جد ہما وعلیہما وبارک وسلم تشریف لائے، بلال رضی اللہ عنہ انھیں گلے لگا کر پیار کرنے لگے، شہزادوں نے فرمایا ہم تمہاری اذان کے مشتاق ہیں یہ سقفِ مسجد انور پر جہاں زمانہ اقدس میں اذان دیتے تھے گئے، جس وقت اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تمام مدینہ شریف میں لرزہ پڑگیا، جب اشہد ان لا الٰہ الا اللہ کہا مدینہ طیبہ کا لرزہ دوبالا ہوا، جب اس لفظ پر پہنچے کہ اشھدان محمد رسول اللہ، لوگوں میں غل پڑگیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مزار پر انوار سے باہر تشریف لے آئے، انتقالِ حضور محبوب ذی الجلال صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی دن مدینہ منورہ کے مرد و زن میں وہ رونا نہ پڑا تھا جو اس دن ہوا۔

No comments:

Post a Comment

WE WANT FREEDOM - kashmir voice

WE WANT FREEDOM - kashmir voice azaadi azadi