Pakeezah Dhaaga by Khawaja NIzam ud Din Auliya Sarkar

پاکیزہ دامن کا دھاگہ۔۔!!

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رحمہ اللہ) تحریر فرماتے ہیں :

کہ ایک مرتبہ خُشک سالی ہوئی، 
لوگوں نے بہت دعائیں کیں مگر بارش نہ ہوئی۔
پھر حضرت شیخ نظام الدین (رحمة اللہ علیہ) نے اپنی والدہ محترمہ کے پاکیزہ دامن کا ایک دھاگہ اپنے ہاتھ میں لے کر بارگاہ الہی میں عرض کی

 " یااللہ ! یہ اس خاتون کے دامن کا دھاگہ ہے جس پر کبھی بھی کسی نامحرم کی نظر نہ پڑی ، اس کے طفیل باران رحمت عطا فرما" 

ابھی شیخ صاحب نے یہ جملہ کہا ہی تھا کہ بارش برسنے لگی 

(اخبار الاخیار)
__________

جو انسان اللہ تعالی کی اطاعت میں زندگی بسر کرنے کو ، نفس و شیطان کی اطاعت پر فوقیت دے تو اللہ تعالی اسے برکات کا مجموعہ بنادیتا ہے۔
خواجہ نظام الدین اولیاء کی والدہ محترمہ چونکہ شرم و حیاء کا پیکر اور اللہ تعالی کی اطاعت میں ہمہ وقت مصروف رہا کرتی تھی لھذا اللہ تعالی نے انہیں بھی مخلوقِ خدا کیلئے باعث رحمت بنادیا تھا۔۔

افسوس!
کا مقام ہے کہ جس چیز میں اللہ اور اس کے حبیبﷺ کی ناراضگی ہو مسلمان بہنیں اُسے اپنے لئے لازم وضروری تٙصور کرنا شروع کردیں ۔

کاش!
فی زمانہ مادی اٙشیاء میں قلبی سکون ڈھونڈنے والی اور مغرب سے متاثر شدہ  مسلمان بہنیں،
ان کے بجائے اللہ تعالی کی عبادت اور اس کے ذکر میں اطمینان قلبی تلاش کریں اور گناہوں کی کثرت اور بے حیائی کے ذریعے خود کو بارگاہ الہی میں بے وقعت بنانے کے بجائے، اطاعت و حیاءداری کی ساتھ مزکورہ خاتون کی مثل برکات کا مجموعہ بننے پر توجہ دیں 

اللہ تعالی ہمیں خوشی و غمی ہر حال میں حیا کا دامن تھامے رہنے پر استقامت عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ  

✍🏻 محمد احمد عفی عنہ

No comments:

Post a Comment

WE WANT FREEDOM - kashmir voice

WE WANT FREEDOM - kashmir voice azaadi azadi