Sadaat e Karaam aur Imam Ahmad Raza Khan

عظمتِ ساداتِ کرام اور امام احمد رضا خان

عرض:اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت  کے ساداتِ کرام کی تعظیم وتوقیر کرنے  کا کوئی واقعہ ارشاد فرما دیجیے ۔

اِرشاد:میرے آقا اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کو ساداتِ کرام سے بے حد عقیدت  ومحبت تھی اور یہ عقیدت و محبت صرف زبانی کلامی نہ تھی بلکہ آپ دل کی گہرائیوں سے ساداتِ کرام سے محبت فرماتے اور اگر کبھی لاشعوری میں کوئی تقصیر واقع ہو جاتی تو ایسے انوکھے طریقے سے اس کا اِزالہ فرماتےکہ دیکھنے سننے والے  وَرْطَۂ حیرت میں ڈوب جاتے  چنانچہ اِس ضمن میں ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے:مدینۃُ المرشد بریلی شریف کے کسی محلہ میں میرے آقا اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن مَدْعُوتھے۔ اِرادت مندوں نے اپنے یہاں لانے کے لئے پالکی کا اِہتمام کیا۔ چُنانچِہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سُوار ہو گئے اور چار مزدور پالکی کو اپنے کندھوں پر اُٹھا کر چل دیئے ۔ ابھی تھوڑی ہی دُور گئے تھے کہ یکایک امامِ اہلسنّتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے پالکی میں سے آواز دی: ”پالکی روک دو۔“پالکی رُک گئی۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فوراً باہر تشریف لائے اور بھرّائی ہوئی آواز میں مزدورو ں سے فرمایا: سچ سچ بتائیں آپ میں سیِّد زادہ کون ہے؟کیونکہ میرا ذَوقِ ایمان سرورِ دوجہاںصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خُوشبو محسوس کر رہا ہے۔ ایک مزدور نے آگے بڑھ کر عرض کی : حُضُور! مَیں سیِّد ہوں۔ ابھی اس کی بات مکمّل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ عالمِ اِسلام کے مقتدر پیشوا اور اپنے وقت کے عظیم مجدِّد اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے اپنا عِمامہ شریف اس سیِّد زادے کے قدموں میں رکھ دیا۔ امامِ اہلسنّتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کی آنکھوں سے ٹَپ ٹَپ آنسو گر رہے ہیں اور ہاتھ جوڑ کر اِلتِجا کر رہے ہیں ،معزز شہزادے ! میری گستاخی مُعاف کر دیجئے،بے خیالی میں مجھ سے بھول ہوگئی ، ہائے غضب ہو گیا ! جن کی نعلِ پاک میرے سر کا تاجِ عزّت ہے، اُن کے کاندھے پر میں نے سُواری کی،اگر بروزِقیامت تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھ لیا کہ احمد رَضا ! کیا میرے فرزند کا دوشِ ناز نین اس لئے تھا کہ وہ تیر ی سُواری کا بوجھ اُٹھائے تو میں کیا جواب دو ں گا ! اُس وقت میدانِ مَحشرمیں میرے ناموسِ عشق کی کتنی زبردست رُسوائی ہوگی۔کئی بار زَبان سے مُعاف کر دینے کا اِقرار کروا لینے کے بعد امامِ اہلسنّتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے آخِری اِلتجائے شوق پیش کی،محترم شہزادے ! اس لاشُعوری میں ہونے والی خطا کا کفّارہ جبھی اَدا ہوگا کہ اب آپ پالکی میں سُوار ہوں گے اور میں پالکی کو کاندھا دوں گا۔ اِس اِلتجاپر لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بعض کی تو چیخیں بھی بُلند ہوگئیں۔ہزار اِنکار کے بعد آخرِکا ر مزدو ر شہزادے کو پالکی میں سُوار ہونا ہی پڑا ۔ یہ منظر کس قدر دِل سوز ہے ، اہلسنّت کا جلیلُ الْقَدْر امام مزدوروں میں شامل ہو کر اپنی خداداد عِلمیّت اور عالمگیر شُہرت کا سارا اِعزاز خوشنودیٔ محبوب کی خاطر ایک گُمنام مزدور شہزادے کے قدموں پر نثار کر رہا ہے۔([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت  نے لاشُعوری میں ہوجانے والی خطا کی نہ صرف معافی چاہی بلکہ تعظیمِ سادات کی خاطر اپنے مقام ومرتبے کی پرواہ کیے بغیر کہاروں میں شامل ہوکر اس سیِّد زادے کی پالکی بھی اپنے کندھوں  پر اُٹھائی۔سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! جن کی اُلفتِ آلِ رسُول کی یہ حالت ہو اُن کے عشقِ رسُول کا کیا عالَم ہوگا ؟

No comments:

Post a Comment

WE WANT FREEDOM - kashmir voice

WE WANT FREEDOM - kashmir voice azaadi azadi